#کالم

پیمان سے خالی شام۔۔اشرف جاوید کا نیا شعری مجموعہ

Untitled 13456

تحریر: امجد علی

نامور شاعر، مصنف، خاکہ نگار، محقق اور کالم نگار اشرف جاوید کا خوب صورت شعری و تخلیقی مجموعہ ”پیمان سے خالی شام“ محبت کے ساتھ موصول ہوا ، تو کتاب کو ہاتھ میں لیتے ہی ایک خوش گوار ادبی احساس نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ بلاشبہ کتاب کا عنوان، سرورق، کتابت، طباعت اور مجموعی پیش کش اپنی جگہ ایک مکمل جمالیاتی تجربہ محسوس ہوتی ہے۔ سرورق کی دل کشی سے لے کر صفحات کی ترتیب اور طباعتی معیار تک ہر مرحلہ صاحب کتاب کی نفاست طبع اور ادبی ذوق کا آئینہ دار ہے۔ تاہم کسی کتاب کی اصل قدر اس کے ظاہری حسن سے آگے اس کے اندر پوشیدہ فکر، احساس، نئے مشاہدے اور تخلیقی توانائی میں ہوتی ہے اور ”پیمان سے خالی شام“ اس اعتبار سے بھی قاری کو ایک ایسے شعری سفر کی طرف لے جاتی ہے ، جہاں لفظ اپنی سطح سے بلند ہو کر ایک پورا منظر، نئی کیفیات اور معنوی جہان کھول دیتا ہے۔ میں کہ حرف نا آشنا "پیمان سے خالی شام” جیسے فکری گہرائی سے معمور شعری مجموعے پر کیا ہی شایان شان اظہار کر پاوں گا۔ آپ کے فکری افق پر اجالے بکھیرتی شاعری کے محاسن پر پہلے ہی متعدد قدآور اور نامور ادبی ہستیوں نے اپنے قلمی موتیوں سے بھرپور جوہر دکھا دیے ہیں۔ خصوصاً اشرف جاوید کا خودنوشت کے رنگ میں لکھا گیا دیباچہ اپنے حجم، وسعت مشاہدہ اور عمیق نظر کے اعتبار سے اس قدر بھرپور ہے کہ قاری کے جذبی و فکری اشاریے اس کی چکاچوند میں دیر تک محو حیرت نظر آتے ہیں۔ایسے میں میرے لیے اس کار تحسین میں کچھ نیا اضافہ کرنا سہل نہیں۔ لہٰذا چند اعترافی جملوں کو سپرد قلم کرنے پر اکتفا کرتے ہوئے، اہل ادب، اساتذہ ، شعرا اور اہل دانش سے پیشگی معذرت کے ساتھ، عقیدت و تحسین ہدیہ کر کے رخصت چاہوں گا۔اشرف جاوید کو صرف محبت، ہجر، وصال اور روایتی رومان کے شاعر کے طور پر دیکھنا ان کی تخلیقی شخصیت کو ایک محدود دائرے میں مقید کرنے کے مترادف ہوگا ، اگرچہ محبت اور انسانی جذبات ان کی شاعری سے بالکل غیر حاضر نہیں، لیکن ان کے شعری کینوس کا بڑا حصہ عصری مسائل، معاشرتی تضادات، انسانی بے بسی، رویوں میں منافقت، سیاسی بے چینی، ناخداوں کے خدا بننے، اجتماعی اضطراب، بل کھاتی زندگی کی پیچیدگیوں اور اپنے عہد کے تلخ تجربات سے تشکیل پاتا ہے۔ وہ اپنے گردوپیش سے مسائل کشید کرتے ہیں اور پھر انھیں محض شکوے کی صورت میں پیش نہیں کرتے ، بل کہ شعری تجربے اور نئے فکری شعور میں ڈھال دیتے ہیں۔ ان کے ہاں کائنات کے اجزاے تخلیق کا ذکر بھی ملتا ہے، وجود کے اسرار بھی نظر آتے ہیں، غم بھی ہے ، انبساط بھی، خود آگہی کا احساس بھی جاگتا ہے اور انسان کو مصائب کے سامنے شکست خوردہ نہیں ، بل کہ عزم و ارادے کی فولادی دیوار بن کر کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی ملتا ہے۔ یوں ان کی شاعری باہر کی دنیا کا مشاہدہ اور اندر کی دنیا کا احتساب سبھی جہتیں روبہ روے آئینہ کرتی ہے۔ وہ حالات کو صرف بیان نہیں کرتے، حالات کے اندر چھپی ہوئی اصل تصویر کو تلاش کرتے ہیں۔ چھوٹی بحر کے مصرعوں میں لکھنا گو کار دقیق ہے ، پھر بھی وہ لکھتے ہیں۔ ان کا اسلوب سخن بھی ان کی طبعیت کے عین مطابق اشعار میں روانی، سادگی اور انفرادیت کی صورت سفارتکاری کرتا محسوس ہوتا ہے۔ ثقیل الفاظ اور مشکل تمثیلات سے وہ غیر ارادی طور پر بہت دور رہتے ہیں۔ یہی وصف انھیں محض جذباتی شاعر کے بجاے ایک فکر مند، حساس مشاہدہ کار اور عصری شعور رکھنے والے شاعر کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔ یہی وصف انھیں معاصر شعرا میں اعلی اور منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے بہت سے اشعار ایسے ہیں کہ چشم ذوق ابھی ان پر ٹھہرتی بھی نہیں کہ معنی کی مہک، سادگی کی شفافیت اور ندرت کی خوشبو سے مخمور نسیم سحر چلنے لگتی ہے۔ لفظ، جو بہ ظاہر نہایت سادہ اور مانوس دکھائی دیتے ہیں، اچانک اپنے اندر چھپی ہوئی ایک نئی دنیا کے دریچے وا کر دیتے ہیں۔ قاری کے خوابیدہ آسمان۔فکر پر یکایک ستارے جھلملانے لگتے ہیں، خیال کی خاموش جھیل میں معنی کی لہریں اٹھتی ہیں اور شعور کے بند غنچے یکے بعد دیگرے چٹخ چٹخ کر فضاو¿ں میں ایسی خوشبو بکھیرنے لگتے ہیں کہ پڑھنے والا شعر سے اگے کسی ان دیکھی بستی کی گلیوں میں قدم بہ قدم چلتا ہوا خود کو دریافت کرنے لگتا ہے۔کچھ اشعار تو ایسے ہیں کہ ان کا لطف پہلی قرات پر ختم نہیں ہوتا ، بل کہ ہر بار پلٹ کر دیکھنے پر معنی کا کوئی نیا دریچہ نیا روپ کھلتا ہے، کوئی نیا رنگ سامنے آتا ہے اور دل بے اختیار کہہ اٹھتا ہے، یہ شعر پہلے بھی پڑھا تھا، مگر اس کا یہ پہلو قبل ازیں کیوں دکھائی نہیں دیا؟ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعری لفظوں کا قرینہ نہیں رہتی، بلکہ قاری کے اندر شاعر کی پہچان رقم کرنے کے ساتھ ساتھ خاموش مگر خوشبوﺅں بھری محبت کی بنیاد بھی رکھ دیتی ہے۔اشرف جاوید کی شاعری کا ایک اور نمایاں وصف لفظ کے ساتھ ان کا غیر معمولی سلوک ہے۔ وہ لفظ کو محض اظہاریہ نہیں سمجھتے ، بل کہ اس کی قیمت، تہہ داری، معنوی گہرائی اور صوتی تاثیر سے بھی پوری طرح باخبر دکھائی دیتے ہیں۔ بحور، اوزان، قافیہ، ردیف، لفظی نشست و برخاست اور شعری موسیقیت ان کے لیے محض فنی لوازم نہیں ، بل کہ تخلیق کے بنیادی ستون ہیں۔ ان کے اشعار کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے لفظ کو پہلے پرکھا، اس کے وزن کو محسوس کیا، اس کی معنوی تہوں کو ٹٹولا اور پھر اسے شعری پیکر میں ڈالا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں لفظوں کی ایک مخصوص ترتیب اور داخلی آہنگ پیدا ہوتا چلا جاتا ہے۔ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے ، جیسے اشرف جاوید نے اپنی شاعری کے لیے ایک منفرد ڈکشن وضع کر لی ہو، ایسی ڈکشن ، جس میں ان کی اپنی آواز، اپنا لہجہ، اپنا فکری مزاج اور اپنی لفظی شناخت صاف سنائی دیتی ہے۔ یہ انفرادیت کسی شاعر کے لیے معمولی اعزاز نہیں، کیوں کہ شاعری کی اصل پہچان بالآخر یہی ہے کہ شاعر کو نام لیے بغیر بھی اس کے شعر سے پہچانا جا سکے۔اشرف جاوید کی ادبی شخصیت کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ وہ تخلیق کے ساتھ تحقیق اور تنقید کے میدان میں بھی مسلسل سرگرم رہے ہیں۔ کم و بیش تیرہ شعری، تحقیقی اور تنقیدی کتب کی تخلیق اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ان کا قلم وقتی جذبے یا محض طبع آزمائی کا قائل نہیں ، بل کہ ایک مسلسل علمی و تخلیقی سفر سے گزرا ہے۔ ان کے قلم کی روانی، فکری وسعت اور تخلیقی گرفت اب اہل ادب کے لیے کوئی پوشیدہ راز نہیں رہی۔ وہ شعر کہتے ہوئے اپنے عہد سے مکالمہ کرتے ہیں، تحقیق کرتے ہوئے روایات سے بندھے رہتے ہیں اور تنقید کے ذریعے ادب کے باطن میں اترنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی ہمہ جہت ادبی سرگرمی نے ان کے ہاں ایک ایسا فکری پس منظر پیدا کرتے دیا ہے ، جس کے باعث ان کا شعر محض لفظوں کی سیپ نہیں رہتا ، بل کہ اس کے پیچھے مطالعہ، تجربہ، مشاہدہ اور شعری شعور کی ایک طویل ریاضت محسوس ہوتی اور جھلک دکھاتی ہے۔”پیمان سے خالی شام“ کا عنوان بھی اپنے اندر ایک دلچسپ معنوی کشادگی رکھتا ہے۔ عمومیت میں تو محض وعدوں سے خالی شام ہے ، مگر استعاروں کو ذہن میں رکھتے آگے بڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ روشن دن ارادوں، خواہشوں، کاوشوں اور وعدوں سے عبارت ہوتا ہے ، اسی نسبت سے تاریکی کی طرف بڑھتی شام ان سب جذبوں اور اثاثوں سے خالی ہوتی ہے۔ شام انسانی زندگی کا انتظار، تنہائی، یاد، سوال اور گزرے ہوئے وقت کی علامت بن جاتی ہے اور جب یہی شام ”پیمان سے خالی“ ہو تو اس میں وعدوں کے ٹوٹنے، توقعات کے ماند پڑنے، انسانی رشتوں کی کمزوری اور عہد حاضر کی بے یقینی کے کئی استعارے پیدا ہو جاتے ہیں۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں اشرف جاوید ایک شاعر کی صورت اپنے قاری سے براہ راست مکالمہ شروع کرتا ہے۔ وہ اسے صرف شعر نہیں دیتا ، بل کہ سوچنے کے لیے ایک کھڑکی، محسوس کرنے کے لیے ایک منظر اور اپنے اندر جھانکنے کے لیے ایک آئینہ بھی فراہم کرتا ہے۔کتاب کے پیشِ لفظ میں "احباب جسے کار سخن کہتے ہیں” کے عنوان سے مصنف نے جہاں سیاست اور مقتدر ہستیوں کے نت نئے حربوں، پینتروں اور گرگٹ کی طرح بدلتے ہوئے چال چلن کا احوال رقم کیا ہے، وہیں میدان ادب میں ان سرقہ نویس شعرا کا بھی دلچسپ احاطہ کیا ہے جنھوں نے غزل کے نام پر دوسروں کی زمینوں میں اپنی فصلیں کاشت کیں اور یوں شاعر کہلانے کے بجاے مزارعین کہلانے کے مستحق ٹھہرے۔ میری نظر میں زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو، اس کے دامن میں وسیع ویرانیاں اور بے کنار ریگستان ضرور موجود ہوتے ہیں، جہاں بہ ظاہر خاموشی تپتی ہوئی ریت کے ذرات میں بکھری محسوس ہوتی ہے، مگر اسی بے آواز اور بے آب و گیاہ منظرنامے کے پردوں میں کہیں کوئی نایاب و گراں قدر یورینیم بھی سانس لے رہا ہوتا ہے۔ اصل کمال شاید یہی ہے کہ نگاہ۔جوہر شناس اس ریگستان کی خاموش تہوں میں چھپے اس انمول جوہر کو پہچان لے، جس کی قدر عام نگاہ سے پوشیدہ رہتی ہے۔اشرف جاوید کی شاعری میں کائنات اور انسان کا رشتہ بھی توجہ طلب ہے۔ تخلیق۔کائنات کے اجزا، وجود کے سوالات اور انسانی ذات کے اندر جاری کشمکش جب شعری پیرائے میں سامنے آتی ہے ، تو شعر محض خارجی واقعے کا ترجمان نہیں رہتا ، بل کہ ایک وسیع تر کائناتی سوچ اور بیانیہ اختیار کر لیتا ہے۔ یہیں سے خود آگہی کا شعور ابھرتا ہے۔ شاعر اپنے عہد کے مسائل کو دیکھتے ہوئے خود سے بھی سوال کرتا ہے کہ انسان آخر ہے کیا، اس کی ذمہ داری کیا ہے، وہ حالات کے ہاتھوں کتنا مجبور ہے اور اپنے ارادوں میں کتنا آزاد؟ اسی سوالیہ کیفیت میں اشرف جاوید کی شاعری ایک ایسے انسان کی تلاش کرتی دکھائی دیتی ہے ، جو مشکلات سے گھبرا کر راستہ نہ بدلے ، بل کہ اپنے اندر وہ جرات و قوت پیدا کرے ، جو اسے حالات کے سامنے ثابت قدم رکھ سکے۔ وہ اپنے اندر کے ہیرو کو اس طرح تراشتے ہیں کہ وہ دشمن کو سامنے دیکھ کر گھبرائے نہیں ، بل کہ کشتیاں جلا کر میدان میں کود پڑے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں زندگی سے فرار کے بجاے زندگی سے پنجہ آزمائی کا جذبہ زیادہ نمایاں محسوس ہوتا ہے۔ دکھ ہے ، مگر شکست نہیں، اضطراب ہے ، مگر بے معنویت نہیں، حالات کی تلخی ہے ، مگر ارادے کی شکست نہیں۔ ان کے ہاں مصیبت انسان کو توڑنے کے بجاے اس کے اندر چھپی ہوئی قوت کو بیدار کرنے کا وسیلہ بھی بن سکتی ہے۔ یہ رویہ ان کی شاعری کو محض شکوہئ زمانہ بننے سے بچاتا ہے اور اسے ایک مثبت، مزاحمتی اور خود آگہی کا منفرد شعری لہجہ عطا کرتا ہے۔اشرف جاوید کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہی ہے کہ وہ روایت کے فنی اصولوں سے وابستہ رہتے ہوئے اپنے عہد کی نبض بھی محسوس کرتے ہیں۔ وہ بحور و اوزان کے پابند شاعر ہیں ، مگر ان کی فکر جامد نہیں، وہ قافیہ و ردیف کی نزاکت سے واقف ہیں ، مگر موضوعات کو مصنوعی حدود میں قید نہیں کرتے، وہ لفظ کی حرمت جانتے ہیں ، مگر لفظ کو محض آرایش نہیں بناتے۔ ان کے ہاں لفظ معنی کی طرف لے جاتا ہے، معنی فکر کی طرف اور فکر قاری کو خود اس کے اندر موجود سوالوں تک پہنچاتی ہے۔ یہی ایک پختہ کار اور جدید عہد کے شاعر کی شناخت ہے۔مجھے یقین ہے کہ ”پیمان سے خالی شام“ اردو شاعری کے موجودہ منظرنامے میں ایک قابل توجہ اضافہ ثابت ہوگی۔ یہ کتاب صرف اشرف جاوید کے مداحوں کے لیے نہیں ، بل کہ ان قارئین کے لیے بھی اہم ہے ، جو شاعری میں محض رومان نہیں ، بل کہ اپنے عہد کی آواز، حالات، انسانی وجود کے متعلق روزانہ ابھرتے سوالات، کائنات کے حیرتوں سے لبریز راز، خود شناسی کا سفر اور مشکلات کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ تلاش کرتے ہیں۔ اس مجموعے میں شاعر کی فنی ریاضت، فکری پختگی اور تخلیقی انفرادیت ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اشرف جاوید کو اس خوب صورت ادبی کاوش پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد۔ دعا ہے کہ ان کا قلم اسی توانائی، فکری گہرائی اور تخلیقی وقار کے ساتھ رواں دواں رہے، ان کی لفظی دنیا مزید وسیع ہو، وہ اسی طرح مصرعوں کے سیپ میں سے انمول ہیروں جیسے اشعار اچھالتے رہیں۔ ان کا شعری افق مزید تابناک ہو کر ابھرے اور وہ اردو ادب کے دامن کو اپنی تخلیقات، تحقیقات اور فکری کاوشوں سے اسی طرح ثروت مند کرتے رہیں۔ ”پیمان سے خالی شام“ کے لیے نیک تمنائیں، صاحب کتاب کے لیے خلوص بھرا سلام، اور اہل ادب کے لیے ایک ایسی کتاب کی آمد مبارک جو لفظ سے آگے بڑھ کر فکر کے افلاک تخلیق کر رہی ہے۔ آئیے ان کے چنیدہ بہترین اشعار سے لطف اندوز ہوتے ہیںکتاب کی ابتدا حمد و نعت سے کی گئی ہے۔ اس سے اشرف جاوید کی اپنے رب کریم اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت اور بے پناہ محبت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔
ہو لامکان، مکاں ہو، ٹھکانے اسی کے ہیں
دیر و حرم اسی کے، زمانے اسی کے ہیں
ہے کون کتنے پانی میں ، ادراک ہے اسے
منکر نکیر، آئینہ خانے اسی کے ہیں
مانگتا اور کیا مدینے میں
مل گیا جب خدا مدینے میں
اپ کے پاو¿ں چھو کے ہوتی گئی
خاک، خاک شفا مدینے میں
اڑتی پھرتی، درود پڑھتی ہوئی
کتنی خوش نصیب ہے ہوا مدینے میں
ان کی شاعری سے ان کی ذات میں موجزن ایک مثبت، پاکیزہ اور بے ضرر فکر کی عکاسی ہوتی ہے، ساتھ ہی وہ ایک طاقت ور فوج کے مانند جری ارادوں اور مضبوط کردار کے حامل انسان بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے اندر اتنا حوصلہ ہے کہ دریا کے مدوجزر کے مقابل سینہ تان کر ثابت قدم کھڑے رہیں۔ وہ اپنے خالق سے دعا کرتے ہیں کہ ان کے اندر بھڑکتی ہوئی آگ کو آتش نمرود کی طرح گلزار بنا دے، اور اگر ایسا مقدر میں نہیں تو پھر اسی آگ کو اتنی شدت عطا کر دے کہ وہ خود اس میں جل کر راکھ ہو جائیں، مگر اپنے مقصد، اپنے عشق اور اپنے عہد سے پیچھے نہ ہٹیں:
یا مری آگ کو بھڑکا کہ مجھے راکھ کرے
یا مری آگ کو بھی صورت۔گلزار بنا
گویا عشق میں انتہاے کمال کے سوا وہ کسی مقام کو مقام ہی نہیں مانتے، ان کی نگاہ میں منزل کمال کے علاوہ ہر درجہ و مرتبہ بے معنی و بے وقعت ہے۔ یہی وہ بے قراری، یہی وہ وارفتگی اور یہی وہ عزم مسلسل ہے ، جو ان کے باطن میں موجزن عشق کے جواہر کی گہرائی اور تابندگی کا پتا دیتا ہے۔وہ بقا کی جنگ صرف لڑتے نہیں، ہر دم، ہر قدم اسے جیتنے کے عزم کے ساتھ لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ عدو سامنے ہو یا حالات کا طوفان، راستہ دشوار ہو یا آگ کا امتحان، ان کے قدم ڈگمگاتے نہیں۔ ان کے لیے شکست صرف جسم کا گر جانا نہیں، بل کہ عشق کے عہد سے پیچھے ہٹ جانا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی ذات سے بلند ہو کر اپنے مقصد کو محور طواف بنا لیتے ہیں:
اپنے مفتوحہ علاقے نہیں کرتا برباد
ہر جگہ جزیہ و تاوان کھلا رکھتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملا تو سکتا ہوں دونوں کنارے آپس میں
شکستہ ناو¿ میں دریا اٹھانا پڑتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یا مری آگ کو بھڑکا کہ مجھے راکھ کرے
یا مری آگ کو بھی صورت گل زار بنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مظلوم کے ہونٹوں پر دعائیں ہیں کہ اہیں
ہاتھوں میں ہے تسبیح کہ اشکوں کی لڑی ہے
برسوں سے چلا آتا ہوں مصروف عدو سے
یہ جنگ بقا کی ہے ، سو ، ہر گام لڑی ہے
شعری کائنات میں استعاروں کا حسن اس تاج۔شاہی میں جڑے نایاب ہیرے کے مانند ہوتا ہے ، جو پورے تاج کی آب و تاب کو دوبالا کر دیتا ہے۔ اشرف جاوید کا راسخ قلم بھی استعاروں کو نہایت سلیقے، ندرت اور جمالیاتی قرینے سے برتتا ہے۔ خصوصاً „خزاں کی انگلی پکڑ کر چل پڑیں گے برگ و گل“ جیسی ترکیب محض الفاظ کا حسن نہیں، بل کہ ایک مکمل شعری منظرنامہ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، گویا شاعر نے خزاں کو ایک جیتی جاگتی ہستی بنا دیا ہے اور برگ و گل اس کی انگلی تھام کر گلشن کے آنگن کو خیر آباد کہتے تمام لطافتوں، رنگینیوں کو ہمراہ لیے رخصت ہو رہے ہوں۔ ایسے لگتا ہے ، وہ قاری کو موسم، کیفیت اور احساس کی ایک نئی دنیا کے دریچوں میں لے گیا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں استعارہ محض آرایش سخن نہیں رہتا ، بل کہ شعر کی روح بن جاتا ہے:
تھام کر انگلی خزاں کی چل پڑیں گے برگ و گل
پیڑ بھی رہ جائے گا ان کو بلاتا ، دیکھنا!
جاگ اٹھے گی محبت بھی مرے جانے کے بعد
پھر اسے سر پھوڑتا، روتا، رلاتا دیکھنا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زور آور تھی بہت اس کی حکومت
اپنے ہی نشے میں برباد گری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشاق ہیں پھرتے ہیں فقط دید کی خاطر
کشکول کے لب پر کوئی حاجت بھی نہیں ہے
میں اپنی وفاو¿ں کی سزا کاٹ رہا ہوں
سر فخر سے اونچا ہے ، ندامت بھی نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساری محفل میں نکلتا ہوا سر میرا تھا
کتنا اتراتا تھا وہ صاحب۔دستار بنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مانگے کے چراغوں سے چراغاں نہیں ہوتا
اور اپنا جلانے کی سہولت بھی نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہاں تو کوئی مسیحا نہیں ہے نبض شناس
یہاں تو روگ بھی خود ہی بتانا پڑتا ہے
کبھی گھروں میں پرندے بھی گھر بناتے تھے
اب ان کے واسطے پنجرہ بنانا پڑتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جھانک لیتا ہوں ، تو اس جاتی ہے اوقات نظر!
اس لیے اپنا گریباں کھلا رکھتا ہوں
عجب کیفیت ہے ، جو ورق الٹتا ہوں، جو غزل زیر قرآت آتی ہے، وہ محض غزل نہیں رہتی، یکایک فکری تحیر کے ایک ایسے آسمان میں بدل جاتی ہے ، جہاں ہر شعر ایک نیا ستارہ بن کر نمودار ہوتا ہے اور قاری دیر تک اس کی روشنی میں اپنے ہی خیال کے محل کی نئی سمتیں، راہ داریاں تلاش کرنے لگتا ہے۔ اسی دل نشیں کیفیت کے دو خوب صورت حوالے آپ کے سامنے رکھتا ہوں:
عشق میں تخت شہی خیرات کرنا پڑ گیا
کاسہ بھر پایا نہیں خالی خزانے ہو گئے
سانحے کیا وقت کے ہاتھوں نہ جانے ہو گئے
زخم تازہ ہی رہے اور غم پرانے ہو گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برابر کے مجرم ہیں شیخ و برہمن
سو ، دونوں کو گھر سے نکالا ہوا ہے
رعایا کے حصے کا تھا رزق جو بھی
وہ شاہوں کے منھ کا نوالا ہوا ہے
بہت دور تک دیکھنے سے کھلا ہے
فلک بھی زمیں نے سنبھالا ہوا ہے
کہیں کہیں وہ خود احتسابی میں بڑا سفاک انداز اختیار کرتے نظر آتے ہیں:
میرے احباب جسے کار۔سخن کہتے ہیں
محض لفظوں کی جگالی بھی تو ہو سکتی ہے
"پیمان سے خالی شام ” کی غزل نہ صرف جدید اردو غزل کے خدوخال متعین کرتی ہے ، بل کہ نئے لکھنے والوں کی راہنمائی کا فریضہ بھی انجام دیتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اشرف جاوید کی غزل شعری ادب کا حوالا بھی رہے گی اور سرمایہ و افتخار بھی۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے