عوای خدمت کے لئے، پولیس کی ڈبل زونل کمانڈز کی ضرورت
محمد ندیم بھٹی
محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ! لاھور پولیس کے حوالے سے یہ کالم کسی ایک افسر، کسی ایک حکومت یا کسی ایک پالیسی کے خلاف نہیں بلکہ ایک ایسے انتظامی سوال کی طرف توجہ دلانے کی کوشش ھے جس پر اب سنجیدگی سے غور ھونا چاہیے۔ لاھور ایک وسیع و عریض، تیزی سے پھیلتا ھوا شہر ھے، آبادی بڑھ رہی ھے، نئی آبادیاں اور تجارتی مراکز بن رہے ہیں، جرائم کی نوعیت بھی تبدیل ھو رہی ھے اور پولیس کو روایتی طریقہ کار کے بجائے جدید، ڈیٹا پر مبنی اور نتیجہ خیز انداز میں کام کرنے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ھے۔ ایسے میں اصل سوال یہ نہیں کہ پولیس کے پاس کتنے افسر ہیں بلکہ یہ ھے کہ کمانڈ کتنی مو¿ثر، نگرانی کتنی قریب اور جوابدہی کتنی واضح ھے۔میری تجویز ھے کہ لاھور کا سی سی پی او ایک ہی رھے، لیکن پورے شہر کو دو بڑے زونز میں تقسیم کر کے دو الگ زونل کمانڈز قائم کی جائیں۔ ساو¿تھ اور ایسٹ محض ایک ممکنہ مثال ھے؛ حتمی تقسیم آبادی، رقبے، تھانوں، جرائم کے ارتکاز، حساس علاقوں اور کرائم میپنگ کے سائنسی تجزیے کے بعد کی جائے۔ ہر زون میں ایک ڈی آئی جی آپریشنز اور ایک ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ھو، جبکہ سی سی پی او پورے شہر کی مرکزی کمانڈ سنبھالتے ھو۔ یوں لاھور میں دو سی سی پی او بنانے کے بجائے ایک مرکزی کمانڈ کے نیچے دو مضبوط اور واضح زونل کمانڈز قائم ھوں گی۔یہ تجویز اس لیے بھی قابلِ غور ھے کہ لاھور پولیس کے حالیہ اعداد و شمار میں ایک طرف جرائم میں نمایاں کمی دکھائی دیتی ھے اور دوسری طرف جرائم کا دباو¿ بعض مخصوص علاقوں میں مرتکز نظر آتا ھے۔ لاھور کے 84 پولیس اسٹیشنز موجود ہیں اور 2025 کی رپورٹ کے مطابق 35 تھانوں سے تقریباً 65 فیصد سنگین جرائم رپورٹ ھوئے۔ اس کے برعکس 2025 کے پہلے چھ ماہ میں سنگین جرائم کے مقدمات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 49 فیصد جبکہ 2023 کے مقابلے میں 68 فیصد کمی رپورٹ کی گئی۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ھو گا کہ لاھور میں ہر نوعیت کا جرم مسلسل بڑھ رہا ھے؛ اصل مسئلہ یہ ھے کہ ایک بڑے شہر میں جرائم کے بدلتے دباو¿ کو مستقبل میں مزید مو¿ثر طریقے سے کیسے کنٹرول کیا جائے۔یہاں میری تجویز کا اصل نکتہ سامنے آتا ھے۔ اگر پولیس نے جرائم میں کمی لانے میں کامیابی حاصل کی ھے تو اسی کامیابی کو بنیاد بنا کر کمانڈ کا ایسا ماڈل کیوں نہ بنایا جائے جس میں دو زون ایک دوسرے کے مثبت مقابلے میں کام کریں؟ سی سی پی او لاھور اور آئی جی پنجاب کے سامنے ہر ماہ دونوں زونز کا تقابلی جائزہ ھو۔ کس زون میں اسٹریٹ کرائم زیادہ کم ھوا، کس زون میں پولیس رسپانس بہتر رہا، کس زون نے سنگین مقدمات کی تفتیش جلد مکمل کی، کہاں چالان بروقت جمع ھوئے، کہاں شہری شکایات کم ہوئیں اور کہاں عدالتوں میں مقدمات کے نتائج بہتر رہے یہ سب اعداد و شمار کے ذریعے سامنے لایا جائے۔اس طرح پولیس میں ایک صحت مند پرفارمنس کلچر پیدا ھو سکتا ھے۔ ایک زون کے افسر دوسرے زون کو شکست دینے کے لیے نہیں بلکہ شہریوں کو بہتر پولیس سروس دینے کے لیے بہتر کارکردگی دکھائیں۔ سی سی پی او کے لیے بھی یہ جاننا آسان ھو گا کہ کون سا زون واقعی بہتر کام کر رہا ھے اور کہاں اصلاح کی ضرورت ھے، جبکہ آئی جی پنجاب کو پورے لاھور کی کارکردگی ایک ہی نظر میں سمجھنے کے لیے واضح پیمانہ مل جائے گا۔ محترمہ چیف منسٹر! پولیس اصلاحات کا ایک اور پہلو بھی ھے جس پر شاید ہی کبھی کھل کر بات کی جاتی ھے۔ ہر نئے آئی جی کے آنے کے بعد اکثر یہ تاثر پیدا ھوتا ھے کہ پولیس میں بڑی تبدیلی کا مطلب یونیفارم، بیجز، گاڑیوں، رنگ یا ظاہری حلیے میں تبدیلی ھے۔ یونیفارم پولیس کی شناخت ضرور ھے، لیکن یونیفارم بدلنا پولیسنگ بدلنا نہیں ھوتا۔ شہری کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اہلکار کی وردی کا ڈیزائن کیا ھے؛ اسے فرق پڑتا ھے کہ پولیس بروقت پہنچتی ھے یا نہیں، ایف آئی آر میرٹ پر درج ھوتی ھے یا نہیں، تفتیش انصاف کے مطابق ھوتی ھے یا نہیں اور مجرم قانون کے مطابق سزا تک پہنچتا ھے یا نہیں۔اگر ہر چند سال بعد یونیفارم یا ظاہری انتظامی تبدیلی کو پولیس اصلاحات کا سب سے بڑا منصوبہ بنا دیا جائے تو اصل اصلاحات پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ سرکاری خزانے پر بھی اخراجات آتے ہیں۔ یونیفارم کی تبدیلی میں کپڑا، ڈیزائن، سلائی، جوتے، بیجز، بیلٹس، ٹوپیاں اور دیگر سامان شامل ھوتا ھے۔ اگر بڑی سطح پر خریداری ھو تو مالی حجم مزید بڑھ سکتا ھے۔ اس لیے کسی بھی ایسی تبدیلی سے پہلے مکمل کاسٹ بینیفٹ اور فنانشل امپیکٹ اسیسمنٹ لازمی ھونی چاہیے۔ اگر یونیفارم واقعی آپریشنل ضرورت کے تحت تبدیل کرنا ضروری ھو تو اس کی وجہ، لاگت، خریداری کا طریقہ اور متوقع فائدہ شفاف طور پر سامنے آنا چاہیے۔ محض تبدیلی برائے تبدیلی پولیس بجٹ کے قیمتی وسائل کو ایسے شعبے میں لے جا سکتی ھے جہاں اس کا براہ راست تعلق جرائم میں کمی سے نہیں۔یہاں شفافیت بھی ضروری ھے۔ یونیفارم اور پولیس کے دیگر بڑے خریداری منصوبوں میں ٹینڈرنگ، قیمت، معیار اور خریداری کے پورے عمل کو شفاف رکھا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے کمیشن یا مالی بے ضابطگی کے شکوک و شبہات کی گنجائش تک باقی نہ رہے۔ سرکاری پیسہ عوام کی امانت ھے اور پولیس اصلاحات کا ہر منصوبہ اسی اصول پر پرکھا جانا چاہیے۔میری تجویز کا دوسرا حصہ مالی لحاظ سے اس سے بھی زیادہ اہم ھے۔ دو زونل کمانڈز بنانے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ حکومت کو درجنوں نئے افسر بھرتی کرنا پڑیں۔ پولیس کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں پہلے ہی ڈی آئی جی اور سینئر ایس پی سطح کے متعدد افسران موجود ہیں۔ اس لیے نئی بھرتیوں اور نئے دفاتر پر بڑا مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے موجودہ سینئر افسران کی میرٹ پر تنظیمِ نو کی جائے۔ جو افسر فیلڈ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ھو، اسے زونل کمانڈ کی ذمہ داری دی جائے؛ جو افسر آپریشنز یا انویسٹی گیشن میں نتیجہ خیز ثابت ھو، اسے زیادہ اہم ذمہ داری دی جائے۔اس کے برعکس جو افسر مسلسل کمزور کارکردگی دکھاتا ھو، اسے صرف عہدہ بچانے کے لیے فیلڈ میں رکھنے کے بجائے سی سی پی او آفس میں مناسب آفس جاب دی جا سکتی ھے۔ اس کا مطلب سزا دینا نہیں بلکہ ذمہ داری کو اس کی صلاحیت کے مطابق کرنا ھو گا۔ پولیس میں ہر افسر کا کام فیلڈ کمانڈ نہیں ھوتا؛ کچھ افسر پلاننگ، مانیٹرنگ، پالیسی، قانونی امور، ڈیٹا اینالیسس اور انتظامی ذمہ داریوں میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ یوں ”صحیح افسر، صحیح جگہ“ کا اصول نافذ ھو گا۔یہی وہ مقام ھے جہاں حکومت کے مالی وسائل بھی بچائے جا سکتے ہیں۔ اگر موجودہ افسران، دفاتر اور وسائل کو دوبارہ منظم کرکے زونل کمانڈ قائم کی جائے تو اضافی اخراجات نسبتاً محدود رہ سکتے ہیں۔ حکومت کو صرف ان چیزوں پر خرچ کرنا چاہیے جو براہ راست پولیس کی کارکردگی بہتر بنائیں، مثلاً کرائم اینالیسس، ڈیجیٹل کیس ٹریکنگ، فرانزک سہولیات، مواصلاتی نظام، سیف سٹی ڈیٹا کا استعمال اور فیلڈ آپریشنز۔اس کے لیے ایک سالہ آزمائشی منصوبہ بنایا جا سکتا ھے۔ پہلے تین ماہ میں لاھور کے تمام تھانوں کا کرائم پروفائل، آبادی، رقبہ، نفری، مقدمات اور ہاٹ اسپاٹس کا تجزیہ کیا جائے۔ اگلے نو ماہ دونوں زونز کو واضح اہداف کے ساتھ چلایا جائے۔ اس دوران اسٹریٹ کرائم میں مزید کمی، پولیس رسپانس ٹائم، سنگین مقدمات کی تفتیش کی تکمیل، بروقت چالان، شہری شکایات اور عدالتی نتائج کو کارکردگی کے بنیادی پیمانے بنایا جائے۔ ہر ماہ دونوں زونز کا موازنہ کیا جائے اور چھ ماہ بعد عبوری جائزہ لیا جائے۔پائلٹ کے اختتام پر صرف یہ نہ دیکھا جائے کہ کتنے ملزمان گرفتار ھوئے بلکہ یہ دیکھا جائے کہ کون سا زون شہریوں کو بہتر پولیس سروس دے سکا۔ اگر ایک زون مسلسل بہتر کارکردگی دکھاتا ھے تو اس کے افسران کو میرٹ پر آگے لایا جائے۔ اگر کوئی افسر غیر معمولی نتائج دیتا ھے تو اسے مستقبل کی بڑی ذمہ داری کے لیے تیار کیا جائے۔ اسی طرح مسلسل کمزور کارکردگی والے افسر کو فیلڈ کمانڈ سے ہٹا کر مناسب انتظامی ذمہ داری دی جائے۔ اس طرح پولیس میں پہلی بار واقعی کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا کلچر مضبوط ھو سکتا ھے۔محترمہ مریم نواز صاحبہ! لاھور پولیس کو اصلاحات کے نام پر ہر چند سال بعد ظاہری تبدیلیوں کی نہیں بلکہ قابلِ پیمائش نتائج کی ضرورت ھے۔ یونیفارم بدلنے سے زیادہ ضروری پولیس کا رسپانس ٹائم کم کرنا ھے، گاڑیوں کے رنگ بدلنے سے زیادہ ضروری تفتیش کا معیار بہتر کرنا ھے اور نئے دفاتر بنانے سے زیادہ ضروری موجودہ افسران کو ان کی صلاحیت کے مطابق ذمہ داری دینا ھے۔میری نظر میں لاھور پولیس کے لیے ایک سی سی پی او کے ماتحت دو زونل کمانڈز کا تجربہ اسی سمت میں ایک اہم قدم ھو سکتا ھے۔ دو ڈی آئی جی آپریشنز اور دو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اپنے اپنے زون کے نتائج کے ذمہ دار ھوں، جبکہ سی سی پی او پورے شہر کا کمانڈر اور آئی جی پنجاب مجموعی نگرانی کے ذمہ دار ھوں۔ ہر ماہ دونوں زونز کا مقابلہ ہو، ہر چھ ماہ بعد کارکردگی کا آزادانہ جائزہ لیا جائے اور ایک سال بعد اعداد و شمار فیصلہ کریں کہ کون سا ماڈل کامیاب رہا۔یہاں کسی نئے نظام کو کامیاب قرار دینے سے پہلے اس کا مالی حساب بھی سامنے آنا چاہیے۔ حکومت کو یہ معلوم ھونا چاہیے کہ زونل کمانڈ قائم کرنے پر کتنی اضافی رقم درکار ھو گی، موجودہ وسائل کی تنظیمِ نو سے کتنی بچت ھو سکتی ھے، ڈیجیٹل مانیٹرنگ پر کتنا خرچ آئے گا اور اس کے مقابلے میں جرائم، تفتیشی تاخیر اور انتظامی اخراجات میں کتنی بہتری آتی ھے۔ پولیس اصلاحات وہی کامیاب ھے جس کا فائدہ شہری کو بھی نظر آئے اور خزانے کو بھی۔لاھور پولیس نے حالیہ عرصے میں جرائم میں کمی کے جو نتائج دیے ہیں انہیں تسلیم اور سراہا جانا چاہیے۔ لیکن بہتر کارکردگی کے بعد اگلا سوال یہی ھوتا ھے کہ اسے مزید مستقل اور پائیدار کیسے بنایا جائے۔ دو زونل کمانڈز اسی سوال کا ایک قابلِ آزمائش جواب ھو سکتی ہیں۔محترمہ چیف منسٹر! میری گزارش ھے کہ لاھور پولیس کو یونیفارم، ظاہری تبدیلیوں اور محض اعلانات کی پولیس اصلاحات سے آگے لے جا کر نتائج، میرٹ، مانیٹرنگ اور مقابلے کی پولیسنگ کی طرف لے جایا جائے۔ ایک سی سی پی او برقرار رھے، دو زونل کمانڈز بنیں، موجودہ سینئر افسران میں سے بہترین کو فیلڈ ذمہ داری دی جائے، کمزور کارکردگی والے افسران کو مناسب آفس ذمہ داریاں دی جائیں، اور ہر ماہ اعداد و شمار بتائیں کہ کون بہتر کام کر رہا ھے۔آخر میں ایک ھی اصول ھونا چاہیے: عہدہ کارکردگی کا انعام ھو، کارکردگی عہدے کا جواز نہ بنے۔ جو افسر عوام کو بہتر پولیس سروس دے، اسے آگے لایا جائے؛ جو مسلسل ناکام ھو، اسے مناسب ذمہ داری دی جائے۔ اس سے پولیس میں صرف کمانڈ نہیں بدلے گی بلکہ کام کرنے کا کلچر بدلے گا۔لاھور کو ہر نئے آئی جی کے ساتھ ایک نئی وردی سے زیادہ ایک نیا، مو¿ثر اور قابلِ احتساب پولیسنگ ماڈل چاہیے۔اور شاید وقت آ گیا ھے کہ ہم پولیس کی اصلاح کا پیمانہ یونیفارم کے رنگ سے نہیں بلکہ شہری کے محفوظ ھونے اور مجرم کے قانون کے شکنجے میں آنے سے مقرر کریں۔





