پاکستان کی منزل کس طرف ؟
چوہدری عبدالرزاق ایڈووکیٹ
ہمارے ملک کی موجودہ صورت حال خصوصاً سیاسی اور معاشی اہلِ عقل و دانش کے لیے سوچ و فکر کی متقاضی ہے کہ ہم ملک خداداد کے ہر شعبہ میں دیگر اقوامِ عالم کے مقابلے میں کہاں کھڑے ہیں۔ ہمارے اسلاف مسلمان ہونے کے ناطے کیا تھے اور ہم کیا ہیں؟ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک تکمیلِ پاکستان کے اغراض و مقاصد میں ہم کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ اگر کامیاب نہیں ہوئے تو پھر ذمہ دار کون ہے کیا آج تک کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟ کسی ملک کی ترقی اور کامیابی میں کون سے عوامل درکار ہیں اور کیا ایسے عوامل کو ہم بروئے کار لارہے ہیں؟ آو¿ مل کر تلاش کریں!صبحِ ازل سے تاریخ اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کی داستان کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہوتا۔ اس کے ذمہ دار قوموں کے افراد ہوتے ہیں جو اپنے کردار و عمل سے قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔ جو اربابِ اختیار کی زیادہ ذمہ داری ہے۔ تاریخ کی ورق گردانی سے ظاہر ہوتا ہے بلکہ حقیقت ہے کہ ایک قوم جو کبھی دنیا کی عظیم طاقت تھی ایک وقت ایسا آیا کہ وہ نیست و نابود ہوگئی اور اس کا کہیں نام تک نہ رہا۔ اور ایک قوم جس کا کہیں نام نہ تھا وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کی عظیم طاقت بن کر عروج حاصل کرگئی۔ مثال کے طور پر ایک وقت سلطنتِ انگلستان اتنی وسیع تھی کہ اس سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتاتھا۔ کسی وقت مسلمانوں کا طوطی بولتا تھا جو وسیع سلطنت کے حکمران تھے۔ مگر آج مسلمان زوال پذیر ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ بطور قوم ہم اس کے ذمہ دار ہیں اور خصوصی طور پر اربابِ اختیار۔ بس اس وقت ایک ایسے رہبر و رہنما کی ضرورت ہے جو ملک اور قوم کی تقدیر بدل دے۔ایک عیسائی ادیب نے اپنی ایک تصنیف میں دنیا کے ایک سو رہنماو¿ں کے بارے لکھتے وقت ہمارے نبی خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کو فضیلت میں پہلے نمبر پر مقام دیا۔ اس تصنیف کی رونمائی کی تقریب میں لوگوں نے اعتراض اٹھایا کہ ان کی اپنی قوم میں بڑے بڑے عظیم رہنما ہوئے ہیں جن میں سے کسی کوبھی پہلے نمبر پر مقام دیا جاسکتا تھا۔ جس اعتراض کو جھٹلاتے ہوئے مصنف نے اپنا نقطہءنظر یوں پیش کرکے لوگوں کو خاموش کرادیا کہ حضرت محمد ﷺ اعلانِ نبوت کے وقت صرف تنہا تھے۔ ان کا کوئی پیروکار نہ تھا۔اعلانِ نبوت کے وقت صرف ایک بچے اور ایک خاتون نے ان کی تائید کی اور بعد میں ایک مرد اور ایک غلام نے۔ اس عیسائی مصنف نے آپ ﷺ کو پہلے نمبر پر مقام دینے کے لیے مزید اعلان کیا کہ جھوٹ دیرپا نہیں چلتا۔ اگر حضرت محمد ﷺ کا مو¿قف جھوٹ پر مبنی ہوتا تو یہ مو¿قف 1400 سال نہ چلتا۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ دن بدن ان کے پیروکاروں میں اضافہ ہوتا رہااور وہ غربت سے ایک عظیم سلطنت کے شہنشاہ بن گئے اور 1400سال گزرنے کے باوجود ان کے بعد بھی ان کے پیروکاروں میں اضافہ ہوتا چلا آرہا ہے۔ باوجود ان کی زندگی میں مخالفت کی تمام مشکلات، تکلیفوں اور رکاوٹوں کے ایک وسیع سلطنت قائم کی۔ اس لیے ان کو دنیا کے تمام رہنماو¿ں میں پہلے نمبر پر مقام دیا گیاہے۔ اسی طرح ایک غیر مسلم رہنما ھینری ھینڈ مین نے آپﷺ کے متعلق فرمایا کہ ”محمدﷺ ایسے لیڈر تھے کہ جن کے نزدیک ا±ن کا اور ایک آدمی کا سٹیٹس ایک جیسا تھا۔ انہوں نے کبھی خود اپنی ذات کو مالی مفاد سے نہیں نوازا۔ یہی وجہ تھی کہ لوگوں نے ان کا تب ساتھ دیا جب و غربت کی زندگی گزار رہے تھے اور تب بھی ا±ن کے اعتماد کا پیمانہ وہی تھا جب وہ ایک عظیم سلطنت کے شہنشاہ تھے“۔یہ ہے غیر مسلموں کی رائے آپ ﷺ اور ان کی سلطنت کے متعلق۔ مقامِ سوچ و فکر ہے کہ ہم آپﷺ کے ا±متی اور پیروکارہوتے ہوئے آج کہا ں کھڑے ہیں؟ دیگر غیر مسلم اقوامِ عالم کے مقابلے میں ملّتِ اسلامیہ کا کیا مقام ہے؟ گردشِ ایام کے تغیرات کے پیشِ نظر ہم غیر مسلم اقوام ِ عالم میں کمزور و ناتواں ہوکر زوال پذیر ہورہے ہیں اور اِن غیر مسلم اقوام کی سیاست کی چالبازیوں سے ایسی گروہی سیاست میں پھنس کر ان طاقتوں کے رحم و کرم پر ان کے تسلط کے زیر اثر اپنے آپ کو بے یار و مددگار قائم رکھے ہوئے ہیں۔غیر مسلم طاقتوں نے ملّتِ اسلامیہ کو ایسی گروہ بندی کے چنگل میں پھنسایا ہوا ہے کہ آپس میں دست و گریباں ہورہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا دین ایک، ضابطہ حیات قرآن مجید ایک، ہمارے نبی رہبرِ انسانیت حضرت محمدﷺ ایک جو ملّتِ اسلامیہ کے معمار ہیں۔رہبرِ انسانیت کے اسوہءحسنہ سے مستفیض ہوکر ملّتِ اسلامیہ کو یکجاکرنے کی بجائے کیوں آپس میں بٹے ہوئے ہیں۔ملّتِ اسلامیہ ہونے کی حیثیت میں اجتماعی طور پر ہم ایک کیوں نہیں ہوتے۔ نبی مکرمﷺ کی قائم کردہ سلطنتِ مدینہ کی طرح زندگی گزارنے کی طرف کیوں نہیں لوٹتے۔ خدائے بزرگ و برتر کے کلام قرآن مجید کی سورہ نمبر5آیت نمبر51میں ارشاد ہورہا ہے کہ ”اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناو¿۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے انہیں دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا“۔کیا ہم قرآن مجید میں فرمان خداوندی پر عمل کرتے نظر آرہے ہیں۔ بات یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ ایک غیر مسلم حکومت کے زیر اثر مسلم حکومت سعودی عرب نے ایک تجویز دیتے ہوئے کوشش کی کہ مسلم اور غیر مسلم مذاہب کے پیروکاروں کی سہولت کے لیے مسجد، گرجا اور مندرکی عبادت گاہیں اکٹھی ایک جگہ تعمیر کی جائیں اور اس حکومت نے اس کا نام حضرت ابراہیمؑ کے نام سے منسوب کیا۔اہلِ عقل و دانش غور فرمائیں کہ اس حکومت کی اس کوشش کے پیچھے کون سے عوامل کام کررہے تھے۔ کیا ایسے اقدام خدائے بزرگ و برتر کی ہدایات اور خاتم الانبیاءحضرت محمد ﷺ کے فرمان کے مطابق ہیں یا خلاف؟ یقینا خلا ف ہیں۔کیا ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ غیر مسلم اقوام کو اپنی طاقت کے بل بوتے پر مختلف مسلم ممالک کو زیرِ اثر لاکر آپس میں گروہ بندی پر اکسائے ہوئے ہیں۔ کہیں فرقہ بندی کی گھناو¿نی سازش کی گئی ہے اور کہیں اپنی طاقت کے نشے میں امداد کے بہانے ملّتِ اسلامیہ کو اپنے زیرِ اثرکر رکھا ہے اور ملّتِ اسلامیہ متحد نہ ہورہی ہے اور غیر مسلم اقوام کی یہ چال سمجھنے سے قاصر ہے۔ غیر مسلم اقوام یہ جانتی ہیں کہ ملّتِ اسلامیہ کے متحدہونے کی صورت میں رہبر انسانیت حضرت محمد ﷺ کا دور سلطنت مدینہ کی شکل میں لوٹ آئے گا۔ ہم بھی غیر مسلم اقوام کی اس سیاست کی کشتی میں سوار ہیں۔مذکورہ بالا حالات کے پیش نظر اسلام کے نام پر قائم پاکستان کے ابتدا سے آج تک کے حالات کا جائزہ لیا جائے اور معلوم کیا جائے کہ ہم کس حد تک اپنے مقاصدمیں اجتماعی طور پر کامیاب ہوئے ہیں۔ کیا ہم نے خدائے بزرگ و برتر کی ہدایات اور خاتم الانبیائﷺکے اسوہءحسنہ کے مطابق عمل کیا ہے؟ اور کیا ہم اس راہِ عمل پر قائم ہیں؟ کیاہمارے کردار و عمل میں نقائص اور کمزوریاں تو نہیں پائی جاتیں؟ اور ان امور میں اربابِ اختیار کا کیا رویہ ہے؟ اور اس بارے مذہبی اور سیاسی جماعتیں کیا کارہائے نمایاں سر انجام دے رہی ہیں؟ان حالات کے بارے جائزہ لینے کے لیے قیامِ پاکستان سے آج تک کے دور کو دو حصوں میں تقسیم کرکے غور کیا جائے کہ ہم نے کب اور کس طرح کیا کھویاکیا پایا۔ ایک دور قیامِ پاکستان سے صدر جنرل محمد ایوب خان کے دورِ حکومت تک اور دوسرا دو ر صدر جنرل محمد ایوب خان کے دورِ حکومت سے آج تک کا دور۔قیامِ پاکستان کے وقت ملک کا انتظام و انصرام چلانے کے وسائل انتہائی محدود تھے۔ ہمیں دفتروں میں pinsکاغذات نتھی کرنے کے لیے دستیاب نہ تھیں اورکیکر کے درخت کی سوئیوں سے کاغذات نتھی کیے جاتے تھے۔ پاکستان کے وزیر اعظم کے وفد کا غیر ملکی پہلا دورہ امریکہ کی دعوت پر کیا گیا۔ جہاں وزیر اعظم کو آسان اقساط پر قرضہ کی پیشکش کی گئی مگر قرضہ نہ لیا گیا۔ اس طرح صدر جنرل محمد ایوب خان کے دورِ حکومت تک ہمارے ملک پر قرضہ کی ایک پائی بھی نہ تھی۔ اس پہلے دور میں ہم نے مختلف شعبوں میں بغیر کسی قرض کے ترقی کی بڑی حد تک منازل طے کیں۔ قیام ِ پاکستان کے وقت ہمارے ملک میں چینی کا ایک کارخانہ راہوالی پنجاب میں تھااور پنجاب میں ہی دو ٹیکسٹائل ملز اوکاڑہ اور فیصل آباد (لائل پور) میں تھیں۔ بغیر کسی قرضہ کے ہم نے دریاو¿ں پر مختلف ڈیم تعمیر کرکے ملک میں نہروں کا جال بچھا کر غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے کے وسائل مہیا کیے۔ یہ نہری نظام دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے جس سے زراعت میں غیر معمولی ترقی ہوئی۔ بے شمار چینی کے کارخانے اور ٹیکسٹائل ملیں لگیں اور صنعتوں میں اضافہ ہوا جس سے برآمدات کے وسائل میسر آئے۔ کپڑا، کاٹن، چینی، گندم، چاول، دالیں وغیرہ اور مشرقی پاکستان سے پٹ سن برآمد کی جانے لگی اور اس دوران پاکستان کئی ممالک کو قرضہ بھی دیتا رہااور ہمارے معاشی حالات بہتر ہونا شروع ہوگئے۔ جب کہ دوسرے دور میں ہم نے صدر جنرل محمد ایوب خان کے دورِ حکومت میں قرض لینا شروع کیا تو ہم معاشی طور پر بدحال ہوتے چلے گئے اور دن بدن ہم قرض لیے جارہے ہیں۔ اس دور میں ہم انتہائی کوششوں کے باوجود چاہتے ہوئے بھی ایک ڈیم بھی تعمیر نہیں کرسکے۔ جس سے ہر سال سیلابوں سے دوچار ہوکر ناقابل تلافی نقصان اٹھار ہے ہیں۔سال1999 ء میں آواری ہوٹل میں جناب خالد انور صاحب ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان وفاقی وزیر قانون نے اپنے والد محترم چوہدری محمد علی صاحب سابق وزیر اعظم پاکستان کی برسی کا اہتمام کیا جس میں مہمان خصوصی ا±س وقت کے صدرِ پاکستان جناب محمد رفیق تارڑ صاحب تھے۔ اس میں مدعو ہونے کے ناطے میں بھی موجود تھا۔ مہمان خصوصی صدرِ پاکستان نے اپنے خطاب میں چوہدری محمد علی صاحب کے حوالے سے انکشاف کیا کہ چوہدری صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جس ملک کے ہم مقروض ہوں گے ہم اپنا قانون اور پالیسیاں ایسی نہیں بنا سکتے جو ا±س ملک پر اثر انداز ہوں اور اس کے خلاف ہوں اور آج قرضہ کی وجہ سے IMF ہمارے قوانین اور پالیسیوں پر اثر انداز ہورہی ہے اور یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ مقروض ممالک کی معیشت قرضوں کی وجہ سے تباہ ہوجاتی ہے کیوں کہ شرائط کے مطابق اکثر قرضہ جاتNon-Productiveہوتے ہیں جیسا کہ ہمارے قرضہ جات ہیں۔ مہمان خصوصی کچھ عرصہ بعد ہی عہدہءصدارت سے سبکدوش ہوگئے۔ایک قوم کی حیثیت سے ہمارے ملک کے حالات اس وقت ہمارے لیے لمحہءفکریہ ہیں۔ ہمارے حالات خصوصاً سیاسی اور معاشی ابتر ہیں۔ ہمارے صنعتی حالات بھی غیر تسلی بخش ہیں۔ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے صنعتکاروں نے اپنی صنعتوں کا رخ بنگلہ دیش اور دوبئی موڑ دیا ہے جہاں صنعتیں قائم کرلی ہیں اور سرمایہ دار اپنا سرمایہ غیر ممالک منتقل کرتے جارہے ہیں اور اربابِ اختیار اپنے فرائضِ منصبی سے غافل ہیں۔ جنگ دوسرے ملکوں کی ہے جس کا بہانہ بنا کر ضروریاتِ زندگی کے نرخ بڑھائے جا کر لوگوں کے رہن سہن کو دن بدن دشوار کیا جا رہا ہے۔ ہمارے ملک کی نام نہاد مذہبی اورسیاسی جماعتیں جو انتخابات کے وقت قوم کا درد ہونے کا پرچار کرتی ہیں اور عوام کی خدمت گزاری کے نعرے لگاتی نظر آتی ہیں اس معاملے میں خاموش ہیں۔ ملک کی اس حالت کے پیشِ نظر قوم کا درد رکھنے والے اہلِ علم و دانش، اخبارات، جرائد اور مختلف طریقوں سے اپنا نقطہءنظر پیش کرتے رہتے ہیں مگر اربابِ اختیار ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اربابِ اختیار کو سوچنا چاہیے کہ آج اقوامِ عالم میں ہم کہاں کھڑے ہیں اور امتِ مسلم ہونے کے ناطے لا الٰہ کے نام پر حاصل کیے گئے ملکِ خداداد میں کیا ہم سلطنتِ مدینہ کی طرح کوئی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ایسی حکومت جس میں اسلامی نظام ہو۔ اگر نہیں تو پھر ہم ایسے اسلامی نظام پر مبنی حکومت قائم کیوں نہیں کرتے؟ قوموں کے عروج و زوال کی داستاں کو مدِ نظر رکھ کر اپنی اصلاح کیوں نہیں کرتے۔ ایسے اقدامات کیوں نہیں کرتے جس سے سلطنتِ مدینہ جیسا دور لوٹ آئے۔ہم غیر مسلم اقوام کے تسلط سے چھٹکارا حاصل کرکے آزاد پالیسی اختیار کیوں نہیں کرتے۔ ہم ایک آزاد اسلامی ملک اور قوم کی حیثیت سے اپنے دلوں میں جذبہءایمانی بصورت جذبہءجہاد پیدا کیوں نہیں کرتے؟جہاں اربابِ اختیار ملک کی اس حالتِ زار کے ذمہ دار ہیں وہاں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ اہلِ علم و دانش اور عوام پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایک قوم کے افراد ہونے کی حیثیت سے ان کوتاہیوں اور کمزوریوں کے بارے اربابِ اختیار کو آمادہ کریں کہ وہ اس حالتِ زار سے ملک اورقوم کو نکالیں جس کا راستہ صرف اور صرف اسلامی نظام ہے۔ کچھ اہلِ عقل و دانش ملک کے موجودہ حالات دیکھ کر مایوس بھی ہوجاتے ہں مگر میں مایوس نہیں ہوں کیونکہ ابھی کچھ لوگ اپنے کردار و عمل سے ملک اور قوم کی ترقی اور بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں اوراس بارے جماعت اسلامی کے کردار کو بھی اکثر عوامی حلقوں میں سراہا جارہا ہے جو کہ اکثر غلط اور عوامی مفادات کے خلاف پالیسیوں کی نشان دہی کرکے میدانِ کارزار میں عمل پیرا رہتی ہے اور اپنے کردار و عمل سے ملک اور قوم کی رہنمائی میں عملی طور پر جدوجہد میں شریک نظر آتی ہے۔ قوم ملک کی موجودہ حالتِ زار کے پیشِ نظر اس کی وجوہات جاننے کے لیے ذہنی طور پر متفکر ہے اور میری نگاہیں ندامت کا سامنا کررہی ہیں کہ لاالٰہ کے نام پر حاصل کیے گئے ملکِ خداداد میں ہم اس طویل عرصے میں اس کے مقاصدکی تکمیل میں کامیاب کیوں نہیں ہوسکے جن مقاصد کی تکمیل میں ملک معرضِ وجود میں آیا تھا۔ جب ہماری ساری قوم نعرہ لگا رہی تھی کہ ”پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ“۔ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہم محبوبِ خدائے بزرگ و برتر حضرت محمد ﷺ کے امتی ہونے کے ناطے اشرف المخلوقات ہیں اور خدائے بزرگ و برتر کے اس ارضِ پاک پر نمائندے ہیں اور غیر مسلم اقوام سے بہتر اور افضل ہیں مگر اس ارضِ پاک پر سلطنتِ مدینہ جیسی اسلامی نظام پر مبنی حکومت قائم نہیں کرتے۔ ان مقاصد کی تکمیل میں ہماری سیاست کیوں آڑے آرہی ہے۔ اس کے لیے ہماری کیا جدوجہد ہے اور کیا کردار و عمل ہے؟ کردار و عمل سے تو تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ بس یہی سوچ و فکر کا مقام ہے جو قابلِ توجہ ہے۔ اربابِ اختیار ہوش کے ناخن لیں اور قوم کو لولی پاپ نہ دیں۔ آو¿ مل کر اجتماعی حیثیت میں ایسا کردار و عمل اپنائیں کہ قوم کی تقدیر بدل جائے اور پاکستان منزل کی طرف رواں دواں ہوسکے۔ ورنہ ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔





