(قسط:41) پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن(شاہد بخاری)
موسیقی سے د ل بستگی
اس میں کلام نہیں کہ جب شاعر کے قلب و ذہن میں موسیقیت نہ ہو تو وہ شعر کہہ ہی نہیں سکتا کیونکہ شعر کا تعلق آہنگ سے ہے۔ الفاظ کے زیروبم سے ہے، قافیہ اور ردیف یہی ضرورت پوری کرتے ہیں، نثری نظم میں بھی موسیقیت کا کھوج لگایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ انہیں بہت شروع ہی سے موسیقی سے گہری دلبستگی تھی۔ ابھی وہ نو دس سال کے تھے کہ ماو¿تھ آرگن بجاتے تھے اور انہیں س±روں میں رنگ دکھائی دیتے تھے گو ان کی بینائی ضائع ہو چکی تھی لیکن جانے کیوں س±روں نے رنگوں کا چولا پہن لیا تھا۔ لیکن کچھ یوں ہوا کہ جب نابیناو¿ں کے لئے سکول میں گئے اور موسیقی کے معلم نے انہیں کچھ سنانے کے لئے کہا انہیں معلوم نہیں تھا کہ انہیں تحت اللفظ سنانا ہے یا گا کر۔ وہ تحت اللفظ پڑھنے لگے اور محترم استاد صاحب نے فیصلہ دے دیا کہ ان کے گلے میں موسیقیت نہیں۔ معلوم نہیں کہ ان کے سامنے کون سی مصلحت تھی۔ مگر ڈاکٹر صاحب کے والد کی یہ خواہش تھی کہ وہ موسیقی سیکھیں۔ بہر کیف فیصلہ نہ ہو سکالیکن ان کا ذوق و شوق جاری رہا۔ وہ نغمے اور غزلیں سنتے تھے اور راحت محسوس کرتے تھے اس کا ذکر انہوں نے تفصیل سے اپنی سوانح میں کیا ہے۔ ناقدین متفق ہیں کہ ان کی شاعری میں موسیقیت کا بڑا دخل ہے۔ان کے اشعار میں گیت کی سی کیفیت ہوتی ہے، قاری پڑھتا ہے اور ان میں کھو کر رہ جاتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر صاحب نے موسیقی کے فن کی جانب کوئی توجہ نہیں دی لیکن گورنمنٹ سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے دو مقاصد ملحوظِ نظر رکھے ایک ہومیو پیتھی اور دوسرا موسیقی۔ ہومیو پیتھی کو تو بوجوہ جاری نہ رکھ سکے لیکن موسیقی سے ان کی دلچسپی بڑھنے لگی،اس میں انکے ادارے کے احباب نے بہت کردار ادا کیا جس میں انور علی اور طاہر وسیم کے نام نمایاں ہیں۔ انہیں بہت جلد س±روں کا احساس ہونے لگا وہ اچھی بھلی دھنیں تیار کرنے لگے ان کا یہ شوق ہنوز جاری ہے۔ اور ہارمونیم ہر وقت ان کے ٹیبل پر پڑا رہتا ہے ان کی لکھی ہوئی غزلیں بہت سے فنکاروں نے بڑی عمدگی سے گائی ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے سینٹرل پروڈکشن یونٹ (C.P.U)کراچی سے دو غزلیں تبسم وارثی اور تسنیم کوثر نے ریکارڈ کروائیں۔ علاوہ ازیں ان کی غزلیں فدا حسین، غلام عباس، شکنتلا دیوی، بدرالزماں، کوثر علی اور ارشاد علی نے گائی ہیں۔ ڈاکٹر اقبال کی غزلوں کے دو البم بھی ریلیز ہو چکے ہیں۔براڈکاسٹنگ۔۔۔ڈاکٹر اقبال کوئی باقاعدہ براڈ کاسٹر تونہیں رہے۔ ہاں! ہم انہیں اس میدان میں فری لانسر کہہ سکتے ہیں۔یوں تو ان کی گوناگوں مصروفیات اورصلاحیتوں کے حوالے سے کئی یاد گار ٹی وی انٹرویو ز بھی پیش ہوئے جن میں ایک انٹرویو9۔جنوری 1996 کو طلعت حسین نے پی ٹی وی پر کیا۔ اس طرح 2003 میں پی ٹی وی نے اپنے را ت کے پروگرام میں ان کا تین گھنٹے کا پروگرام کیا۔ علاوہ ازیں کئی مواقع پر پی ٹی وی اور پرائیویٹ چینلز بھی انہیں کاسٹ کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان کا اصل میدان ریڈیو رہا ہے انہوں نے کئی جگہ تحریر کیا ہے کہ وہ ریڈیو کو ایک معلم کا درجہ دیتے ہیں۔ دراصل گزشتہ صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی میں علم و ادب کی دنیا پر ریڈیو کا طوطی بولتا تھا تمام مشاہیر جو بعد میں ٹی وی سے بھی منسلک ہو گئے ریڈیو پر اپنے دل و دماغ کی صلاحیتوں کا بھر پور اظہار کرتے رہے یہ وہ دور تھا جب ریڈیو کے سامعین کی تعداد کا اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتاتھا۔ ڈاکٹر اقبال کہتے ہیں کہ وہ ریڈیو پر پیش کئے جانے والے تمام علمی ادبی پروگرامز باقاعدگی سے سنا کرتے تھے۔ریڈیو نے ان کی شخصیت میں کئی رنگ بھرے اور انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔ چونکہ ڈاکٹر صاحب کا زیادہ تروقت سرگودہا میں گزراہے اس لئے جوں ہی سرگودہا میں ایف ایم ریڈیو قائم ہوا تو ڈاکٹر صاحب کو جب بھی وقت ملا ریڈیو پر پروگرام پیش کرتے رہے ان کی براڈکاسٹنگ کے حوالے سے صلاحیتوں کا تفصیلی ذکر پروفیسر ڈاکٹر خالد اقبال نے کیا ہے جو ایف ایم 39سرگودہاکے آغاز ہی سے اس سے منسلک ہو گئے تھے اور بعد میں بطور اسٹیشن ڈائریکٹر اپنا بھر پور کردار ادا کرتے رہے۔ آج کل بہاو¿الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ سرائیکی سے منسلک ہیں۔ ڈاکٹر شیخ اقبال کی صلاحیتوں کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:”ڈاکٹر صاحب کی اگرچہ بنیادی پہچان شاعری ہے لیکن آپ کے لئے یہ بات باعثِ حیرت و استعجاب ہو گی کہ وہ بہت عمدہ مقرر، ریڈیو کے سامع اور ریڈیو پروگراموں کے بہترین نقاد بھی ہیں اگر یہ کہا جائے کہ ریڈیو ان کا دوسرا جیون ساتھی ہے تو یہ بات بے جا نہ ہو گی۔ ریڈیو کی سماعت کا سلسلہ تو سال ہا سال سے ان کے معمولات زندگی کا حصہ رہاہے۔البتہ ریڈیو سے اظہار کا رشتہ ریڈیو پاکستان سرگودہا کے قیام(2005ئ ) سے شروع ہوتا ہے، اوّل میں نے انہیں ریڈیو پاکستان سرگودہا میں ان کی علمی ادبی شخصی دلچسپیوں کے حوالے سے گفتگو کے لئے دعوت دی تھی اور اسی دن میں نے محسوس کیا ڈاکٹر موصوف، ماہرِ تعلیم، دانشور، شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ریڈیو کے عمدہ Talker بھی ہیں۔ کیونکہ میں نے ان کی گفتگو میں خوبصورت روانی، بات کرنے میں مٹھاس، اندازِ بیاں میں سادگی مگر دلیل کے ساتھ اپنا نقطہئ نظر واضح کرنے جیسی خوبیاں دیکھیں تو میں نے جانا کہ ڈاکٹر صاحب ہمارے ریڈیو کے لئے مختلف مواقع پر اہم قومی دنوں اور شخصیات پر ہونے والی تقاریر کے اچھے ٹاکر ہو سکتے ہیں تو پھرایسا ہی ہوا۔ یومِ پیدائش علامہ محمد اقبال، انسانی حقوق کا عالمی دن، سفید چھڑی کا دن، عالمی یومِ خواندگی، یومِ پاکستان، قصہ مختصر انہیں جب بھی ریڈیو پاکستان سرگودہا کے پروگراموں میں دعوت دی گئی انہوں نے بخوشی قبول کی اور ریڈیو کے توسط سے اپنا ایک حلقہئ سماعت پیدا کیا۔ڈاکٹر اقبال گورنمنٹ کالج سرگودہا سے انگریزی ادب کے استاد کی حیثیت سے طویل عرصہ تک منسلک رہے اسی وجہ سے ان کے شاگرد ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ انہی شاگردوں اور ان کی اولادوں کی جانب سے تقاضا ہوا کہ ڈاکٹر موصوف، ریڈیو پروگرام کے ذریعے انگریزی بول چال سکھائیں تو ان کا یہ پروگرام بہت خوب رہا۔ پروگرام کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد تک سامعین ان سے ٹیلی فون کالز کے ذریعے اپنی انگریزی درست کراتے رہے۔۔.. ڈاکٹرصاحب ہمارے لئے بہت ہی مدد گار ثابت ہوئے ہیں۔ ہمیں کم سے کم وقت میں ٹیلی فونک رابطے سے میسر آئے، ہم نے موضوع گفتگو بتایا اور پروفیسر صاحب نہایت کم وقت میں ہوا کے دوش پر سامعین سے مخاطب ہو جاتے ہیں اور گفتگو بھی موضوع کے عین مطابق نپی تلی، دلیل کے ساتھ، کچھ بھی موضوع سے ہٹ کر نہیں، الفاظ کے اتار چڑھاو¿سے واقفیت، گفتگو میں شیرینی، لہجے میں کھنک تلفظ کا خیال رکھنا، گویا ایک عمدہ براڈ کاسٹر کی سی خوبیاں یکجاہیں، ان کی گفتگو سن کرآج ہزاروں سامعین اپنے اندر طمانیت محسوس کرتے ہیں“ڈاکٹر اقبال آج بھی ریڈیو کے ایک بہت اچھے سامع ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ بی بی سی اور وائس آف امریکہ کے تمام پروگرام بڑی توجہ سے سنتے ہیں لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اب ریڈیو وہ عظیم ادارہ نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔ان کے خیال میں حکومتِ پاکستان کو اس ادارے کی ترویج کے لئے بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے۔ وہ اپنے ایک غیر مطبوعہ مضمون ”ایک دلدار اور غمگسار ہمسفر“ میں کچھ یوں لکھتے ہیں ”میری زندگی میں بھی مجھے بہت سے ہم سفر ملے،جان سے پیارے،آنکھوں کے تارے اور دل کے سہارے لیکن میں جس ہم سفر کا ذکر کرنے چلا ہوں وہ ہر جائی ثابت نہیں ہوا،دکھ سکھ میں میرے ساتھ رہا، میرے آنسو پونچھے،مجھے تسلیاں دیں، مجھے نگر نگر کی سیر کرائی، علم کی دولت سے نوازا، میری تنہائیوں کا ساتھی بنا اور مجھے کبھی بے یارو مدد گار نہیں چھوڑا۔ جی ذرا بوجھئیے تو سہی، یہ ہم سفر کون ہو سکتا ہے؟ جی ہاں یہ ہم سفر ہے ”ریڈیو“ڈاکٹر اقبال سرگودہا میں قائم ایف ایم 96 اور سرگودہا یونیورسٹی کے ریڈیو ایف ایم 98.2سے بھی بہت سے پروگرامز پیش کرتے رہے ہیں۔("یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی”جس کی تلخیص بہ اجازت چٹھی AOL بتاریخ27مئی 2025 قسط وارشائع کر رھے ہیں)





