#کالم

مودی کا مکروہ چہرہ بے نقاب

mirza rizwan

مرزا رضوان

تحریکِ آزادی کشمیر کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، تہاڑ جیل کے سیاہ روز و شب اور ایک غیر متزلزل حریت رہنما کے تاریخی فیصلے کا ذکر زریں حروف میں ہوگا۔ کشمیریوں کے معتبر اور بے باک رہنما یاسین ملک کا بھارتی عدالتی نظام پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے تمام مقدمات کی مزید پیروی سے صاف انکار، دراصل بھارتی جمہوریت اور اس کے ‘منصفانہ’ عدالتی ڈھونگ کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ سری نگر کی عدالت میں جمع کرایا گیا 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں، بلکہ بھارتی ریاست کی ناانصافیوں، سیاسی انتقام اور عدالتی فاشزم کے خلاف ایک تاریخی فردِ جرم ہے۔36 سال پرانے من گھڑت مقدمات کی آڑ میں ایک زندہ ضمیر کو دار پر چڑھانے کی سازش کو یاسین ملک نے جس خندہ پیشانی اور جرات سے بے نقاب کیا ہے، اس نے سچائی کے لیے لڑنے والوں کے حوصلوں کو نئی جلا بخشی ہے۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ سزائے موت کو تحریکِ آزادی کے لیے قبول کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے عائد کردہ جھوٹے الزامات کو تسلیم کر لیا ہے۔ سرلا بھٹ قتل کیس ہو یا کوئی اور من گھڑت کہانی، حقیقت یہ ہے کہ واقعہ کے وقت شدید زخمی اور بستر پر پڑے حریت رہنما کو شاملِ تفتیش کر کے بھارت نے خود اپنے قانونی نظام کے کھوکھلے پن کو دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔بھارتی حکمرانوں کے منافقانہ رویے کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ جن حریت رہنماو¿ں کو سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں اجیت دوول، برجیش مشرا اور آر کے مشرا جیسے اعلیٰ حکام پاک بھارت تعلقات کی بحالی اور امن کی استواری کے لیے استعمال کرتے رہے، آج اسی رابطہ کاری کو غداری اور دہشت گردی کا نام دے کر ان کے خلاف بطورِ ثبوت پیش کیا جا رہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت کے پاس اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور 2019 و 2024 کے عام انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے کشمیری رہنماو¿ں کو نشانہ بنانے کے علاوہ کوئی بیانیہ نہیں تھا۔ یاسین ملک کا نام اور تصویر استعمال کر کے بھارت کے سیاسی ایوانوں نے ہمیشہ اپنی انتخابی دکان چمکائی ہے۔اس سارے معاملے کا سب سے دردناک اور انسانی پہلو وہ فیصلہ ہے جو یاسین ملک نے اپنی اہلیہ مشعال ملک اور اپنی معصوم بیٹی کے بارے میں کیا۔ طویل قید، بیڑیاں اور سزائے موت کے خدشات کے سائے تلے زندگی گزارتے ہوئے انہوں نے اپنی اہلیہ کو اپنی رفاقت سے آزاد کرنے کا جو اعلان کیا، وہ ان کے ایثار اور قربانی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ ایک باپ کا اپنی بیٹی کو دادی کی دیکھ بھال کی ہدایت کرنا اور اپنے تمام معاملے کو رب العزت کے سپرد کر دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ظالم کے تمام حربے اس انسان کے سامنے ناکام ہو چکے ہیں جس نے اپنی آخری امید بھی خلقِ خدا کے بجائے خالقِ کائنات سے جوڑ لی ہے۔بھارتی ریاست شاید یہ بھول چکی ہے کہ جس تحریک کا ایندھن شہدائ کا خون اور حریت پسندوں کی بے مثال قربانیاں ہوں، اسے جیل کی اونچی دیواروں یا عدالتی فیصلوں سے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ یاسین ملک کو سزائے موت دے کر بھی بھارت آزادی کشمیر کے جذبے کو شکست نہیں دے سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی حقوقِ انسانی کی تنظیمیں محض خاموش تماشائی بننے کے بجائے یاسین ملک سمیت تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کی غیر قانونی حراست کا نوٹس لیں اور بھارت کے اس ناپاک عدالتی ڈرامے کو روکنے کے لیے اپنا عملی کردار ادا کریں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے