چراغ گلیوں میں ہی نہیں، کردار میں بھی جلیں
ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
ستمبر کی آمد اس بار صرف موسم کے بدلنے کی خبر نہیں لائی۔ فضا میں ایک خاص سی خوشبو، دلوں میں عقیدت کی ایک خاص کیفیت اور زبانوں پر درود و سلام کی شیرینی بھی محسوس ہوتی ہے۔ ربیع الاول کی بابرکت ساعتیں ہیں۔ گلیاں سج رہی ہیں، بازار روشن ہیں، سبز پرچم لہرا رہے ہیں، گھروں میں محافلِ میلاد منعقد ہو رہی ہیں اور عاشقانِ رسول ﷺ اپنے اپنے انداز میں آقائے دو جہاں، رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔ کہیں نعتوں کی صدائیں ہیں، کہیں درود و سلام کی محفلیں اور کہیں ضرورت مندوں میں کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے۔ یہ سب مناظر دل کو سکون دیتے ہیں، مگر اسی روشنی، اسی عقیدت اور اسی محبت کے درمیان ایک سوال بار بار ذہن کے دروازے پر دستک دیتا ہے: جن کے نام پر ہم اپنے گھروں، گلیوں اور شہروں کو روشن کرتے ہیں، کیا ان کی تعلیمات کی روشنی ہمارے کردار میں بھی دکھائی دیتی ہے؟محبتِ رسول ﷺ مسلمان کے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ یہ محبت صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک راستہ ہے۔ اگر محبت صرف زبان تک محدود رہے اور کردار تک نہ پہنچے تو اس کی تاثیر ادھوری رہ جاتی ہے۔ ہم میلاد کی محفل میں گھنٹوں عقیدت سے بیٹھ سکتے ہیں، درود و سلام پڑھ سکتے ہیں، اپنے گھروں کو خوبصورت روشنیوں سے سجا سکتے ہیں، لیکن اگر محفل سے اٹھنے کے بعد ہمارے لہجے میں تلخی، معاملات میں بددیانتی، دل میں کینہ اور رویے میں تکبر باقی رہے تو ہمیں اپنے آپ سے یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ نے ہماری زندگی میں کیا تبدیلی پیدا کی؟رسولِ اکرم ﷺ اس دنیا میں اس وقت تشریف لائے جب عرب کا معاشرہ ظلم، جہالت، قبائلی تعصب اور طاقت کے غرور میں جکڑا ہوا تھا۔ کمزور کی آواز سننے والا کوئی نہ تھا۔ عورت کو بنیادی انسانی حقوق تک حاصل نہ تھے۔ غلامی ایک معمول تھی۔ قبائلی دشمنیاں نسل در نسل چلتی تھیں اور معمولی باتوں پر خون کے دریا بہا دیے جاتے تھے۔ طاقتور کا فیصلہ ہی قانون سمجھا جاتا تھا۔ایسے معاشرے میں ایک آواز اٹھی جس نے کہا کہ انسان محترم ہے۔ عدل طاقت سے بڑا ہے، معافی انتقام سے بہتر ہے، علم جہالت پر غالب آنا چاہیے، یتیم کا مال امانت ہے، پڑوسی کے حقوق ہیں، عورت عزت اور حقوق رکھتی ہے، غلام بھی انسان ہے اور کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر محض رنگ، نسل یا زبان کی بنیاد پر برتری حاصل نہیں۔یہ محض مذہبی انقلاب نہیں تھا، یہ انسانی کردار کا انقلاب تھا۔ذرا آج اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیے۔ چودہ صدیاں گزر چکی ہیں۔ انسان چاند سے آگے کی دنیاو¿ں کو تلاش کر رہا ہے۔ ایک چھوٹے سے موبائل فون میں پوری دنیا سمٹ آئی ہے۔ ہزاروں میل دور بیٹھے انسان کو ہم ایک لمحے میں دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت ہماری زندگیوں میں داخل ہو چکی ہے۔ طب، سائنس، مواصلات اور ٹیکنالوجی نے حیرت انگیز ترقی کر لی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا انسان کے اندر کا انسان بھی اسی رفتار سے ترقی کر سکاہمارے پاس رابطے کے بے شمار ذرائع ہیں مگر تعلق کمزور ہو رہے ہیں۔ ہمارے فون میں سینکڑوں رابطے محفوظ ہیں مگر بعض اوقات دل کی بات کہنے کے لیے ایک انسان بھی میسر نہیں ہوتا۔ ہزاروں میل دور بیٹھے شخص کی تصویر ہمیں لمحوں میں مل جاتی ہے مگر ایک ہی گھر میں رہنے والے ماں باپ، بہن بھائی اور اولاد ایک دوسرے کی تنہائی سے بے خبر رہتے ہیں۔سوشل میڈیا نے اظہار کی آزادی دی، مگر اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا احساس شاید اتنی تیزی سے پیدا نہیں ہوا۔ ایک غیر مصدقہ خبر، ایک الزام، ایک تصویر یا چند الفاظ کسی کی برسوں کی عزت کو چند منٹ میں مجروح کر سکتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ موبائل کی سکرین کے دوسری طرف بھی ایک انسان ہے، اس کا دل ہے خاندان ہے اور عزتِ نفس ہے۔ربیع الاول ہمیں یہی یاد دلانے آتا ہے کہ رسولِ رحمت ﷺ سے محبت کا سب سے معتبر ثبوت ہمارا کردار ہے۔تصور کیجیے اگر ہمارے معاشرے میں صرف چند بنیادی اصول سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے مطابق عملی زندگی کا حصہ بن جائیں تو کتنی بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ اگر تاجر ملاوٹ چھوڑ دے اور ناپ تول پورا کرے سرکاری افسر کسی غریب کی فائل رشوت یا سفارش کے بغیر آگے بڑھا دے استاد اپنے طالب علم کو محض رول نمبر نہیں بلکہ ایک مستقبل سمجھے، ڈاکٹر مریض کی بے بسی کو کمائی کا موقع نہیں بلکہ خدمت کی ذمہ داری جانے، صحافی خبر کو سنسنی نہیں امانت سمجھے، وکیل انصاف کو مقدم رکھے اور صاحبِ اقتدار اپنی کرسی کو اختیار کے بجائے جواب دہی سمجھے تو شاید ہمیں معاشرے کی اصلاح کے لیے ہزاروں تقریروں کی ضرورت نہ رہے۔کردار کی ایک خاموش مثال بعض اوقات سینکڑوں خطبوں سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔اس ستمبر ہمارے سامنے ایک اور حقیقت بھی کھڑی ہے۔ ہمارا وطن معاشی اور سماجی مشکلات کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات کے خطرات سے بھی دوچار ہے۔ شدید بارشیں، سیلاب، اچانک آنے والے پانی کے ریلے اور موسموں کی بڑھتی ہوئی شدت ہمیں بار بار یہ احساس دلاتی ہے کہ فطرت کے ساتھ انسان کا غیر ذمہ دارانہ رویہ آخرکار خود انسان ہی کو نقصان پہنچاتا ہے۔جب کسی غریب کا کچا گھر پانی میں بہتا ہے تو صرف اینٹیں اور مٹی نہیں بہتے، کسی خاندان کے خواب بہہ جاتے ہیں۔ جب کسان کی تیار فصل سیلاب کی نذر ہوتی ہے تو صرف کھیت تباہ نہیں ہوتا اس کے بچوں کی فیس، گھر کا راشن اور اگلی فصل کی امید بھی پانی میں ڈوب جاتی ہے۔ جب کسی ماں کی آنکھوں کے سامنے اس کا گھر اجڑتا ہے تو ٹیلی وڑن پر دکھائی دینے والا چند سیکنڈ کا منظر اس عورت کے لیے پوری زندگی کا سانحہ ہوتا ہے۔ایسے مواقع پر امداد پہنچانا ہمارا انسانی اور قومی فرض ہے، لیکن ہمیں صرف آفت آنے کے بعد جاگنے کی عادت بھی بدلنی ہوگی۔ قدرتی آبی گزرگاہوں پر تجاوزات، درختوں کی بے دریغ کٹائی، ناقص نکاسی آب، بے ہنگم تعمیرات اور شہروں کو کنکریٹ کے جنگلوں میں بدل دینا آخر کب تک نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟اسلام ہمیں زمین پر فساد نہیں بلکہ توازن قائم رکھنے کا درس دیتا ہے۔ پانی ضائع نہ کرنا، صفائی کا خیال رکھنا، درخت لگانا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اور مخلوقِ خدا کے ساتھ رحم کا معاملہ کرنا ہماری دینی اور اخلاقی تعلیمات کا حصہ ہے۔ ماحول کی حفاظت کوئی مغربی تصور نہیں، یہ انسان کو دی گئی امانت کی حفاظت بھی ہے۔ستمبر کا مہینہ ہمارے قومی حافظے میں دفاعِ وطن کی یاد بھی تازہ کرتا ہے۔ چھ ستمبر ہمیں ان لوگوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں تک کی پروا نہیں کی۔ قومیں اپنے شہداءکو یاد رکھتی ہیں اور ان کی قربانیوں کا احترام کرتی ہیں، لیکن وطن سے محبت کا حق صرف تقریبات اور نعروں سے ادا نہیں ہوتا۔سرحد پر کھڑا سپاہی وطن کی حفاظت کرتا ہے، مگر دفتر میں بیٹھا ایک دیانت دار ملازم بھی پاکستان کی خدمت کر رہا ہوتا ہے۔ سڑک پر قانون کا احترام کرنے والا شہری، بچوں کو ایمانداری سے پڑھانے والا استاد، مریض کا درد سمجھنے والا ڈاکٹر، قومی خزانے کی حفاظت کرنے والا افسر، ملاوٹ سے انکار کرنے والا دکاندار اور اپنے حصے کا ٹیکس ادا کرنے والا شہری بھی اپنے اپنے محاذ پر وطن کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں۔پاکستان صرف نقشے پر کھینچی ہوئی سرحدوں کا نام نہیں۔ پاکستان ہم سب کے رویوں کا مجموعہ ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان بدلے تو ہمیں یہ سوچ بھی بدلنی ہوگی کہ ہر تبدیلی حکومت نے کرنی ہے۔ حکومتوں اور اداروں کی ذمہ داریاں اپنی جگہ بہت بڑی ہیں اور ان کا احتساب بھی ضروری ہے، لیکن شہری ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ قرار دے دینا بھی درست نہیں۔ ہم سڑک پر کچرا پھینک کر صفائی کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔ بجلی اور پانی ضائع کرکے وسائل کی کمی کا رونا نہیں رو سکتے۔ قانون توڑ کر بہتر نظام کی خواہش بھی ایک تضاد ہے۔اور شاید ہماری سب سے بڑی سرمایہ کاری نئی نسل کی تربیت ہونی چاہیے۔ ہم اپنے بچوں کے لیے بہترین اسکول، بڑی ڈگری، اچھا روزگار اور کامیاب مستقبل چاہتے ہیں۔ یہ خواہش بالکل فطری ہے، مگر اس فہرست میں ایک خواہش سب سے اوپر ہونی چاہیے کہ ہمارا بچہ ایک اچھا انسان بنے۔اسے کامیاب ہونا سکھائیں، مگر کسی کو گرا کر نہیں۔ مقابلہ کرنا سکھائیں، مگر حسد نہیں۔ اپنی رائے دینا سکھائیں، مگر دوسرے کی تضحیک نہیں۔ دولت کمانا سکھائیں مگر حلال و حرام کی تمیز کے ساتھ۔ اعتماد دیں مگر تکبر نہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ احساس دیں کہ کمزور انسان کی عزت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کسی طاقتور کی۔رشتوں کے معاملے میں بھی ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ زندگی بڑی خاموشی سے گزر جاتی ہے۔ کبھی ایک گھر میں ماں باپ، بہن بھائی، بچوں کی آوازیں اور قہقہے ہوتے ہیں۔ پھر وقت اپنا سفر شروع کرتا ہے۔ کوئی تعلیم کے لیے دور چلا جاتا ہے، کوئی روزگار کے لیے، کوئی اپنا گھر بسا لیتا ہے۔ پھر ایک دن ماں کی کرسی خالی ہوتی ہے، کسی دن باپ کا سایہ اٹھ جاتا ہے، کبھی کوئی بہن یا بھائی اچانک یاد بن جاتا ہے۔تب احساس ہوتا ہے کہ زندگی میں سب سے قیمتی چیزیں شاید وہی تھیں جنہیں ہم معمول سمجھتے رہے۔اس لیے جو رشتے آج موجود ہیں انہیں انا کی نذر نہ کریں۔ معمولی اختلاف کو برسوں کی خاموشی نہ بننے دیں۔ فون اٹھا کر بات کر لینا، ناراض بہن یا بھائی کو منا لینا، کسی بزرگ کے پاس کچھ دیر بیٹھ جانا، بیمار کی عیادت کرنا اور کسی تنہا شخص کی بات سن لینا شاید بظاہر بہت چھوٹے کام ہوں، لیکن انسانیت انہی چھوٹے کاموں سے زندہ رہتی ہے۔ربیع الاول کے دن بھی گزر جائیں گے۔ چراغاں اتر جائے گا، سبز جھنڈیاں سمیٹ لی جائیں گی، محافل اختتام پذیر ہو جائیں گی اور زندگی دوبارہ اپنے معمول پر آجائے گی۔ مگر اصل سوال تب بھی ہمارے سامنے ہوگا: اس ربیع الاول نے ہمیں کیا دیا؟اگر ہمارے لہجے میں کچھ نرمی آگئی، اگر ہم نے کسی کا حق واپس کر دیا، اگر ہمارے معاملات میں دیانت بڑھ گئی، اگر ہم نے کسی ناراض رشتے کو منا لیا، کسی ضرورت مند کے لیے آسانی پیدا کردی، کسی کی عزت اچھالنے سے اپنے آپ کو روک لیا، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ دیا یا کسی مایوس انسان کے دل میں امید جگا دی تو شاید یہی ہماری سب سے خوبصورت محفلِ میلاد ہوگی۔آج دنیا کو نفرت کے مقابل محبت، ظلم کے مقابل عدل، انتقام کے مقابل معافی، تکبر کے مقابل عاجزی، بے حسی کے مقابل احساس اور مایوسی کے مقابل امید کی ضرورت ہے۔ یہی وہ روشنی ہے جو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے ہمیں ملتی ہے۔آئیے اس ستمبر اپنے آپ سے ایک وعدہ کریں۔ چراغ ضرور جلائیں، گلیاں ضرور سجائیں، محافل ضرور منعقد کریں اور درود و سلام سے فضاو¿ں کو معطر ضرور کریں، مگر ایک چراغ اپنے اندر بھی روشن کریں۔ دیانت کا چراغ، رحم کا چراغ، برداشت کا چراغ، خدمت کا چراغ، رشتوں کو جوڑنے کا چراغ اور انسانیت کا چراغ۔کیونکہ گلیوں اور عمارتوں پر روشن ہونے والے چراغ چند راتوں بعد بجھ جاتے ہیں، مگر کردار میں روشن ہونے والا چراغ نسلوں تک روشنی بانٹتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کو امن، خوش حالی اور استحکام عطا فرمائے، اسے ہر آفت اور خطرے سے محفوظ رکھے، ہمارے دلوں کو محبت اور رحم سے بھر دے اور ہمیں محبتِ رسول اکرم ﷺکو صرف لفظوں اور تقریبات تک محدود رکھنے کے بجائے سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی اپنے کردار، معاملات اور روزمرہ زندگی میں زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔





