#کالم

امریکہ ایران کشیدگی

ilyas chdhar

الیاس چدھڑ

ایران امریکہ کشیدگی اگر مستقل میں بھی اسی طرح چلتی رہی اور پائیدار جنگ بندی نہ ہوئی تو امن کا مستقبل خطرے میں رہے گا، دنیا آج ایک ایسے نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں ایک خطے کی جنگ صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت، امن، توانائی، تجارت اور عام انسان کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی بھی اسی خطرناک صورتحال کی عکاسی کر رہی ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان مستقل، واضح اور قابلِ عمل جنگ بندی قائم نہ ہوئی تو مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا میں امن کے حوالے سے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی کافی نہیں، بلکہ پائیدار سیاسی حل ضروری ہے۔ دنیا کے نام نہاد دانشوروں، طاقتور ممالک کے پالیسی سازوں اور جنگی حکمت عملی بنانے والوں کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے بجائے طاقت کا راستہ کیوں اختیار کیا جاتا ہے؟ اختلافات حکومتوں کے درمیان ہوتے ہیں، فیصلے حکمران کرتے ہیں، لیکن اس کے نتائج ہمیشہ عام عوام بھگتتے ہیں۔ ایک سپاہی کا خاندان، ایک مزدور کا گھر، ایک تاجر کی معیشت اور ایک عام شہری کی زندگی جنگ کی قیمت ادا کرتی ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ غلط فہمیاں حکمرانوں کی، سزا عوام کی کیوں؟دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ بڑی جنگیں اکثر غلط اندازوں، عدم اعتماد، سیاسی انا اور سفارتی ناکامیوں سے جنم لیتی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بنیادی اختلافات کئی دہائیوں پر محیط ہیں جن میں جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ، پابندیاں اور سکیورٹی معاملات شامل ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان مسائل کا حل میزائلوں اور بموں سے نکل سکتا ہے ؟ بلکل نہیں بلکہ صرف مذاکرات سے ہی مسائل کا حل ممکن ہے۔اگر دو طاقتور ممالک اپنی پالیسیوں کے اختلافات کو مذاکرات سے حل نہیں کر سکتے تو اس کا سب سے بڑا نقصان ان ممالک کے عوام، پڑوسی ریاستوں اور عالمی معیشت کو پہنچتا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تجارت متاثر ہوتی ہے، مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور ترقی پذیر ممالک پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ حالیہ کشیدگی نے توانائی کی عالمی منڈی میں بھی بے یقینی پیدا کی ہے۔ جنگ میں کوئی مکمل فاتح نہیں ہوتا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگیں ختم تو ہو جاتی ہیں مگر ان کے زخم نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔ تباہ ہونے والے شہر دوبارہ تعمیر ہو سکتے ہیں لیکن جانوں کا نقصان واپس نہیں آتا۔دنیا کو اب اس سوچ سے نکلنا ہوگا کہ طاقت کا اظہار صرف فوجی کارروائی سے ہوتا ہے۔ اصل طاقت وہ ہے جو دشمن کو مذاکرات کی میز پر لائے، اختلاف کو حل کرے اور آنے والی نسلوں کو امن دے۔مشرق وسطیٰ کا امن پوری دنیا کے لئے ضروری ہے۔مشرق وسطیٰ دنیا کا ایک حساس خطہ ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات ایشیا، یورپ اور عالمی معیشت تک پہنچتے ہیں۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں کا امن اور استحکام عالمی تجارت کے لئے انتہائی اہم ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بھی مسلسل زور دیتے رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور سفارت کاری کو موقع دیا جائے۔کیا جنگ مسائل کا مستقل حل ہے؟کیا طاقت کے استعمال سے عوام کی مشکلات کم ہوتی ہیں؟۔۔کیا ایک نسل کی تباہی کے بعد اگلی نسلوں کو امن مل سکتا ہے؟۔۔۔کیا مذاکرات کی ناکامی پوری انسانیت کی ناکامی نہیں؟دنیا کے بڑے ممالک کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اگر وہ واقعی عالمی امن چاہتے ہیں تو انہیں تنازعات کو بڑھانے کے بجائے انہیں ختم کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔پاکستان سمیت خطے کے ممالک کا کردار ایسے حالات میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ یہ مو¿قف رکھتا آیا ہے کہ علاقائی امن، مذاکرات اور سفارتی حل ہی مسائل کا بہترین راستہ ہیں۔ کسی بھی جنگ کا سب سے پہلا اثر ہمسایہ ممالک پر پڑتا ہے، اس لئے امن کے لئے ہر ممکن سفارتی کوشش کی حمایت ضروری ہے۔مستقل امن کے لئے نئی سوچ درکار ہے۔دنیا کو اب جنگی سیاست سے نکل کر امن، تجارت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور انسانی ترقی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ طاقتور ممالک اگر اپنی توانائیاں جنگی اخراجات کے بجائے عوام کی خوشحالی پر خرچ کریں تو پوری دنیا کا مستقبل بہتر ہو سکتا ہے۔عالمی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن صرف معاہدوں کے کاغذ پر نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور مستقل مذاکرات سے قائم ہوتا ہے۔ ایران اور امریکہ سمیت تمام ممالک کو ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا جس میں فتح کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ انسانیت کی ہو۔

امریکہ ایران کشیدگی

ادویات نایاب، مریض خوار

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے