ڈیم بنے گا مگر سوال باقی ہیں!
رفیع صحرائی
پاکستان میں کسی بڑے ڈیم کا ذکر ہو تو بات صرف پانی، بجلی اور معیشت تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے ساتھ سیاست، صوبائی مفادات، مالی مشکلات، حکومتی ترجیحات اور بجلی کے شعبے کے پیچیدہ معاملات بھی جڑ جاتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم کا فائدہ سب کو ہے، نقصان کسی کو نہیں مگر یہ منصوبہ سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔ گزشتہ دنوں دیامر بھاشا ڈیم کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی کہ حکومت نے آئی پی پیز کے دباو¿ میں آکر ڈیم کے 4500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے منصوبے کو ختم کردیا ہے۔ خبر نے یقیناً تشویش پیدا کی، کیونکہ پاکستان جیسے توانائی کے بحران زدہ ملک میں 4500 میگاواٹ سستی پن بجلی کے منصوبے کو ختم کرنے کا تصور ہی پریشان کن ہے۔ تاہم حکومت نے اس خبر کی واضح تردید کردی ہے۔ وزارتِ اقتصادی امور نے 29 اگست کو جاری کردہ وضاحت میں کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے 4500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے حصے کو منسوخ نہیں کیا گیا۔ وزارت کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم بدستور قومی ترجیحی منصوبہ ہے اور اس میں پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ پن بجلی کی پیداوار بھی شامل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی منصوبہ بندی واپڈا اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ جاری ہے۔پاور ڈویڑن نے بھی اس خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیامر بھاشا کا جنریشن کمپوننٹ موجودہ اور مستقبل کے IGCEP یعنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے منصوبوں میں شامل ہے۔ یوں سرکاری موقف بالکل واضح ہے کہ 4500 میگاواٹ کا منصوبہ ختم نہیں کیا گیا۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ خبر آئی کہاں سے؟ رپورٹس کے مطابق ایک مبینہ لیک شدہ سرکاری دستاویز کی بنیاد پر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ حکومت نے اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور موجودہ بجلی کے شعبے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے دیامر بھاشا ڈیم کے پاور کمپوننٹ کو فی الحال آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی رپورٹ میں آئی پی پیز کی لابنگ کو بھی مبینہ فیصلے کی ایک وجہ قرار دیا گیا۔ حکومت نے نہ صرف پاور کمپوننٹ کی منسوخی سے انکار کیا بلکہ آئی پی پیز کو اس معاملے سے جوڑنے کو بھی بے بنیاد قرار دیا ہے۔ صحافتی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ فی الحال یہ نہ کہا جائے کہ حکومت نے 4500 میگاواٹ کا منصوبہ ختم کردیا ہے۔ اس کی تردید ہوچکی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ اگر حکومت کا منصوبہ برقرار ہے تو اس کی تکمیل کا ٹائم فریم کیا ہے، اس کے لیے مالی وسائل کہاں سے آئیں گے اور بجلی پیدا کرنے والے حصے پر عملی کام کب شروع ہوگا؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ ڈیم صرف اعلان سے نہیں بنتے۔ پاکستان میں بڑے آبی منصوبوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ فائلوں، منظوریوں، فنڈنگ، تعمیراتی مراحل اور سیاسی ترجیحات کے درمیان برسوں گزر جاتے ہیں۔ جس سے منصوبہ نہ صرف تاخیر کا شکار ہوتا ہے بلکہ اس کی لاگت میں بھی کئی گ±نا اضافہ ہو جاتا ہے۔ دیامر بھاشا بھی ایک انتہائی بڑا اور مہنگا منصوبہ ہے۔ اس لیے قوم کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ منصوبہ منسوخ نہیں ہوا؛ قوم کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ منصوبہ کب مکمل ہوگا، بجلی کب پیدا کرے گا اور اس کی لاگت کتنی ہوگی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کا بجلی کا شعبہ ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف ملک کو مہنگی بجلی، گردشی قرضے اور بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے کا سامنا ہے، دوسری طرف بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت اور حقیقی طلب کے درمیان بھی مسائل موجود ہیں۔ حکومت نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور نئے آئی پی پیز کے حوالے سے بھی اہم اقدامات کا دعویٰ کیا ہے۔ پاور ڈویڑن کے مطابق نئے آئی پی پیز کا کاروبار ختم ہوچکا ہے اور موجودہ حکومت نے آزاد بجلی مارکیٹ کی جانب پیش رفت کی ہے۔لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں اصل قومی بحث شروع ہونی چاہیے۔ اگر پاکستان کے پاس مستقبل میں اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے تو ہمیں یہ فیصلہ ضرور کرنا ہوگا کہ کون سی بجلی پیدا کی جائے۔ مہنگے درآمدی ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی یا دریاو¿ں کے پانی سے پیدا ہونے والی نسبتاً سستی اور مقامی پن بجلی پیدا کر کے درآمدی ایندھن کی مد میں خرچ ہونے والا قیمتی زرِ مبادلہ بچانا چاہیے؟ جواب ظاہر ہے، مگر پالیسی میں اس جواب کا عکس بھی نظر آنا چاہیے۔دیامر بھاشا ڈیم کی اہمیت صرف 4500 میگاواٹ بجلی تک محدود نہیں۔ یہ ایک کثیرالمقاصد منصوبہ ہے جس کا بنیادی تعلق پانی ذخیرہ کرنے سے بھی ہے۔ پاکستان کو آنے والے برسوں میں پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور خشک سالی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں بڑے آبی ذخائر محض بجلی گھر نہیں بلکہ قومی آبی سلامتی کا بھی حصہ ہیں۔ اسی لیے اس خبر نے خواہ غلط ثابت ہوکر دم توڑ دیا ہو، مگر اس نے ایک نہایت اہم سوال ضرور زندہ کردیا ہے کہ پاکستان اپنی توانائی اور آبی پالیسی کس بنیاد پر بنا رہا ہے؟اگر دیامر بھاشا ڈیم کا پاور کمپوننٹ واقعی منسوخ نہیں ہوا تو اچھی خبر ہے۔ لیکن اب حکومت کو اس کی محض تردید سے آگے بڑھنا چاہیے۔ قوم کے سامنے مکمل روڈ میپ آنا چاہیے کہ 4500 میگاواٹ بجلی کب پیدا ہوگی، منصوبے کی لاگت کیا ہوگی، فنڈنگ کا بندوبست کیسے ہوگا اور تعمیر کی موجودہ رفتار کیا ہے۔اگر کسی مرحلے پر حکومت منصوبے کے کسی حصے کی ترجیح، مدت یا ساخت میں تبدیلی کرتی ہے تو اس کی وجوہات بھی کھل کر قوم کو بتائی جانی چاہئیں۔ کیونکہ قومی منصوبے دعووں یا افواہوں کے سہارے نہیں چلتے اور نہ ہی خاموشی ان کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب ہوتی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی ضرورت ہے۔ پانی کے لیے بھی، بجلی کے لیے بھی اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی۔ اس لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ حکومت نے منصوبے کی منسوخی کی خبر کی تردید کردی؛ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ڈیم مکمل ہوگا، اس کے ذخیرے میں پانی جمع ہوگا اور اس کے ٹربائن 4500 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہوں گے۔





