#کالم

میرا پہلا اسکول۔۔میری پہلی محبت

javeed ayaz

جاویدایازخان

اسکول کے زمانے میں دعا کیا کرتے تھے کہ امتحان میں "میراسکول ” پر مضمون لکھنے کا سوال آجاے کیونکہ اردو اور انگریزی میں یہ مضمون ہمیں حفظ ہوا کرتا تھا اور پھر اپنے اسکول کی ایک ایک دیوار ،کمرے ،گراونڈ سب نظر آتے تھے۔ا?ج جب میں ایک کالم نگار ہوں تو اپنے اسی اسکول کے بارے? میں لکھنے کے لیے سوچنا پڑ رہا ہے کہ کہاں سے شروع کروں اور کہاں تک لکھتا رہوں ؟ اسکول چھوڑنے کے بعد وہاں کبھی جانا نہیں ہو سکا۔البتہ جب بھی اس کے مین گیٹ کے سامنے سے گزرتا ہوں تو بےساختہ طالب چھولےچاول والے کا چھابہ یاد آجاتا ہے گیٹ کے اندر سے اسکول کی گھنٹی کے بجنے کا منظر ،ہیڈماسٹر محمد رحیم خا ن سدوزئی کی شفقت بھری اور ماسٹر گل محمد صاحب کی گرجدار آوزیں تصور ہی تصور میں گونجنے لگتی ہیں اور دل چاہتا ہے کہ ایک بار پھرسیاہ ملیشیا کی یونیفارم میں بستہ ،تختی اور ایک چٹائی لے کر وہاں داخل ہو جاوں اور اپنے بچوں کو بتاوں کہ دیکھو تمہارا باپ یہاں بیٹھ کر پڑھتا تھا ،شرارتیں کرتا تھا اور یہاں گراونڈ میں کھیلتا تھا۔وہ آج جو کچھ بھی ہے اسی اسکول کی بدولت ہے۔کیونکہ پہلا اسکول ہر انسان کی پہلی محبت کی طرح یادگار ہوتا ہے۔ زندگی کی طویل مسافت میں انسان بے شمار راستوں، چہروں اور اداروں سے گزرتا ہے، مگر دل کے آسمان پر کچھ ستارے ہمیشہ روشن رہتے ہیں۔ میرا پہلا اسکول گورنمنٹ صادق عباس ہائی اسکول ڈیرہ نواب صاحب جو اس وقت مڈل اسکول ہوا کرتا تھا یہ بھی انہی دائمی روشنیوں میں سے ایک ایسی روشنی کی پہلی کرن کی طرح ہے۔ جو صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارت نہیں، بلکہ میری شخصیت کی پہلی بنیاد، میرے خوابوں کی پہلی تعبیر اور میری زندگی کا ایک روشن چراغ ہے جس کی لو آج بھی میرے دل میں فروزاں ہے۔زمین پر بوری اور ٹاٹ سے ڈیکس اور بینچ تک کا یادگار سفر بدلتے کلاس روم ،استادوں کے ڈنڈے اور فٹے اور مصنوعی غصے مگر شفقت بھرے لہجے اور پرانے دوستوں کی یادیں اور معصوم شرارتیں وہ سرمایہ ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جووقت گزرنے کے باوجود دل کی دھڑکنوں میں زندہ رہتے ہیں۔میرا یہ اسکول بھی انہی مقدس رشتوں میں سے ایک ہے۔اسی صحن میں میں نے لڑکھڑاتے قدموں سے علم کی راہ پر چلنا سیکھا اور اسی کے کلاس رومز کی فضا میں اساتذہ کی شفقت نے مجھے انسان بننے کا سلیقہ دیا۔آج زندگی جہاں لے آئی ہے وہاں بھی میری کامیابیوں کی بنیاد اسی اسکول کی مٹی ہے۔ اسی درسگاہ میں پہلی بار قلم ہاتھ میں آیا، حرفوں نے معنی اوڑھے، کتابوں سے دوستی ہوئی اور زندگی کو مقصد دینے والا شعور ملا۔ اسی مٹی میں میرے مستقبل کے بیج بوئے گئے، جن کی فصل آج بھی میرے کردار اور سوچ میں لہلہا رہی ہے۔ مگر اس درسگاہ کی اصل شان اس کے در و دیوار نہیں تھے، بلکہ وہ عظیم اساتذہ تھے جنہوں نے علم کے ساتھ ساتھ انسانیت، اخلاق، دیانت، محبت اور احترام کا درس دیا۔ انہوں نے صرف سبق نہیں پڑھائے، بلکہ ہماری شخصیتوں کو تراشا، ہماری غلطیوں کو شفقت سے سنوارا اور ہمارے خوابوں کو اپنے خواب سمجھ کر ان کی آبیاری کی۔ آج اگر ہم معاشرے میں کسی مقام پر کھڑے ہیں، اگر ہماری سوچ میں روشنی اور کردار میں پختگی ہے، تو اس میں ہمارے ان اساتذہ کا حصہ سب سے نمایاں ہے جنہوں نے اپنی خواہشات سے بڑھ کر ہمارے مستقبل کو اہمیت دی۔ استاد واقعی وہ شمع ہے جو خود جل کر دوسروں کی زندگیوں کو منور کرتی ہے۔اس اسکول نے بہترین تعلیمی رزلٹ کے ہی ریکارڈ قائم نہیں کئے بلکہ کھیلوں مین نمائیاں کارکردگی کی بنا پر ہیڈماسٹر روم ٹرافیوں سے بھرا ہوا کرتا تھا۔ جب کبھی اور کہیں اپنے اس پہلے اسکول کا نام سنتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے برسوں پرانی یادیں ایک دم تازہ ہو گئی ہوں۔ در و دیوار، کھیل کا میدان، صبح کی اسمبلی، دوستوں کی ہنسی اور اساتذہ کی محبت، سب کچھ آج بھی دل کے کسی گوشے میں ویسے ہی محفوظ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ انسان عملی زندگی میں بڑے بڑے اداروں اور عہدوں سے وابستہ ہو جاتا ہے، مگر پہلا اسکول وہ ماں کی آغوش ہے جہاں کردار، تہذیب، اخلاق اور علم کے اولین بیج بوئے جاتے ہیں۔ اسی لیے اپنے پہلے اسکول سے محبت دراصل اپنی جڑوں، اپنی شناخت اور اپنی ابتدائی تربیت سے محبت کا دوسرا نام ہے۔اس لیے اس کا ادارے? نام اور اس سے وابستہ کوئی کام ہمیشہ ہی میری توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتا ہے۔گزشتہ دنوں میں اس عظیم درسگاہ میں ایک نوجوان، باصلاحیت، محنتی اور دوراندیش ہیڈماسٹر قاضی محمد عارف صاحب کی تعیناتی کے بعد بہت سی خوش آئند تبدیلیاں نمایاں طور پر سامنے آئی ہیں۔ ان کی انتھک محنت، بہترین انتظامی صلاحیتوں اور ٹیم ورک کے جذبے نے اسکول میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ آج اس ادارے کی تعلیمی، نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں نہ صرف اسکول کی چار دیواری تک محدود نہیں رہیں بلکہ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام تک بھی پہنچ رہی ہیں۔ یہ شفافیت، اعتماد اور مثبت کارکردگی کا ایک خوبصورت اظہار ہے، جو یقیناً قابلِ ستائش ہے۔ ان ہیڈماسٹر صاحب کی قیادت میں اسکول کی خوبصورتی، صفائی، شجرکاری، تعلیمی ماحول، نظم و ضبط، کھیلوں، ادبی و ثقافتی سرگرمیوں اور طلبہ کی ہمہ جہت صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ تمام کاوشیں اس امر کی گواہ ہیں کہ جب قیادت مخلص، فعال اور وڑن رکھنے والی ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی ادارے ترقی کی نئی اور جدید منازل طے کر سکتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہیڈماسٹر صاحب، تمام اساتذہ اور معاون عملے کو اسی جذب? خدمت کے ساتھ آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ یہ درسگاہ علم، کردار اور کامیابی کی ایک روشن مثال بن کر آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتی رہے۔میری یہ بھی دلی دعا ہے کہ میری پہلی درسگاہ ہمیشہ علم کے چراغ روشن کرتی رہے، وہاں سے نکلنے والے ہر طالب علم کے نصیب میں کامیابی، کردار کی بلندی اور انسانیت کی خدمت لکھی جائے۔ اگر آج مجھ میں کوئی خوبی یا اچھائی ہے تو اس میں میرے پہلے اسکول اور میرے قابلِ احترام اساتذہ کا حصہ ہمیشہ شامل رہے گا۔مجھے یاد ہے ساٹھ سال قبل جب میں نےاسی اسکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا تھا تو ہماری تیس لوگوں کی کلاس میں سےجنہیں میں ذاتی طور پر آج بھی جانتا ہوں تقریبا” چھ ڈاکٹر ،اور دس کے قریب کلاس فیلو مختلف سرکاری اداروں میں گزیڈیڈ افسران ،قابل استاد اوراعلیٰ پاے کے وکیل بھی بنے ہیں جبکہ کچھ مجھ سے نکمے بھی بنک ایگزیکٹیو اور سینئروائس پریذیڈنٹ کے عہدوں تک جا پہنچے۔گویا کلاس کی کل تعداد کا پچاس فیصد حصہ اپنے کیریر کے عروج تک پہنچا اور یہاں سے فارغ التحصیل طالب علم جہاں بھی گیا اس نے اپنی قابلیت اور صلاحیت کا لوہا منوایا۔کاش اگر شاندار ترقی کی یہ رفتار یونہی جاری رہتی تو آج ساٹھ سال بعد اس علاقے کی تقدیر بدل چکی ہوتی۔مجھے امید ہے کہ موجودہ پرعزم قیادت اس اسکول کی وہی کارکردگی پھر سے واپس لانے میں کامیاب ضرور ہو گی۔ آج دل کی گہرائیوں سے اپنے پہلے اسکول اور اپنے تمام اساتذہ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ جن کے احسانات کا قرض کبھی ادا نہیں ہو سکتا، البتہ ان کے لیے دعا ضرور کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت، سکون اور دونوں جہانوں کی کامیابیاں عطا فرمائے، اور جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، ربِ کریم ان کی قبروں کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی علمی خدمات کو صدق جاریہ بنا دے۔ استاد وہ چراغ ہے جو خود جلتا ہے تاکہ دوسروں کی راہیں روشن رہیں، اور پہلی درسگاہ وہ آنگن ہے جس کی خوشبو انسان عمر بھر اپنے وجود میں محسوس کرتا ہے۔”

میرا پہلا اسکول۔۔میری پہلی محبت

امریکہ ایران کشیدگی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے