بدحالی کا شکار صوبائی دارلحکومت لاہور
ملک سلمان
مریم نواز شریف کی یہ خوبی سب سے منفرد ہے کہ وہ ناصرف پنجاب کو جدید سہولیات سے آراستہ کر رہی ہیں۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اسکی قدیم تاریخ کو زندہ رکھنے کیلئے بھی عملی اقدامات کر رہی ہیں۔ خاص طور پر تہذیب و ثقافت کا گہوارہ اور تاریخی اہمیت کے حامل لاہور کی قدیمی حیثیت کی بحالی کے اعلان سے لاہور سے محبت کرنے والے ہر فرد نے اس فیصلے پر شدید خوشی کا اظہار کیا۔ دنیا بھر میں موجود لاہوریوں نے اسے لاہور اور پنجاب کی سیاحت کے فروغ کا نقطہ آغاز قرار دیتے ہوئے قدیم ثقافت کی فوری بحالی پر شکریہ مریم نواز شریف کے بینرز اویزاں کیے۔ ایک طرف مریم نواز شریف لاہور کو دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانے جا رہی ہیں تو دوسری طرف لاہور لاقانونیت کی عملی شکل اور تجاوزات کا اڈا بن چکا ہے۔ پورے پنجاب میں واحد لاہور ہے جہاں رواں سال جنوری، مارچ اور جون میں گٹر میں گرنے سے 3بچوں کی ہلاکت جبکہ درجنوں افراد آئے روز کھلے گٹر اور تجاوزات سے ٹکرانے کے باعث زخمی ہو رہے ہیں۔ڈی سی آفس کو ویڈیو شوٹنگ اور یوٹیوبر کا اڈا بنا دیا گیا ہے جہاں ہر وقت سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کی شوٹنگ چل رہی ہوتی ہے جبکہ حقیقی کارگردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ڈی سی لاہور جتنا وقت سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن اور یوٹیوبر کے ساتھ پلانٹڈ انٹرویو کرنے بعد ازاں اس کی پروجیکشن پر ضائع کرتا ہے اس کا آدھا وقت بھی لاہور کی بہتری پر لگایا جاتا تو مثبت رزلٹ آسکتے ہیں۔ سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے کا نتیجہ ہے کہ اب یہ صورت حال ہے کہ تاریخی عمارات کا حامل لاہور اپنی شناخت کھو چکا اور صرف یہی پہچان باقی رہ گئی کہ بے ہنگم ٹریفک اور تجاوزات۔ویسے تو پورے پنجاب کی ٹریفک پولیس ہی ٹک ٹاکر، کام چور اور غیرقانونی پارکنگ مافیا کی ساتھی ہے لیکن لاہور ٹریفک پولیس کا شمار نااہل اور کرپٹ ترین میں ہوتا ہے۔ ابھی تک بغیر نمبر پلیٹ، بلیک پیپر، راڈ لگاکر چھپائی اور غیر نمونہ نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف کاروائی نہیں ہوسکی۔ چار لاکھ رکشوں سمیت ہائی ایس، بس، ٹرک اور دیگر پبلک ٹرنسپورٹ کل ملا کر سات لاکھ میں سے بامشکل دس فیصد کی اوریجنل نمبر ہے باقی سب بنا نمبر پلیٹ یا غیر نمونہ نمبر پلیٹ ہیں۔سیف سٹی چالان سے بچانے کیلئے ان پبلک ٹرانسپورٹرز کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ڈیل کی جاتی ہے۔کرائم کنٹرول میں سب سے بڑا چیلنج بلانمبر پلیٹ موٹر سائیکل رکشے اور ٹرانسپورٹ ہے۔لاہور کی اہم شاہرات پر سڑک پر قبضہ کرکے گاڑیوں کے شوروم چلائے جارہے ہیں خاص طور پر جیل روڈ، جوہر ٹاو¿ن اور سمن آباد کی سڑکوں پر شوروم مافیا کا قبضہ ہے۔ماڈل ٹاو¿ن، راوری، اقبال ٹاو¿ن، واہگہ اور کینٹ کی تحصیلیں تجاوزات کی اماجگاہ بن چکے ہیں۔ صرف ضلع لاہور میں پانچ ہزار ارب سے زائد مالیت کی سرکاری زمینوں پر پرائیویٹ مافیا کے قبضے ہیں۔تاجر برادی کا کہنا ہے کہ لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراو¿ں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کر ماہانہ کروڑوں روپے صرف تجاوزات کی آمدنی ہے جس میں ضلعی انتظامی افسران، ایل ڈی اے اور دیگر محکموں کے افسران اور اہلکار برابری کی بنیاد پر بینفشریز ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی تجاوزات فری لاہور کی واضح ہدایات کے باوجود انتظامی افسران احکامات پر عمل درآمد کرکے اپنی منتھلی پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ ”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔ سرکاری زمینوں پر قائم غیر قانونی تعمیرات کا ماہانہ کرایہ سرکاری افسران کھا رہے ہیں۔باغوں کے شہر لاہور کے پارکس کچرا کنڈی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ایل ڈی اے کے افسران تو مہینوں میں کروڑ پتی ہوجاتے ہیں لیکن شہریوں اور حکومتی مفاد کے کام نہیں ہوتے۔ لاہور کے آدھے سے زائد پیٹرول پمپ کسی بھی طور پر رجسٹریشن کی بنیادی شرائد پر پورا نہیں اترتے اور کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں سب اپنا حصہ وصول کر”اوکے“ کی این او سی دے رہے ہیں۔تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کی کامیابی کے چانسز بھی معدوم ہیں کیونکہ PERAکے نئے نویلے بچے صرف ڈالا گردی اور فوٹو سیشن کرتے نظر آتے ہیں۔عارضی اور پختہ تعمیرات کی طرح غیر قانونی پارکنگ بھی سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز اور رپئیرنگ ورکشاپ، حتیٰ کہ سیمنٹ، بجری، اینٹوں اور دیگر کنسٹرکشن کا سامان بھی سرکاری سڑک پر رکھ کر بیچا جا رہا ہے۔ ٹریفک پولیس غیرقانونی پارکنگ سٹینڈ کی سرپرستی کرتی ہے چاہے عوام راستوں کے بندش سے خوار ہوجائے ٹریفک پولیس کو اپنی ریگولر کمائی کے سوا کسی سے کوئی غرض نہیں۔ رکشے اور ریڑیاں بیچ سڑک راستہ روکے کاروبار کر رہے ہیں اور انکو قانون کا ذرا ڈر نہیں کیونکہ انکو پتا ہے کہ قانون کی قیمت وہ سرکاری ملازمین کو نقد دیتے ہیں۔چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگا کر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔ عجب بدمعاشی ہے کہ پولیس افسران نے شہری آبادی میں اپنے ذاتی گھروں کے باہر سرکاری زمین پر قبضہ کرکے اپنے پولیس ملازمین کو گارڈ بنا کر بٹھایا ہوا ہے جو ناصرف پولیس ملازمین کو اصل کام کی بجائے ذاتی ملازم بنانے،سرکاری سڑک پر غیر قانونی قبضہ کے مترادف ہے بلکہ محلے کے معزز شہریوں کی پرائیویسی خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں جبکہ کچھ جگہوں پر محلے والوں کو شکایات ہے کہ فرسٹیٹڈ اہلکار محلے کی خواتین کو بری نظر سے دیکھنے ہیں۔ رہائشی علاقوں میں قائم تمام غیر قانونی گارڈ رومز کو فی الفور مسمار کیا جائے۔






