#کالم

شہزادی کا واویلا

Untitled 14

ناصرنقوی

ماضی میں جھا نکیں تو یاد آ ئے گا کہ سرکاری ریڈیو ،ٹی وی پر ایک پبلک سروس میسج ،،چلتا تھا کہ پانی نعمت رب الجلیل ہے اس ضائع نہ کریں لیکن اب ایسی باتیں دیکھنے اور سننے کو نہیں ملتیں، اس لیے کہ زمانہ کچھ زیادہ ہی کاروباری ہو گیا ہے پھر بھی ہماری ایک پرانی قاری شہزادی صاحبہ کا فون آ یا اور بعد سلام و دعا مسلسل بولتی رہیں کہ آ پ اور آ پ جیسے بہت کچھ لکھتے ہیں لیکن اصل حقائق اور مسائل پر توجہ نہیں دیتے ،پانی زندگی ہے اور رحمت باراں نظام قدرت ہی نہیں ،زندگی کے لیے خوبصورت تحفہ بھی ھے عالمی شور برپا تھا قومی ادارے بھی آ گاہی دے رہے تھے کہ سال گزشتہ کے مقابلے میں امسال بارشیں زیادہ ہوں گی، حکومتوں نے انتظامات بھی کیے لیکن معاملہ گڑبڑ ہو گیا سب تہس نہس ہی نہیں، مالی جانی نقصان بھی ہوا مال مویشی اور درجنوں دیہات بہہ گئے، ہزاروں خاندانوں کو نقل مکانی بھی کرنی پڑی ایسے میں بھی اکثر لوگ تماشائی بنے رہے کون پوچھے گا کیوں؟ ہمارے دشمن بھارت نے چھوٹے بڑے ڈیم بنا لیے ہم صرف ابھی تک سوچ رہے ہیں اس نے عالمی قوانین کے خلاف ورزی کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے سے بھی بغاوت کر دی ،عالمی عدالت نے اس کے خلاف فیصلہ بھی دے دیا لیکن کیا بھارتی آ بی دہشت گردی ختم ہو گئی نہیں، اس لیے کہ ہماری سیاسی قیادت نے مضبوط موقف رکھتے ہوئے بھی منہ توڑ جواب نہیں دیا، ریاست پاکستان کے اہم ترین ڈیم آ مرانہ حکومتوں میں عسکری قیادت نے بنائے اور ملک کی تقدیر بدلنے والا کالا باغ ڈیم،، سیاسی حکومتوں کی غیر سنجیدگی اور سیاسی علاقائی اختلافات کی بھینٹ چڑھ گیا بلکہ وہاں موجود قیمتی مشینری بھی مٹی میں مل کر مٹی ہو گئی، اس سے بڑا قومی نقصان اور کیا ہوگا؟ پھر بھی ہم اور ہمارے رہنما ہڈ دھرمی اور ضد میں ایک دوسرے کو اجتماعی مفاد میں قائل نہیں کر سکے ،اگر موجودہ حالات کو خوش قسمتی سمجھیں کہ لنگڑی لولی جمہوریت میں بھی سیاسی اور عسکری قیادت ہم آ ہنگ دکھائی دیتی ہے قومی اجتماعی مفاد میں اسے یہ بات سمجھ آ جائے کہ پانی روکو اور پاکستان بچاو¿،، جو آ نے والی نسلیں ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کریں گی اب تک کی حکومتی نا اہلیوں سے بارش کم ہو یا زیادہ باعث زحمت،، ہی بنتی ہے ہم عادی ہو چکے ہیں کہ مون سون ،، بارشوں سے پہلے ہائی الرٹ جاری کر کے اہم اقدامات کے دعوے ہوں اور پھر انتظامات ناکام ہو جائیں تو الزام بارش پر ڈال کر بری الذمہ کہ بارش توقعات سے زیادہ ہو گئیں پھر آ ہ بھری اور شہزادی صاحبہ تھوڑے سے تلخ اور دکھی لہجے میں بولیں رحمت باراں،، کو سنبھالنے کے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے جا رہے ،برسوں کا پانی ضائع کیا جا رہا ہے، بارش ہوتی ہے اور غریبوں کے بسیرے بہا لے جاتی ہے پھر متاثرین کی بحالی کا کام شروع کیا جاتا ہے ابھی مکمل بھی نہیں ہو پاتا کہ نیا سیزن بارشوں کا شروع ہو جاتا ہے، کاش۔۔ کوئی اللہ کی اس نعمت کا قدردان پیدا ہو جائے اور صرف نعرہ نہ لگائے پانی روکو، پاکستان بچاو¿ ،،بلکہ ایسے احسن اقدامات بھی کرے کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ بھی ہو سکے پھر کہنے لگیں۔۔ آ پ لوگوں کے ہاتھ میں قلم و کیمرہ ہے اپنی طاقت کو مثبت انداز میں آ زمائیں اللہ کوئی نہ کوئی سبب ضرور نکال دے گا ۔ میں نے کہا ہمارے ساتھ ساتھ آ پ جیسی لیجنڈری شخصیات کی ذمہ داری بھی تو ہے؟۔ غصے میں بولیں۔۔ ہم گزرا ہوا کل ہیں، سب کچھ چھوڑ کر مالک سے پاکستان اور پاکستانیوں کی خیر مانگتے ہیں ماضی تو کتابوں میں دفن ہو چکا ہے لیکن گوگل اور وکی پیڈیا ،،کی زینت ضرور ہے وہاں ڈھونڈنا پڑتا ہے ریسرچ کرنی پڑتی ہے، مسلمان جتنا تحقیق و ایجادات میں سب سے آ گے تھا اتنے ہی ہم پیچھے ہو چکے ہیں، ذرا سوچیں۔۔۔ پاکستان میں زراعت، گندم، گنا ،چنا، سبزیاں، پھل معدنیات کیا نہیں، اس دھرتی کے سینے میں؟ پھر بھی ہم غریب اور ترقی پذیرملک، پہلی اسلامی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی ریاست ہیں، دشمنوں کی آ نکھوں میں آ نکھیں ڈال کر جینا سیکھا، باصلاحیت سائنسدانوں اور ھنر مندوں نے اپنے کارناموں سے دنیا کو وطیرہ حیرت میں مبتلا کر دیا لیکن کسی کو خیال نہیں کہ پانی زندگی ھے میٹھا پانی گلیوں اور بازاروں میں گاڑیاں دھو کر ضائع کر رہے ہیں اس کی قیمت متحدہ عرب امارات اور دیگر ان ممالک سے پوچھیں جہاں پینے کے لیے پانی اور ریگستانوں کو آ باد کرنے کے لیے ہزاروں جتن کرنے پڑتے ہیں ذرا اندازہ لگائیں کہ لوگ بارش اور پانی کو ترستے ہیں اور ہم غربت میں میسر پانی کا بلا سوچے سمجھے نقصان کر رہے ہیں پھر اچانک جذباتی ہو گئیں، بولیں۔۔ ہم آ ج ہیں کل نہیں ہوں گے لیکن پاکستان ہمارے بزرگوں کی قربانیوں اور بابائے قوم حضرت قائد اعظم ان کے مخلص ساتھیوں کا ایک تحفہ ہے جو تا قیامت رہے گا اور انشاء اللہ دنیا میں نام کما نے کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کی منازل بھی طے کرے گا ایسے میں افسوسناک بات یہی ہے کہ دشمن بھارت آ بی جارجیت سے پاکستان کو بنجر بنانے کی سازش کر رہا ہے اور ہم حاصل شدہ آ سمانی پانی بھی بے دریغ سمندر برد کر رہے ہیں، حقیقت یہی ہے کہ موجودہ جدید دور میں جینے اور ترقی و خوشحالی کے انداز بدل گئے لہذا پاکستان بچانا ہے اور اسے خواب اقبال و قائد کی تصویر بنانا ہے تو پانی کی قدر کرنی ہوگی، پانی روکو۔۔ قوم کو تباہی اور پاکستان کو دشمن کے سازشوں سے بچاو¿،، اس محترمہ کی حقیقی پہچان میں نے نہیں بتائی کیونکہ وہ اب گوشہ نشینی میں ہیں اور اپنے آ پ کو ماضی کا قصہ قرار دیتی ہیں، کبھی لوگ ان کی ایک جھلک کو بے تاب دکھائی دیتے تھے اور آ ج وہ زندگی کے اس پل،، میں لوگوں کے لیے بے چین اور مضطرب ہیں ان کی نہ نیت پر شک کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے سوالات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے ۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پانی روکو اور پاکستان بچاو¿،، وقت کا اہم تقاضا ہے لیکن یہ خمیازہ ماضی کی حکومتوں کی منصوبہ بندیوں کا قوم بھگت رہی ہے اگر کالا باغ ڈیم ،،سے کسی خاص طبقے، افراد اور سیاست دانوں کو اختلاف تھا تو کوئی نیلا باغ، پیلا باغ ڈیم،، دائیں بائیں مشاورت سے شیڈول کر دیا جاتا ، آ ج اس کے ثمرات قوم کو مل رہے ہوتے لیکن مخالفین اور حمایتی کالا باغ ڈیم،، پر اپنے اپنے موقف پر ڈٹ کر سیاست کرتے رہے اور اہم ترین ڈیم نہیں بن سکا ،حکومتیں آ ئیں، بدلتی رہیں لیکن کسی نے سنجیدہ کوشش نہیں کی ،زبردستی کے صدر پرویز مشرف نے اپنے پہلے 15۔ منٹی خطاب میں قوم کو کالاباغ ڈیم کی خوشخبری سنائی تھی پھر بھی اقتدار کی موج مستی میں مصلحت پسندی کا شکار ہو گئے حالانکہ اگر وہ صدق دل سے چاہتے تو ایک کالا باغ ڈیم نہیں، کئی دوسرے ڈیم بھی بن سکتے تھے، موسمی تبدیلی آ چکی، سیاسی تبدیلی بھی نمایاں ہے، دنیا بھر کے عالمی متعلقہ اداروں نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کا متاثر ترین ملک تسلیم کیا ہے مطلب صاف ظاہر ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اس سال زیادہ بارشیں ہوئیں اور آ ئندہ سال اس سے بھی زیادہ ہوں گی وفاق اور صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے اقدامات بھی کیے لیکن ضرورت اور حالات کے مطابق مثبت نتائج نہیں نکل سکے، ابھی بارشی سلسلہ جاری ہے ملک کے طول و عرض کے نقصانات کا درست اندازہ بھی ناممکن ہے لیکن میری اطلاع کے مطابق گلگت بلتستان کے جیالے وزیراعلی امجد حسین عوامی نقصانات پر سب سے زیادہ پریشان اور بے چین دکھائی دیئے ہیں وہ صرف منہدم مکانات اور پانی کے درمیان کھڑے نظر نہیں آ ئے بلکہ دادرسی کے لیے دشوار گزار راستوں سے بذریعہ موٹر سائیکل اور پیدل متاثرین تک پہنچے یقینا انہیں اس عوام دوستی پر داد دینی ہوگی۔۔ بات مشکل ضرور ہے کہ پانی روکو، اور پاکستان بچاو¿، ناممکن ھرگز نہیں، سیاسی اور عسکری قیادت مشاورت سے سنجیدہ اقدام کریں تو چند سالوں میں یہ مسئلہ مستقبل کے لیے حل نہ بھی ہو سکا تب بھی اپنی حقیقت کے قریب ترضرور پہنچ جائے گا وزارتیں اور حکومتیں وفاق کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھیں، نام کی شہزادی نے مشورہ بادشاہوں والا ہی دیا ہے جو خالصتا عوامی اور قومی مفاد میں ھے اسے بھی مفت سمجھ کر ضائع نہ کیا جائے ورنہ شہزادی کا واویلا،، نہ سنا گیا تو ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں کاکروچ یا شاہین،، جاگ جائیں، پھر جو دھینگا مشتی ،،ہوگی اس کا حساب کون دے گا یہ بھی سوچنا ہوگا؟

شہزادی کا واویلا

17/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے