#کالم

ادویات نایاب، مریض خوار

rafeh s

رفیع صحرائی

خبر یہ ہے کہ جان بچانے والی ادویات کی بڑی تعداد اور اقسام مارکیٹ سے غائب ہو چکی ہیں یا بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں کیونکہ ادویہ ساز کمپنیوں نے ان کی پیداوار میں نمایاں کمی کر دی ہے۔پاکستان میں صحت کا شعبہ پہلے ہی مسائل کا شکار ہے، لیکن اب جان بچانے والی ادویات کی قلت، قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور بعض ضروری ادویات کا مارکیٹ سے غائب ہونا ایک ایسے انسانی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جسے نظر انداز کرنا آنے والی نسلوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ لوگ ادویات کے لیے مارے مارے پھر رہے ہوتے ہیں لیکن انہیں ہر جگہ سے مایوسی ہوتی ہے۔ ایسا بھی ہمارے روزمرہ مشاہدے میں آتا رہتا ہے کہ بحران کا فائدہ جعل ساز اٹھاتے ہیں اور دو نمبر ادویات کے ذریعے موت بانٹنے کے عمل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کی جانب سے تقریباً 105 ضروری ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی کی سفارش کیے جانے کے باوجود معاملہ طویل عرصے سے وفاقی کابینہ کی منظوری کا منتظر ہے۔ اگر یہ صورتحال درست ہے تو سوال یہ ہے کہ انسانی زندگی سے متعلق فیصلے اتنی دیر تک فائلوں میں کیوں پڑے رہتے ہیں؟کینسر کے مریض کو کیموتھراپی کی دوا چاہیے، شوگر کے مریض کو انسولین چاہیے، دل کے مریض کو زندگی بچانے والی دوا چاہیے، کسی بچے کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔ ان مریضوں کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ "فائل کابینہ میں ہے، منظوری کا انتظار کریں۔”مریض انتظار نہیں کرتا۔ بیماری انتظار نہیں کرتی۔ موت بھی انتظار نہیں کرتی۔ تو پھر حکومت کیوں انتظار کرتی ہے؟ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کا موقف ہے کہ خام مال، بجلی، گیس، پیکیجنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر پیداواری اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، روپے کی قدر گری ہے، اس لیے پرانی قیمتوں پر دوا تیار کرنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔یہ موقف اپنی جگہ قابلِ غور ہے۔ ہر شعبہ مہنگائی گزیدہ ہے۔ تیل بجلی اور گیس کی قیمتوں نے ہی ضروریاتِ زندگی کی ہر شے کو کئی گنا مہنگا کر دیا ہے۔ حکومت کو کاروباری حقائق سے آنکھیں نہیں چرانا چاہئیں۔ اگر کسی دوا کی پیداواری لاگت واقعی بڑھ گئی ہے تو اس کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس پورے عمل میں مریض کہاں کھڑا ہے؟اگر دوا کی قیمت بڑھائی جائے تو مریض متاثر ہوتا ہے۔ اس کے بجٹ پر اس کا بوجھ پڑتا ہے۔ دوائی چھوڑی نہیں جا سکتی، البتہ دیگر بہت سی ضروریات کی قربانی دینا پڑ جاتی ہے۔ اگر قیمت نہ بڑھائی جائے تو دوا مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہے۔ یہ صورتِ حال سیریس امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے جان لیوا بن جاتی ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر دوا غائب ہو جائے تو مریض بلیک مارکیٹ کا رخ کرتا ہے۔ بلیک مارکیٹ میں وہی دوا کئی گنا قیمت پر اسے ملتی ہے۔ جو اس کی جیب کا بوجھ مزید بڑھا دیتی ہے۔ اس صورتِ حال میں ہار ہمیشہ مریض کی ہوتی ہے۔ فارماسیوٹیکل کمپنیاں یقیناً کاروباری ادارے ہیں اور انہیں مناسب منافع کمانے کا حق حاصل ہے۔ لیکن جس کاروبار کا تعلق براہِ راست انسانی زندگی سے ہو، وہاں منافع کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے۔یہ سوال بھی معاشرے میں زیرِ بحث آنا چاہیے کہ اگر بعض کمپنیوں کے پاس ڈاکٹرز کو اپنی ادویات تجویز کرنے کے لیے مہنگے انسینٹو دینے، بیرون ملک دوروں اور پ±رفضا مقامات پر فیملی ٹورز کے پیکیجز فراہم کرنے کے وسائل موجود ہیں، اگر مخصوص مقدار میں ادویات فروخت کرنے پر میڈیکل اسٹورز کو ایئر کنڈیشنرز اور مہنگے تحائف دیے جا سکتے ہیں، تو پھر مریض کے لیے دوا کی قیمت کم رکھنے کی گنجائش کیوں نہیں نکلتی؟ڈاکٹر کو مراعات، ڈیلر کو مراعات، میڈیکل اسٹور کو مراعات، مارکیٹنگ پر بھاری اخراجات، مگر مریض کے لیے ہر سال مہنگی دوا!یہ سوال پوچھنا ضروری ہے۔ کیونکہ مریض کوئی عام خریدار نہیں ہوتا جس کے پاس سودا لینے یا نہ لینے کا انتخاب موجود ہو۔ وہ دوا خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔ وہ چاہے بھی تو دوا نہیں چھوڑ سکتا۔ کیونکہ وہ اپنی بیماری کے ساتھ سودا نہیں کر سکتا۔ دوا خریدنا اس مریض کی عیاشی نہیں، مجبوری ہے اور اس مجبوری سے فائدہ اٹھانا کسی بھی صورت قابلِ ستائش نہیں ہو سکتا۔پاکستان میں ایسے خاندانوں کی تعداد کم نہیں جہاں ایک مریض کی بیماری پورے گھر کو معاشی بحران میں مبتلا کر دیتی ہے۔ شوگر، بلڈ پریشر، دل، گردوں، کینسر اور دیگر دائمی بیماریوں کے مریضوں کے لیے علاج چند دن کا معاملہ نہیں ہوتا۔ انہیں مہینوں اور بعض اوقات پوری زندگی دوا استعمال کرنا پڑتی ہے۔ ایک طرف آٹا، گھی، بجلی، گیس، بچوں کی فیس اور گھر کے دیگر اخراجات ہیں، دوسری طرف دوا بھی گھر کے مریض کے لیے آکسیجن کی طرح ضروری ہوتی ہے۔ کئی خاندانوں میں مریض کی دوا گھر کے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ کھا جاتی ہے اور کبھی کبھی حالات اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ غریب گھر کے افراد دل ہی دل میں یہ دعا کرنے لگتے ہیں کہ مریض جلد دنیا سے رخصت ہو جائے، شاید اس طرح بیماری کے علاج پر خرچ ہونے والی رقم سے بھی کچھ کم پیسوں میں تدفین ہو جائے! یہ سخت جملہ لکھتے ہوئے بھی دل کانپتا ہے، مگر یہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہے۔جس ملک میں کوئی شخص اپنے پیارے کی زندگی سے زیادہ اس کے علاج کے اخراجات سے خوفزدہ ہونے لگے، وہاں صرف دوا مہنگی نہیں ہوئی، وہاں انسانی زندگی کی قدر بھی سستی ہو گئی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ صرف فارماسیوٹیکل کمپنیز کے مطالبے ہی کو نہ دیکھے بلکہ ادویات کی قیمتوں کے تعین کے لیے ایک آزاد، خودمختار اور ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دے جس میں فارماسیوٹیکل ماہرین، ڈاکٹرز، فارماکولوجسٹس، اکنامسٹس، اکاو¿نٹنٹس، پبلک ہیلتھ ماہرین اور صارفین کے نمائندے شامل ہوں۔ یہ کمیٹی ہر دوا کی قیمت کا شفاف فارمولہ طے کرے اور دیکھے کہ خام مال کی قیمت کتنی ہے؟ پیداواری لاگت کیا ہے؟ پیکجنگ پر کتنا خرچ آتا ہے؟ توانائی اور ٹرانسپورٹ کی لاگت کتنی ہے؟ کمپنی کا مناسب منافع کتنا ہونا چاہیے؟ ڈسٹری بیوشن کے اخراجات کیا ہیں؟ ان تمام عوامل کو سامنے رکھ کر قیمت مقرر کی جائے۔ لیکن ایک اصول بالکل واضح ہونا چاہیے کہ جس کمپنی کو قیمت بڑھانے کی اجازت دی جائے، اسے پابند کیا جائے کہ مارکیٹ میں دوا کی دستیابی بھی یقینی بنانا ہوگی۔ قیمت میں اضافے کی اجازت کے بعد دوا غائب ہو جائے اور پھر بلیک مارکیٹ میں کئی گنا قیمت پر فروخت ہو، یہ نظام کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔حکومت کو ایک اور حساس مگر اہم معاملے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز میں کتنے افراد براہِ راست یا بالواسطہ ادویہ سازی، فارماسیوٹیکل ڈسٹری بیوشن یا اس سے متعلقہ کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اگر کوئی قانون ساز یا فیصلہ ساز کسی ایسے کاروبار میں مالی مفاد رکھتا ہے جس پر حکومتی پالیسی اثر انداز ہوتی ہو تو وہاں مفادات کے ٹکراو¿ کا سوال پیدا ہونا فطری ہے۔ یہ کسی فرد پر الزام نہیں بلکہ شفافیت کا تقاضا ہے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے عوامی مفاد میں ہو رہے ہیں یا کسی طاقتور کاروباری گروہ کے دباو¿ میں ہو رہے ہیں۔ایک اور پہلو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ جب اصل دوا مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہے تو مریض بلیک مارکیٹ کا رخ کرتا ہے۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے جب اسمگلر اور جعلی ادویات بنانے والے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ کینسر کی دوا ہو یا انسولین، دل کی دوا ہو یا بچوں کے لیے ضروری اینٹی بایوٹک، ان کی قلت کسی بھی صورت معمولی معاملہ نہیں۔ یہ جعلس سازوں اور اسمگلروں کو کھل کھیلنے کی ایک طرح سے کھلی اجازت ہوتی ہے۔ حکومت کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ دوا مہنگی کیوں ہے، اسے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ دوا مارکیٹ سے غائب کیوں ہے۔ کیا پیداوار کم کی گئی؟ کہیں ذخیرہ اندوزی کر کے بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت تو نہیں کی جا رہی؟ اس پہلو کو بھی دیکھنا ہو گا کہ مخصوص دوا کہیں اسمگل تو نہیں کی جا رہی؟ جب تک ان سوالات کا جواب نہیں ملے گا، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔یہاں ایک اور دلچسپ پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ فارماسیوٹیکل کمپنیاں اپنے کاروباری مفادات کے لیے مختلف طبقات کو مراعات دیتی ہیں۔ حکومتیں بھی اپنے سیاسی مفادات کے لیے مختلف شعبوں کو سبسڈی دیتی رہی ہیں۔تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غریب مریض کو سبسڈی کیوں نہیں دی جاتی؟اگر حکومت کینسر، دل، گردوں، شوگر اور دیگر سنگین و دائمی بیماریوں میں مبتلا مستحق مریضوں کے لیے براہِ راست ادویاتی سبسڈی کا نظام وضع کر دے تو یہ ان کے لیے بہت بڑا انسینٹو ہو گا۔ جس شخص کے پاس روٹی اور دوا میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، اسے ریاست کی مدد ملنی چاہیے۔ یہ خیرات نہیں بلکہ یہ شہری کا حق ہے۔حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ادویات کا بحران محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں۔ یہ انسانی زندگی کا مسئلہ ہے۔

ادویات نایاب، مریض خوار

امریکہ ایران کشیدگی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے