#کالم

(قسط:40) پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

shaid bukhari

شاہد بخاری

ڈاکٹر اقبال ادب کے سچے اور س±چے طالب علم ہیں وہ صرف سجی سجائی محافل میں شعر اور مضامین پڑھنے پر اکتفا نہیں کرسکتے تھے۔ان کاخیال تھا کہ ادب کے پرستاروں کو ادب کے لئے کوئی عملی کام بھی کرنا چاہیے۔ انیسویں صدی کی کوئی ساتویں دہائی میں سرگودہا میں انجمن ترقی اردو کے علاوہ کوئی فعال ادبی تنظیم نہیں تھی۔ایک دو تنظیمیں تھیں جو کبھی کبھار کوئی اجلاس منعقد کر لیتی تھیں۔ ڈاکٹر اقبال اپنی سروس کے دوران بھی گورنمنٹ کالج سرگودہا کے ادبی سرکل کے انچارج تھے اور اکثر و بیشتر علمی ادبی محافل کا اہتمام کر تے تھے۔ شاعری کا سفر انہوں نے قدرے تاخیر سے شروع کیااور وہ مشاعروں میں جانے لگے۔ انہوں نے 31. اکتوبرکو،ایک بڑا کامیاب مشاعرہ،اپنی رہائش گاہ736/Aسیٹلائٹ سرگودہامیں منعقد کرایا، اس کی صدارت ڈاکٹر وزیر آغا نے کی، مرتضیٰ برلاس مہمانِ خصوصی تھے۔ علاوہ ازیں سرگودہا کے تمام بڑے شعرائ اس میں شریک تھے۔ اخگر سرحدی، سیف زبیری، حسن عباس زیدی، اخلاق عاطف، غلام جیلانی اصغر، فیاض تحسین، ڈاکٹر خورشید رضوی،پروفیسر خلیل بدایونی،انورگوئندی، حمیدہ شاہین،و دیگر بہت سے شعرائ شریک ھوئے۔ کمپیئرنگ کے فرائض صوفی فقیر محمد نے سرا نجام دیئے تھے۔ بعدازاں وہ اپنے گھر پر باقاعدہ مشاعرے کرانے لگے پھر حسن اتفاق سے انہیں نوجوان ادب کے شائق اور متوالے میسر آگئے جن میں سید نسیم الغنی، زاہد منیر عامر، ریاض ملک، حبیب خان، جاوید اقبال، اشرف شاہین، شاہد اسلام دانش، نائلہ رفیع جیسے پر جوش احباب کی دستیابی سے ستمبر1984 میں بزم کا باقاعدہ اجلاس ہوا۔اس اجلاس میں ایم ڈی شاد بھی شامل تھے اور کئی نوواردانِ ادب! پھر کیا کہنے ہر مہینے محافل منعقد ہونے لگیں۔بہت بڑی تعداد اس میں حصہ لیتی رہی اور یہ اجلاس کوئی چار پانچ گھنٹے جار ی رہتا،تنقید کے لئے مضامین پیش کئے جاتے اور علمی ادبی موضوعات پر مباحث منعقد ہوتے، یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ بزمِ فکروخیال کے2022ئ تک 194۔ اجلاس منعقد ہو چکے تھے۔ شروع کے15 سالوں کے حوالے سے سید نسیم الغنی لکھتے ہیں:”بزمِ فکروخیال ایک علمی ادبی تنظیم ہے جس کا آغاز پروفیسر ڈاکٹر شیخ اقبال نے شاعر، ادیب اور علم دوست ساتھیوں سے مل کر کیا۔بزمِ فکروخیال کا آفتاب جہاں تاب سرگودہا کے ادبی افق پرستمبر 1984ئ میں طلوع ہوا،جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنی ضیائ سے کئی نئے ستاروں کو روشن کیا جو آج بھی جہانِ ادب پر دمک رہے ہیں۔ بزمِ فکروخیال نے ڈاکٹر اقبال کی رہنمائی میں اپنی تاسیس سے لے کر 2022ئ تک 57ادبی نشستیں منعقد کی تھیں جبکہ تنظیمی اجلاس اور قیام لاھور کے اجلاس اس سے الگ ہیں۔