#کالم

بہاولپور کے صوبے کی صدا پھر بلند

Untitled 5

جاویدایازخان

امیر آف بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی کے ولی عہد پرنس بہاول خان عباسی نے ملک کی تمام سیاسی قیادت کو بحالی صوبہ کے لیے ایک خط لکھ دیا ہے۔خط کےمتن کے مطابق پنجاب اسمبلی نے بہاولپور کو دوبارہ صوبہ بنانے کی قرارداد منظور کی تھی جس کے ساتھ ایک الگ جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد بھی شامل تھی۔خط کے متن کے مطابق قرارداد مسلم لیگ ن نے پیش کی ،پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے اس کی توثیق کی تھی۔خط میں پرنس بہاول خان عباسی نے کہا ہے کہ اس قرار داد پر دوباہ غور کریں اور بہاولپور صوبے کی بحالی کو بغیر کسی تاخیر کے قومی اسمبلی اور سینٹ کے ایجنڈے پر رکھیں۔خط کے متن کے مطابق صدر آصف علی زرداری ،صدر مسلم لیگ ن میاں نواز شریف ،وزیر اعظم شہباز شریف کے نام تحریر یہ خط چیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری ،چیرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر ،مولانا فضل الرحمان اور حافظ نعم الر حمان کو بھی بھیجا گیا ہے۔میڈیا اورسوشل میڈیا پر اس خط کی اشاعت کے بعد بہاولپور بحالی صوبہ کی تحریک میں جان پڑ گئی ہے اور لوگ پرنس بہاول خان عباسی کی قیادت میں صوبہ بہاولپور کے مطالبے پر پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔عباسی خاندان اور امیر آف بہاولپور سے بہاولپور ی عوام کی عقیدت ومحبت ہمیشہ سے قائم ہے۔بہاولپور کے عوام امیرآف بہاولپور کے فرزند اور ولی عہد کی قابل احترام ،غیر متازعہ اور غیر جانبدارانہ قیادت میں بہاولپور صوبہ کے حصول کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ چھپن سال سے لوگوں کی خواہشات کا فائدہ یہاں کے سیاستدان ہر الیکشن میں صوبے کے نام پر اٹھاتے چلے آے ہیں مگر حکومت میں آنے کے بعد اس بارے میں کبھی بھی کوئی سنجیدہ اقدام سامنے نہیں آسکا۔اسی لیے آج پرنس بہاول خان عباسی ولی عہد امیر آف بہاولپور کے اس خط کو عوامی سطح پر بے حد سراہا جارہا ہے اور اسے ایک توانا اور بلند آواز کے طور پر سنا ،سمجھا اور دیکھا جارہا ہے۔اپنی خاندانی شرافت اور وقار کی باعث شاید یہی وہ شخصیت اور قیادت ہے جس کی آواز پر سب لبیک کہیں گے۔پرنس بہاول عباسی، ولی عہد امیر آف بہاولپور، کی جانب سے صوبہ بہاولپور کی بحالی کے مطالبے کے لیے تمام سیاسی رہنماو¿ں کو خط لکھنا محض ایک سیاسی پیش رفت نہیں بلکہ ایک ایسے دیرینہ مطالبے کی یاد دہانی ہے جو اس خطے کے لوگ گزشتہ چھپن برس سے مسلسل دہراتے چلے آ رہے ہیں۔ وقت بدلتا رہا، حکومتیں آتی اور جاتی رہیں، سیاسی وعدے ہوئے، منشور بنے اور پھر انتخابی موسم گزرنے کے ساتھ بہت سے وعدے بھی ماضی کی فائلوں میں دفن ہوتے گئے، مگر بہاولپور کے لوگوں کی آواز خاموش نہ ہوئی۔ دیر آید، درست آید۔ریاست بہاولپور اور محسن پاکستان نواب آف بہاولپور کی پاکستان کے قیام اور اس کے استحکام میں ناقابل فراموش خدمات ہیں۔شاید بہاولپور وہ اولین آزاد ریاست تھی جس نے سب سے پہلے پاکستان سے الحاق کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے تمام تر وسائل پاکستان کے لیے پیش کردیے تھے۔نواب بہاولپور نے ہر موقع پر پاکستا ن اور قائداعظم کے شانہ بشانہ ناصرف قیام پاکستان کی جدوجہد میں ہمیشہ آگے بڑھ کر حصہ لیا بلکہ قیام کے بعد پاکستان کت استحکام کے لیے کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔آج جب ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث جاری ہے تو بہاولپور میں بھی لوگ صوبہ بہاولپور کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔بہاولپور کے لیے ان کی توقعات میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہاولپور ون یونٹ سے قبل بھی ایک الگ صوبہ ہوا کرتا تھا۔لیکن ون یونٹ کے خاتمہ کے وقت اس کی صوبائی حیثیت بحال کرنے کی بجاے اسے پنجاب کا حصہ بنادیا گیا تھا۔اگر آج ریاستِ بہاولپور کی نوجوان قیادت نے اس مطالبے کو ایک بار پھر قومی سیاسی قیادت کے سامنے رکھا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ یہ کسی ایک خاندان، جماعت یا فرد کا مطالبہ نہیں؛ یہ ایک خطے کے عوام کے احساسِ محرومی، انتظامی مسائل اور تاریخی شناخت سے جڑا سوال ہے۔ بہاولپور کی تاریخ پاکستان کی تاریخ سے جدا نہیں۔ اس خطے نے پاکستان کے قیام سے پہلے بھی اپنا کردار ادا کیا اور قیامِ پاکستان کے بعد بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا بہاولپور کو اس کی تاریخی حیثیت اور عوامی خواہش کے مطابق انتظامی شناخت واپس مل سکتی ہے؟ چھپن برس کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا۔ ایک نسل جوان ہو کر بوڑھی ہوجاتی ہے، بچے اپنے بچوں کے والدین بن جاتے ہیں، اگر کسی ایسے مطالبے کی آواز نسل در نسل زندہ رہے تو اسے محض سیاسی نعرہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اب اصل امتحان سیاسی قیادت کا ہے۔ کیا سیاست دان اس خط کو ایک اور سیاسی دستاویز سمجھ کر الماری میں رکھ دیں گے، یا پہلی مرتبہ اس مسئلے کو پارٹی سیاست سے بالاتر ہو کر عوامی اور انتظامی مسئلے کے طور پر دیکھیں گے؟ بہاولپور کے عوام کو نعروں سے زیادہ جواب چاہیے۔ انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے دیرینہ مطالبے پر عملی پیش رفت کب ہوگی ؟ گر نیا صوبہ انتظامی ضرورت ہے تو اس کے لیے سنجیدہ آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا جائے، اور اگر اس کے راستے میں مشکلات ہیں تو وہ بھی کھل کر عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ کیونکہ تاریخ کا ایک اصول ہے جو آواز نصف صدی سے زیادہ عرصے تک دبائی نہ جا سکے، اسے ایک دن سننا ہی پڑتا ہے۔ شاید پرنس بہاول عباسی کا یہ خط بھی اسی طویل انتظار کے بعد آنے والی ایک دستک ہے۔ اور دستک چاہے کتنی ہی دیر سے دی جائے، دروازہ اگر عوامی حق کا ہو تو دیر آید، درست آید۔پرنس بہاول خان عباسی ولی عہد امیر آف بہاولپور کا یہ خط ایک ایسی دستاویز ہے جو بہاولپور کی تاریخ کا حصہ بن کر ہمیشہ صوبے کی توانا آواز کی صورت قیادت کا حق ادا کرتی رہے گی۔انشاللہ ! اگر پاکستان میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنتے ہیں تو بہاولپور کا نام سب سے پہلے آے گا۔کیونکہ یہ معاملہ کسی نئے صوبے کے قیام کا نہیں بلکہ سابقہ صوبے کی بحالی کا ہے۔

بہاولپور کے صوبے کی صدا پھر بلند

03/09/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے