ڈاکٹر نگہت خورشید: پنجابی ادب کا روشن باب
سید محمد اصغر کاظمی
پنجابی زبان و ادب برصغیر کی ایک قدیم، زرخیز اور محبت بھری ادبی روایت کا امین ہے۔ اس زبان نے صدیوں سے انسانی جذبات، ثقافت، روحانی اقدار اور معاشرتی تجربات کو اپنے دامن میں محفوظ رکھا ہے۔ کسی بھی زبان کی بقا اور ترقی کے لیے ایسے اہلِ قلم کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ صرف اس زبان میں تخلیق کریں بلکہ تحقیق، تدریس اور مختلف ادبی شعبوں کے ذریعے اس کے فروغ میں بھی کردار ادا کریں۔ ڈاکٹر نگہت خورشید کا شمار انہی اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے پنجابی زبان و ادب کی خدمت کو اپنی علمی و ادبی زندگی کا اہم مقصد بنایا۔
ڈاکٹر نگہت خورشید کی پنجابی ادب سے وابستگی محض ایک لکھنے والی ادیبہ کی حیثیت تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک محققہ، استاد، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اور زبان و ثقافت کی سفیر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے پنجابی ادب کے مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور اپنی علمی کاوشوں کے ذریعے پنجابی زبان کو ایک وسیع تر ادبی تناظر میں پیش کیا۔
ان کی ادبی شخصیت کا ایک اہم پہلو پنجابی افسانہ نگاری ہے۔ انہوں نے پنجابی زبان میں افسانے لکھے جن میں معاشرتی مسائل، انسانی جذبات اور خصوصاً خواتین کے مسائل کو موضوع بنایا گیا۔ ان کے افسانوں میں زندگی کے حقیقی تجربات، معاشرتی رویوں کا مشاہدہ اور انسانی احساسات کی ترجمانی نظر آتی ہے۔ انہوں نے افسانے کے ذریعے معاشرے کے ان پہلوؤں کو اجاگر کیا جن پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر نگہت خورشید کی پنجابی ادب سے وابستگی دراصل اپنی تہذیبی شناخت سے گہری محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے پنجابی زبان کو صرف اظہارِ خیال کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک مکمل تہذیبی ورثے کی حیثیت دی۔ ان کی تحریروں میں پنجابی معاشرے کی خوشبو، عوامی زندگی کے مسائل، انسانی جذبات اور ثقافتی اقدار نمایاں نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ادب اپنی زمین سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
پنجابی ڈرامے کے میدان میں ڈاکٹر نگہت خورشید کی خدمات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کے تحقیقی کام کا بنیادی موضوع پنجابی ڈرامہ رہا، جس میں انہوں نے تھیٹر، ریڈیو اور ٹیلی ویژن ڈرامے کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ انہوں نے پنجابی ڈرامے کی روایت، فنی خصوصیات اور ارتقائی مراحل کو علمی انداز میں پیش کیا۔ ان کی یہ کاوش پنجابی ڈرامے کے حوالے سے ایک اہم تحقیقی سرمایہ شمار ہوتی ہے۔
انہوں نے ڈرامے کو صرف تفریحی صنف کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے معاشرتی شعور، اصلاح اور انسانی جذبات کے اظہار کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ تھیٹر، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پنجابی ڈرامے پر ان کی تحقیق نے اس صنف کے مختلف فنی اور تاریخی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ ان کا کام آنے والے محققین کے لیے ایک اہم حوالہ بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر نگہت خورشید نے اپنے تحقیقی کام میں صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں موجود پنجابی ادب اور ڈرامے کا بھی جائزہ لیا۔ بھارت، برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور دیگر ممالک میں بسنے والے پنجابی لوگوں کی ادبی سرگرمیوں کو بھی اپنی تحقیق کا حصہ بنایا۔ اس طرح انہوں نے پنجابی ادب کے عالمی پھیلاؤ کو بھی اجاگر کیا اور یہ ثابت کیا کہ زبانیں سرحدوں کی پابند نہیں ہوتیں۔
انہوں نے پنجابی ڈرامے کے حوالے سے کئی اہم کتابیں بھی پیش کیں، جن میں ریڈیو، ٹیلی ویژن اور تھیٹر ڈرامے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ شامل ہے۔ ان کی کتابیں صرف معلوماتی نہیں بلکہ آئندہ تحقیق کرنے والوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بھی ہیں۔ انہوں نے پنجابی ڈرامے کی فنی جہات، تکنیکی پہلوؤں اور ادبی اہمیت کو عام قارئین اور طلبہ تک پہنچانے کی کوشش کی۔
ڈاکٹر نگہت خورشید کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے پنجابی ادب کو صرف ماضی کی روایات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے نئی نسل کو پنجابی زبان سے جوڑنے کے لیے بچوں کا ادب تخلیق کیا، تدریس کے ذریعے طلبہ میں زبان کا ذوق پیدا کیا اور اپنی تحقیق کے ذریعے پنجابی ادب کو علمی حلقوں میں متعارف کرایا۔
پنجابی زبان کے فروغ میں ان کی تدریسی خدمات بھی نہایت اہم ہیں۔ ایک استاد کی حیثیت سے انہوں نے نئی نسل کو پنجابی زبان و ادب سے روشناس کرایا۔ ان کا یقین ہے کہ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک قوم کی تہذیبی شناخت بھی ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے پنجابی زبان کو علمی اور ادبی سطح پر مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کام کیا۔
ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے پنجابی ثقافت اور روایات کو اپنی تخلیقات کا حصہ بنایا۔ بچوں کے ادب سے لے کر افسانے اور ڈرامے تک، ان کی تحریروں میں اپنی مٹی، اپنی تہذیب اور اپنے لوگوں سے محبت کا جذبہ نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ پنجابی ادب کو صرف ماضی کی روایت نہیں سمجھتیں بلکہ اسے مستقبل کی ضرورت بھی قرار دیتی ہیں۔
ان کی ادبی شخصیت میں تخلیق، تحقیق اور خدمت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ایک طرف وہ افسانہ نگار اور شاعرہ کی حیثیت سے جذبات اور احساسات کو لفظوں کا لباس عطا کرتی ہیں، دوسری طرف محققہ کی حیثیت سے پنجابی ادب کے مختلف گوشوں کو محفوظ کرنے کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ یہی ہمہ جہتی ان کو پنجابی ادب کی ایک نمایاں شخصیت بناتی ہے۔
ڈاکٹر نگہت خورشید کی ادبی خدمات کا اعتراف مختلف اعزازات کی صورت میں بھی سامنے آیا۔ پنجابی ادب کے فروغ کے لیے ان کی کاوشوں کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ خصوصاً پنجابی زبان و ادب کے حوالے سے ملنے والے اعزازات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی خدمات کو ادبی حلقوں میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر نگہت خورشید نے اپنی محنت، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں سے پنجابی ادب کے کئی گوشوں کو روشن کیا ہے۔ انہوں نے زبان کو صرف لکھنے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے ثقافت، تحقیق اور انسانی احساسات کی ترجمان کے طور پر پیش کیا۔ ان کی خدمات اس بات کی علامت ہیں کہ ایک مخلص ادیب اپنی زبان کے فروغ کے لیے زندگی بھر کام کر سکتا ہے۔
یوں ڈاکٹر نگہت خورشید پنجابی ادب کی ایک ایسی توانا آواز ہیں جنہوں نے تخلیق، تحقیق اور تدریس کے ذریعے پنجابی زبان و ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کا ادبی سفر پنجابی ادب کے لیے ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی اہمیت آنے والے وقتوں میں مزید نمایاں ہوتی رہے گی۔ ان کی یہ کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک فرد اخلاص، محنت اور علم کے ذریعے اپنی زبان و ثقافت کے لیے گراں قدر خدمات انجام دے سکتا ہے۔