بزمِ فکروخیال نے علم و ادب اور فن کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور سرگودہا کی واحد ادبی تنظیم ہے جو عرصہ 41سال سے علم و ادب اور فن کی ترویج کے لئے مسلسل کوشاں ہے بزمِ فکروخیال کے ہر اجلاس میں ادبی تخلیقات تنقید کے لئے پیش کی جاتی ہیں علمی موضوعات پر (حالات حاضرہ کے حوالے سے) مجلسِ مذاکرہ منعقد ہوتی ہے اور تمام شرکائ ہر قسم کے تعصب سے بالا تر ہو کر کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ ہر اجلاس کے آخر میں محفلِ مشاعرہ منعقد کی جاتی ہے۔ بزمِ فکروخیال نے ان علمی ادبی نشستوں کے ساتھ ساتھ موسیقی ڈرامہ اور مصوری کی نمائش کے پروگرام بھی ترتیب دیئے۔ بزمِ فکروخیال کے مختلف اجلاسوں میں بہت سی نامور شخصیات بھی شرکت کرتی رہی ہیں جن میں سید ضمیر جعفری، پروفیسر پریشان خٹک، ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر انور سدید، عرش صدیقی،ڈاکٹر ناصر بلوچ، جاوید قریشی(کمشنر) فیاض تحسین( مجسٹریٹ) پروفیسر ڈاکٹر صابر آفاقی، غلام جیلانی اصغر، مولانا اخگر سرحدی، میاں شان احمد، عبدالرشید اشک، ونگ کمانڈر این اے صوفی، ونگ کمانڈر جیمز لیوک، لیفٹیننٹ کرنل مسعود الحق، ایڈیشنل ایس پی میاں محمد آصف، ایڈیشنل کمشنر سید مسعود احمد شاہ، ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنرحسن رضا، ملک اقبال ایڈووکیٹ، سید مسعود زاہدی ایڈووکیٹ، ریذیڈنٹ ڈائریکٹر آرٹس کونسل شکیل احمد، بد رالزماں، چودھری عبدالحمید (ایم این اے)، ایم ایس ڈویڑن ڈاکٹر اشفاق احمد حفیظ۔“جن موضوعات پر مجلسِ مذاکرہ منعقد ہوئیں ان میں چند ایک کے عنوانات تھے: غمِ عشق گر نہ ہوتا غمِ روز گار ہوتا۔۔۔۔فنونِ لطیفہ اور ہماری زندگی ۔۔۔۔خودی کا سر نہاں ۔۔۔۔یہ لوگ کوئی کام بھی کرنے نہیں دیتے۔۔۔شک یقین کی بنیاد ہے۔۔۔محبت اور ادبِ عالیہ۔۔۔میں نے پاکستان کو کیا دیا؟….عورتیں مرد کے مقابلے میں زیادہ خوش قسمت ہیں ….تقدیر کے پابند نباتات و جمادات….شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا….شاعری جزو است از پیغمبری….پیار نہیں ہے س±ر سے جس کو وہ مورکھ انسان نہیں ….کتابیں اور ان کا مستقبل….حرف کی حرمت اور ہم….شاعری اور قافیہ پیمائی….ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں ….وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے….بے شک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان بنا دیا….اقدار اضافی ہیں اصل اہمیت نتائج کو حاصل ہے….شوق ہر رنگ رقیبِ سرو ساماں نکلا….محبت صرف پہلی نظر میں ہوتی ہے….درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا….پاکستانیت:ایک حقیقت یا افسانہ….دلِ ہر قطرہ ہے سازِ اناالبحر….سرگودہا اپنا حق مانگتا ہے….میر غالب اور اقبال۔ بڑا شاعر کون؟….جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ….آں را کہ عقل بیش غم روز گار بیش….امتِ مسلمہ کا زوال….تعلیمی اداروں میں نصاب کا مسئلہ….کیا مشاعرے ادب و زباں کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں؟….ہم فطرت سے برسرِ پیکار ہیں ….کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں ….اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے ….ادبی جرائد….اے وطن کے سجیلے جوانوں ….حیات و کائنات کے بارے میں ایسے سوالات جن کا جواب نہیں مل پایے۔….بزمِ فکروخیال کی”وزٹرز بک“ سے انتخاب….پریشان خٹک(چیئر مین اکادمی ادبیات پاکستان)آج مجھے سرگودہا میں بزمِ فکروخیال کی تقریب میں وہ سب کچھ ملا جو بڑے بڑے شہروں کی ادبی محافل میں ملتا ہے(9.3.1987)بدرالزماں (ریذیڈنٹ ڈائریکٹر سرگودہا آرٹس کونسل)حقیقت تو یہ ہے کہ یہ انجمن سرگودہا جیسے شہر میں فنونِ لطیفہ کی ترویج اور ترقی کے لئے محافل برپا کرتی ہے۔(18.9.1987)سید مسعود زاہدی (ایڈووکیٹ)….بزمِ فکروخیال میں آج میں پہلی مرتبہ حاضر ہوا مجھے یہ دیکھ کر انتہائی خوشی حاصل ہوئی کہ ڈاکٹر شیخ اقبال نے اتنا اچھا ادارہ قائم کر کے نوجوانوں کو ادبی راہ دکھانے کا اہتمام کیا۔(15.2.1988)……..پروفیسر ڈاکٹر صابر آفاقی(صدر شعبہ اردو، آزاد کشمیر یونیورسٹی)….مجھے بزمِ فکروخیال کے اجلاس میں شرکت کرکے بے حد مسرت ہوئی، میں پروفیسر شیخ اقبال کے عزم و حوصلہ، ان کی نوجوان ٹیم کی لگن اور بزم سے دلچسپی رکھنے والے اہلِ قلم کی توجہ سے متاثر ہوا ہوں۔(4.8.1988)سید مسعود شاہ (ایڈیشنل کمشنر جنرل ریونیو سرگودہا)بزمِ فکروخیال کے چالیسویں اجلاس میں شرکت کر کے مجھے بے حد خوشی ہوئی یہ بزم بے شک ادبی اور شعری خدمات سر انجام دے رہی ہے۔(9.9.88)عرش صدیقی (شاعر، نقاد اور افسانہ نگار)بزمِ فکروخیال کی تقریب میں شرکت سے بہت خوشی ہوئی اس تقریب کے حوالے سے بہت سے جواں سال شعراء کا کلام سننے کا موقع ملا۔(01-12-1989)فیاض تحسین (اسسٹنٹ کمشنر سرگودہا)بزمِ فکروخیال کا یہ اجلاس پروفیسر اقبال صاحب کی عظمت کی مثال ہے(12.01.1989)….پروفیسر غلام جیلانی اصغر….مجھے آج بزمِ فکروخیال کی شعری نشست میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا شعراءکی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ نوجوانوں میں ذوقِ شعری بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔(12.91.1989)….ڈاکٹر وزیر آغا….پروفیسر اقبال جس تقریب کے روحِ رواں ہوں وہ کیوں نہ اتنی دلکش ہو۔(18.3.1990)۔۔جاوید قریشی (چیف سیکرٹر ی پنجاب)۔۔ا س بزم میں شرکت کا پہلا اتفاق ہے، جذبہ اور معیار دونوں قابلِ تعریف ہیں نوجوان شعرائ کی حوصلہ افزائی کا لائقِ تحسین تجزیہ ہے(18.93.1990)۔۔ڈاکٹر انور سدید۔۔میں شیخ محمد اقبال صاحب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے شمعِ شعرو سخن روشن کر رکھی ہے اور وہ سرگودہا کا نام سر بلند کر رہے ہیں (18.03.1990)۔۔سید ضمیر جعفری۔۔بزمِ فکروخیال ذہن و خیال میں جو چاندنی بکھیر رہی ہے، ہماری قومی زندگی کو زرخیر بنانے میں ایک عہد آفریں کارہائے سرانجام دے رہی ہے۔(14.12.1990)("یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی”جس کی تلخیص بہ اجازت چٹھی AOL بتاریخ27مئی 2025 قسط وارشائع کر رھے ہیں)

(قسط:40) پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

پاکستان کی منزل کس طرف ؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے