شفقت اللہ مشتاق: کامیابیوں کی داستان، ایک دردِ دل رکھنے والا انسان، حقوق العباد کا استعارہ اور صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی پر دلی مبارکباد
ڈاکٹر محمد جلال عارف
جو لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ انہیں محبوب رکھے، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے بندوں سے محبت کریں۔۔۔۔کچھ لوگ سرکاری عہدوں پر فائز ہو کر محض اپنے فرائض نمٹاتے ہیں، جبکہ کچھ شخصیات اپنے منصب کو انسانوں کی خدمت، اداروں کی بہتری اور معاشرے میں آسانیاں پیدا کرنے کا ذریعہ بنا لیتی ہیں۔ شفقت اللہ مشتاق بلاشبہ ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی طویل سرکاری زندگی محض ایک کامیاب افسر کی داستان نہیں بلکہ خدمت، وفاداری، معاملہ فہمی، انسان دوستی اور حقوق العباد سے وابستگی کی روشن مثال ہے۔
ان کی سروس کا ایک اہم اور قابلِ ذکر حصہ فیصل آباد میں گزرا، جہاں انہیں مختلف ادوار میں ممتاز انتظامی افسران کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ کمشنر فیصل آباد نسیم نواز کے ساتھ ان کا انتظامی تعلق رہا، جبکہ سابق کمشنر فیصل آباد کیپٹن (ریٹائرڈ) زاہد سعید کے ساتھ بھی انہوں نے کام کیا، جو بعد ازاں چیف سیکرٹری کے منصب تک پہنچے۔ مومن آغا جیسے سخت گیر اور اصول پسند افسر کی کمشنری کے دوران بھی انہوں نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں اور مختلف مزاج رکھنے والے افسران سے قیمتی انتظامی تجربات حاصل کیے۔ طاہر حسین سمیت متعدد افسران کے ساتھ ان کی پیشہ ورانہ رفاقت بھی ان کے وسیع انتظامی تجربے کا حصہ رہی۔
شفقت اللہ مشتاق کی شخصیت کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ وفاداری کو محض کسی شخصیت سے نہیں بلکہ ذمہ داری سے وابستہ سمجھتے ہیں۔ اپنے افسرِ بالا سے وفاداری، اپنی ملازمت سے وفاداری، ریاست سے وفاداری اور سب سے بڑھ کر عوام اور اپنے فرائض سے وفاداری، ان کے نزدیک کامیاب سروس کا بنیادی اصول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی ذمہ داری کو محض فائل نمٹانے کا کام نہیں سمجھتے بلکہ معاملے کی تہہ تک پہنچ کر اسے بہتر انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو جناب نبیل جاوید کے ساتھ ان کا تعلق بھی اسی پیشہ ورانہ وابستگی، اعتماد اور باہمی احترام کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ان کے ماتحت کام کرتے ہوئے شفقت اللہ مشتاق نے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا بلکہ وفاداری، اعتماد اور ادارہ جاتی ذمہ داری کی ایک قابلِ ذکر روایت بھی قائم کی۔ نبیل جاوید صاحب کی سرپرستی اور اعتماد نے بھی ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔ شفقت اللہ مشتاق کے نزدیک اپنے افسرِ بالا کی معاونت دراصل ریاستی ذمہ داری کی ادائیگی ہے، اور یہی سوچ ان کے کام کو محض ملازمت کے بجائے خدمت کا درجہ عطا کرتی ہے۔
راجن پور میں بطور ڈپٹی کمشنر ان کی خدمات ان کی سرکاری زندگی کا ایک نہایت اہم اور مثالی باب ہیں۔ وہاں انہوں نے انتظامی ذمہ داریوں کو محض سرکاری فرائض تک محدود نہیں رکھا بلکہ عام لوگوں کے مسائل کو قریب سے سمجھا اور ان کے حل کے لیے عملی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی راجن پور کے بہت سے لوگ انہیں محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں، ان کے حق میں دعائیں کرتے ہیں اور انہیں ایک مثالی ڈپٹی کمشنر قرار دیتے ہیں۔ راجن پور میں ان کا دورِ خدمت ان کی پوری سروس کے ا±ن ادوار میں شمار ہوتا ہے جہاں ایک افسر نے اپنے عہدے سے بڑھ کر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔
ان کے تعلقات کا دائرہ سرکاری افسران تک محدود نہیں رہا۔ اہلِ علم، دانشوروں، صحافیوں اور سماجی شخصیات کے ساتھ ان کی دیرینہ وابستگیاں ان کی شخصیت کے فکری اور انسانی پہلو کو نمایاں کرتی ہیں۔ معروف صحافی اور دانشور مجیب الرحمن شامی، چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر اقرار احمد خان، اور قومی کالم نگار نعیم مسعود سمیت متعدد اہلِ علم و قلم سے ان کے دیرینہ اور قریبی روابط ہیں۔ یہ تعلقات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ علم، ادب، صحافت اور فکری مباحث سے بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
لیکن شفقت اللہ مشتاق کی اصل پہچان شاید ان کا دردِ دل ہے۔ انہوں نے اپنی سرکاری زندگی میں عام آدمی کے مسائل، محرومیوں اور مشکلات کو قریب سے دیکھا۔ غربت، بے بسی اور انسانی دکھوں نے ان کے دل میں دوسروں کے لیے احساس پیدا کیا۔ اپنے دوستوں، عزیزوں اور جاننے والوں میں کسی کے انتقال کی خبر سنیں تو تعزیت کے لیے اس کے گھر پہنچنا، دعا کرنا اور اہلِ خانہ کے دکھ میں شریک ہونا وہ اپنا اخلاقی فرض سمجھتے ہیں۔ یہی وہ رویہ ہے جو کسی شخصیت کو عہدے سے بلند کرکے لوگوں کے دلوں میں جگہ دیتا ہے۔
وہ دین کا مطالعہ رکھتے ہیں، بزرگانِ دین سے محبت کرتے ہیں اور حقوق العباد کو زندگی کا اہم اصول سمجھتے ہیں۔ ضرورت مندوں، مستحق افراد اور خصوصاً مشکلات میں گھرے اہلِ قلم کی مدد کرنا ان کی شخصیت کا وہ پہلو ہے جو شاید کسی سرکاری ریکارڈ میں پوری طرح نظر نہ آئے، مگر ان لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ محفوظ رہتا ہے جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا سہارا محسوس کیا۔
میری نظر میں شفقت اللہ مشتاق کی سب سے بڑی کامیابی ان کا عہدہ، مراعات یا سرکاری ذمہ داریاں نہیں بلکہ وہ دعائیں ہیں جو ان لوگوں کے دلوں سے نکلتی ہیں
میری نظر میں شفقت اللہ مشتاق کی سب سے بڑی کامیابی ان کا عہدہ، مراعات یا سرکاری ذمہ داریاں نہیں بلکہ وہ دعائیں ہیں جو ان لوگوں کے دلوں سے نکلتی ہیں جن کے دکھ میں وہ شریک ہوئے، جن کے مسائل حل کیے اور جنہیں مشکل وقت میں سہارا دیا۔ یہی دعائیں دراصل کسی بھی انسان کی حقیقی کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ ہوتی ہیں۔
صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی ان کی طویل خدمات، محنت، دیانت داری، انتظامی صلاحیت اور قومی خدمت کا ایک بڑا اعزاز ہے۔ میں انہیں اس قابلِ قدر قومی اعزاز پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، سلامتی، عزت اور عمرِ خضر عطا فرمائے اور ان کی خدمات، انسان دوستی اور حقوق العباد کی ادائیگی کے جذبے کو مزید وسعت عطا فرمائے۔
ایسی شخصیات عہدوں سے نہیں، کردار سے پہچانی جاتی ہیں؛ اور کردار کی خوشبو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید پھیلتی ہے۔ شفقت اللہ مشتاق کی زندگی اور سروس اسی حقیقت کی ایک خوبصورت مثال ہے کہ انسان اگر اپنے منصب کو خدمت، اپنے تعلقات کو خلوص اور اپنی زندگی کو حقوق العباد کے لیے وقف کر دے تو اس کی اصل میراث لوگوں کی محبت اور دعاو¿ں کی صورت میں باقی رہ جاتی ہے۔






