#کالم

گورننس کی اصلاح ، وقت کا اہم ترین تقاضہ

safdar ali khan

صفدر علی خاں

ریاستیں صرف جغرافیہ، وسائل یا آبادی سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ حقیقتا” ان کی اصل طاقت ایک ایسے نظامِ حکمرانی میں پوشیدہ ہوتی ہے جو شفاف ، جوابدہ ، مو¿ثر اور عوام دوست ہوں۔ آج دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے اپنی کامیابی کا راز مضبوط اداروں ، واضح قومی وژن ، مو¿ثر گورننس اور عوامی شمولیت میں تلاش کر لیا ہے لہذا پاکستان بھی اگر ترقی ، استحکام اور قومی خودمختاری کے سفر کو تیز کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے گورننس ماڈل کا ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔ پاکستان میں یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں مختلف حکومتیں آئیں ، انہوں نے پالیسیاں بھی بدلیں اور ترقیاتی منصوبے بھی بنتے رہے ، لیکن عام آدمی کی زندگی میں وہ بنیادی تبدیلی نہ آسکی جس کی توقع کی جاتی تھی چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نظامِ حکمرانی کی کمزوریاں ہیں کیونکہ جب اداروں کے مقاصد دھندلے ہوں، فیصلوں کا تسلسل ختم ہو جائے اور کارکردگی کا کوئی مو¿ثر پیمانہ ہی موجود نہ ہو تو ریاستی صلاحیتیں بھی لازما” متاثر ہوتی ہیں۔اس وقت پہلی قومی ضرورت تو یہ ہے کہ پورے گورننس نظام کا ایک جامع قومی آڈٹ کیا جائے۔ اس آڈٹ کا مقصد صرف مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی نہ ہو بلکہ ہر وزارت ، ہر محکمے اور ہر سرکاری ادارے کا یہ جائزہ لیا جائے کہ وہ اپنے قیام کے اصل مقصد کے مطابق کام کر رہا ہے یا نہیں۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ عوام پر اس ادارے کے کیا مثبت اثرات مرتب ہوئے ، کون سی پالیسیاں کامیاب رہیں اور کہاں پر اصلاح کی مزید ضرورت ہے۔ دنیا کے کامیاب ممالک اپنی انتظامی مشینری کا مسلسل جائزہ لیتے ہیں، اسی لیے ان کے ادارے وقت کے ساتھ زیادہ مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔اسی طرح ہمارے ہاں بھی اختیار رکھنے والے ہر فرد کے وژن ، اہداف اور روزانہ کی کارکردگی کو ایک مربوط نظام کے ذریعے مانیٹر کیا جانا چائیے۔ہم نے دیکھا ہے کہ ترقی یافتہ دنیا میں گورننس محض اختیارات کا نام نہیں بلکہ نتائج دینے کا عمل ہے۔ پاکستان میں بھی وزیر سے لے کر ضلعی انتظامیہ تک ہر ذمہ دار عہدیدار کے لیے واضح اہداف مقرر ہوں، ان کی پیش رفت ڈیجیٹل نظام کے ذریعے روزانہ اور ماہانہ بنیادوں پر جانچی جائے اور کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر ہو کیونکہ یہی میرٹ پر مبنی حکمرانی کی اصل روح ہے۔
ریاست اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب عوام خود کو فیصلہ سازی کا حصہ محسوس کریں۔ جدید دنیا میں حکومتیں عوامی رائے ، ڈیجیٹل فیڈبیک ، سوشل آڈٹ ، ضلعی عوامی فورمز اور آزاد تحقیقی اداروں کی رپورٹس کو پالیسی سازی کا لازمی جزو بناتی ہیں۔ ہمیں بھی پاکستان میں ایسا نظام تشکیل دینا ہو گا جس میں عوام صرف ووٹ ڈالنے تک محدود نہ رہیں بلکہ حکومتی کارکردگی کے مستقل نگران بھی ہوں۔ جب شہریوں کی آواز اداروں تک باقاعدہ پہنچتی ہے تو اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور ریاست و عوام کا تعلق مزید مضبوط ہوتا ہے۔آج دنیا مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل گورننس اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان کو بھی روایتی فائل کلچر سے نکل کر ای گورننس ، شفاف ڈیجیٹل مانیٹرنگ ، کارکردگی کے اشاریوں اور فوری احتساب کے جدید نظام کو اپنانا ہوگا۔ لازما” اس سے نہ صرف بدعنوانی میں کمی آئے گی بلکہ فیصلوں کی رفتار اور معیار بھی بہتر ہوگا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مضبوط گورننس صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ پارلیمنٹ ، عدلیہ ، بیوروکریسی ، مسلح افواج ، نجی شعبہ ، جامعات، میڈیا ، تھنک ٹینکس اور سول سوسائٹی۔۔۔سب کو اپنے اپنے دائر? کار میں قومی مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا کیونکہ لازم ہے کہ جب تمام ریاستی ستون ایک مشترکہ قومی وڑن کے تحت کام کرتے ہیں تو ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔پاکستان آج ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں چیلنجز بھی بڑے ہیں اور مواقع بھی غیر معمولی۔ اگر ہم گورننس کے نظام کا غیر جانبدارانہ آڈٹ کریں ، اختیارات کے ساتھ جوابدہی کو لازم قرار دیں ، عوامی نگرانی کو ادارہ جاتی شکل دیں اور قومی وڑن کو ہر سطح پر نافذ کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان خطے کی ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار ریاست بن کر نہ ابھرے۔وقت آ گیا ہے کہ ہم حکومتیں بدلنے کی سیاست سے آگے بڑھ کر نظام بدلنے کی سوچ کو فروغ دیں ، کیونکہ مضبوط پاکستان کا خواب صرف مضبوط قیادت سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں ، مو¿ثر گورننس اور قومی ذمہ داری کے احساس سے ہی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ریاستوں کی کامیابی کا راز وسائل کی فراوانی میں نہیں رہا بلکہ اس صلاحیت میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے نظام حکمرانی کو وقت کے تقاضوں کے مطابق بہتر بناتی رہیں لہذا پاکستان بھی اسی راستے پر چل کر مضبوط اداروں ،خوشحال معیشت اور بااعتماد و باشعور معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

گورننس کی اصلاح ، وقت کا اہم ترین تقاضہ

افغانستان میں اقبال شناسی

گورننس کی اصلاح ، وقت کا اہم ترین تقاضہ

22/07/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے