احمق صاحب اختیار ہی ملکی مسائل کی وجہ ہیں!
ظفر اقبال ظفر
مولانا جلال الدین رومی کا قول ہے کہ۔ایک ہزار قابل انسان مر جانے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا ایک احمق کے صاحب اختیار ہو جانے سے ہو جاتا ہے۔یہ تحریر اسی نقصان کی وضاحت پر مبنی ہے۔ایک احمق یعنی نالائق جو زہنی علمی تجرباتی اصلاحیت سے محروم ہوتا ہے جب یہ صاحب اختیا ر ہوتا ہے تو اس کے پاس دو راستے ہوتے ہیں جو ترقی کے گرد گھومتے ہیں ایک سود ی قرض دوسرا قرض اتارنے او ر اداروں کو چلانے کے لیے(ناجائز ٹیکس اورمہنگائی)سودی قرض وہی لیتے ہیں جن کے کردارعالمی سطح پر قرضہ حسنہ لینے کے قابل نہیں ہوتے۔پاکستانی عوام آج کے ترقی یافتہ دور میں جتنی انسانی ایمانی قدروں سے گرئی ہوئی ہے اتنی غیر ترقی یافتہ حالات میں نہیں تھی کیونکہ تب انہیں اپنے بچوں تک حلال کمانے کی زمہ داری تھی آج ہر پاکستانی کے بچوں پرسودی قرضوں کی ادائیگی کے لیے حرام اکٹھا کر کے حکومت کودینے کی سختی ہے۔حکمرانوں اوراداروں کی عیاشیاں مسلط ہیں جب پوشیدہ و غیر پوشیدہ حرام سہولتیں حلال کے بس سے باہر ہوگئیں توعوام ایسے نظام کو چلانے والوں کے ہاتھوں چور،ڈاکو،نوسرباز،فراڈیا،بددیانت،حرام خور،سود خور،رشوت خور،قاتل،ظالم،ناجائز،غیر شرعی،غیر اخلاقی،غیر قانونی عمل و فعل میں نا چاہتے ہوئے مبتلا ہو جا تی ہے۔ بعض مذہبی جماعتوں کے ناقص العلم نمائندے معاشی پریشان حال مسلمانوں کے لیے دنیاوی نظام کی اصلاح سے راہ فرار حاصل کرتے ہوئے انہیں آخرت کی فکر میں ا±لجھاتے ہوئے جھوٹی حدیث سناتے ہیں۔(جیسے عوام کے اعمال ہوں گئے ویسے ہی ان پر حکمران ہوں گئے) اس سیاسی تخلیق کی حدیث کی دلیل دیتے ہوئے مظلوم عوام کے سر پر ظالم حکمرانوں کی زمہ داری ڈال دی جاتی ہے تاکہ عوام ظالم حکمرانوں کے برے ا عمال کو بھی اپنے سر لے کر خود کو قصوروار سمجھے اور ظالمانہ نظام حکمرانی کے آگے کوئی اسلامی پھاٹک نہ لگ سکے۔دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ اپنی ا±مت کے ہر درد کو اپنے سینے میں محسوس کرنے والے نبی کریم ﷺ ایسا فرما سکتے ہیں؟پچھلے دنوں مجھے مولانا اسحاق صاحب کی زبانی اس جھوٹی حدیث کی تصدیق بھی ہوگئی تھی۔وہ حدیث ہوتی ہی نہیں جو قلب مومن کو یقین کے حوالے سے شک وابہام میں مبتلا کر دے۔سب سے افضل اعمال والی شخصیت کے تاظر میں زراسوچیں کیا حضور ﷺ کے دور جہالت،گمراہی، ظلم، شرک میں جینے والا معاشرہ اپنے اعمال کے اعتبار سے اس لائق تھا کہ انہیں حضور ﷺجیسی ہستی عنایت کی جاتی؟پھر حضور ﷺ کی تعلیم و تربیت کے زیرسایہ حکمران صحابہ جو عوام سے تھے کیا ا±س دور کے لوگوں کے اعمال کے معیار پر تھے؟ حضرت امام حسین کے سامنے یزید کی کیا اوقات و معیارتھاکہ مسلمانوں کا حکمران بنتا؟اگر اعمال کی بنیاد پر حکمران کا آنا ہوتا ہے تو امام حسین کے اک عمل پر یزید کی پوری نسل نہیں پہنچ سکتی امام حسین کا خون اعلیٰ مقام اعلیٰ اعمال اعلیٰ پھر بدکردار یزید کی حکومت کیوں بنی؟میرے امام حسین ؑ کا تواسلامی و ایمانی یقین ہی یہ تھا کہ کوئی بدکردار شخص چاہے مسلمان ہی کیوں نہ ہو مسلمانوں کا حکمران نہیں ہو سکتا۔جیسے اعمال ویسا حکمران جیسی حدیث سچی ہوتی تو امام یزید کو عوام کے اعمال کا نتیجہ مان کر میدان میں نہ آتے بلکہ آج کے مسلمانوں کی طرح اسے آسمانی فیصلہ تسلیم کرکے یزید سے ا±لجھنے کی بجائے عبادات میں ا±لجھے رہتے مگر نہیں انہوں نے اسلامی غیرت کا مظاہرہ کیا کہ ظالم وہ نہیں جو ظلم کرتا ہے ظالم و ہ ہے جو ظلم سہتا ہے۔یہ دنیا اس لیے بری نہیں کہ یہاں برے لوگ زیادہ ہیں بلکہ اس لیے بری ہے کہ یہاں اچھے لوگ خاموش ہیں۔مہنگائی، بے روزگاری،ناجائز ٹیکس،بدنظمی،احمقوں کے ہاتھوں میں اختیارات،محب وطنی کے نام پر عوامی غداری سمیت جتنے بھی اس ملک کے مسائل ہیں ان کی وجہ عوام نہیں مگر عوامی پر یشانی کی وجہ یہی حالات ہیں۔ان کے حل کے لیے مختلف مذہبی،سیاسی،سماجی جماعتوں نے اجتماعی و انفرادی طور پر،احتجاج،ہرٹال،دھرنے سمیت تمام جمہوری حقوق کو استعمال کیا جس کے خلاف کرپٹ،نااہل، ظالم لوگوں نے نظام کی اصلاح کی بجائے حقوق کا مطالبہ کرنے والوں پر ہی قانون کا غلط استعمال کرکے نظام و حکومت مخالف ایف آئی آرکا اندارج کر دیا تاکہ عوام کے پاس ظلم سہنے کے سوا کوئی راستہ نہ بچے۔ظلم نہ سہنے کے انکار پر بھی ظلم کا راج مسلط ہوتا رہا سب قانونی،اخلاقی،جمہوری حقوق کے استعمال سے بھی حل نہیں نکالا جاسکااور نہ کبھی محب وطنی کے روپ میں عوامی غداروں کے ہوتے ہوئے نکلے گاتو پھرہمیں باحیثیت پاکستانی مسلمان کرنا کیا چاہیے؟ہمیں اپنے اندر بیٹھے بے بس کو مجبوری کے نام پر ظلم سہنے سے روکنا ہوگایعنی ہمیں اپنے اندر ایک اصلاحی دھرنا دینا ہوگا۔۔ہر قیمت سے مہنگی چیز خریدنے سے ہڑتال کرنی ہو۔ظلم کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے ہمیں بجلی،گیس،پٹرول،سے پہلے والے دور میں چند ماہ جینا ہوگا۔ عوام دشمن نظام خوفناک ہے مگر خطرناک نہیں یہ اس قدر کھوکھلا اور کمزور ہے کہ یہ عوام کو توڑ توڑ کر اپنا غیر آئینی غیر اخلاقی جبر کرتا ہے تاکہ ان کی واحد بربادی عوامی اتحاد کبھی رونما نہ ہو سکے۔اگر ہم اسلامیت و پاکستانیت کے نام پر اکٹھے ہو گئے تو یہ ملک و عوام دشمن نظام خود ہی اپنی قبر میں جا کرلیٹ جائے گا۔وہ بہت وقت قریب آ رہا ہے جو عوام دشمن منافق محب وطنوں کی نماز جنازہ پڑھائے گا۔(انشاءاللہ)






