#اداریہ

فیفا ورلڈ کپ 2026 فائنل مرحلے میں

Fahad 01

آج کا اداریہ

فیفا ورلڈ کپ 2026 کا فائنل مرحلہ آپہنچا’ پہلے سیمی فائنل میں فیورٹ فرانس کو سپین کے ہاتھوں غیرمتوقع شکست جبکہ دوسرا مقابلہ أج ھوگا۔۔سپین فٹبال ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں فرانس کے خلاف فتح حاصل کرنے کے بعد ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ گیا ہے، حالانکہ فرانس کو فیورٹ تصور کیا جا رہا تھا۔سپین کی اس کامیابی نے سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں صارفین ایک جانب سپین کی منظم اور مؤثر کارکردگی کو سراہ رہے ہیں تو دوسری جانب فرانس کی مایوس کن کارکردگی پر بھی بات کر رہے ہیں۔امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں کھیلے گئے میچ میں سپین کی ٹیم نے جارحانہ صلاحیتوں سے بھرپور فرانس کی ٹیم کو بے اثر کر دیا، میچ پر کنٹرول برقرار رکھا، اور میکل اویارزابال اور پیڈرو پورو کے گولز کی بدولت اتوار کے فائنل میں اپنی جگہ بنا لی۔پہلے ہاف کے وسط میں اویارزابال نے پینلٹی پر گول کرکے اپنی ٹیم کو برتری دلائی۔ یہ پینلٹی اُس وقت ملی جب فرانس کے لیفٹ بیک لوکاس دِنے نے گیند کلیئر کرنے کی کوشش میں لامین یامال کو زور سے ٹکر مار دی، جس پر ریفری نے پینلٹی کا فیصلہ دیا۔اس کے بعد سے میچ پر سپین کی گرفت مضبوط ہوتی گئی اور فرانس کی کارکردگی توقعات سے کم رہی۔دوسرے ہاف میں فرانس سے امید تھی کہ وہ بھرپور انداز میں واپس آئے گا، لیکن اس وقت تک سپین کا اعتماد بھی مزید بڑھ چکا تھا۔ پیڈرو پورو نے دانی اولمو کے ساتھ خوبصورت پاسوں کا تبادلہ کیا اور پھر دوسرا گول کر کے اپنی ٹیم کو مزید برتری دلا دی۔اب فرانس کے پاس وقت کم ہوتا جا رہا تھا۔ اپنے آپ کو بچانے کے لیے فرانس نے انتہائی منظم سپینش ٹیم کے دفاع کو توڑنے کی کوشش کی لیکن کوئی بھی گول کرنے میں ناکام رہا۔واضح رہے کہ اس پورے ٹورنامنٹ میں سپین کی ٹیم نے صرف ایک گول کھایا ہے۔میچ کے آخر تک سپین کی ٹیم منظم اور پُر سکون انداز سے کھیلتی رہی اور بالآخر میچ اپنے نام کر لیا۔یوں فرانس کے لیے مسلسل تیسری بار فائنل میں پہنچنے کی امیدیں ختم ہو گئیں اور اب وہ ہفتے کے روز تیسرے نمبر کے پلے آف میں شرکت کریگا۔اسمیچ کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ بہترین اٹیکنگ ٹیم اور مضبوط ترین دفاع کرنے والی ٹیم کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ لیکن آخر میں یہ کوئی مقابلہ ثابت ہی نہ ہوا۔اگرچہ فرانس نے بعض مواقع پر جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے شائقین کو متاثر کیا، لیکن مجموعی طور پر وہ کوئی بہتر کارکردگی نہ دکھا سکا۔یورو 2024 جیتنے والی ٹیم کی پہچان لامین یامال اور نیکو ولیمز کی سنسنی خیز ونگ پلے تھی، اس بار انجری کے باعث دونوں کا اثر محدود رہا۔2010 کے فٹبال ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم بھی سپین تھی اور اس بار بھی وہ کامیابی پر نظریں گاڑے ہوئے ہے۔روڈری نے فرانس کے خلاف شاندار کارکردگی دکھائی، انھوں نے بے شمار حملے ناکام بنائے، اپنی ٹیم کو آگے بڑھایا اور کھیل کی رفتار کو کنٹرول کیا۔ ان کے ساتھ فابیان رویز نے بہترین معاون کا کردار ادا کیا۔سپین کا دفاع اتنا مضبوط تھا کہ فرانس کو پورے میچ میں 81 ویں منٹ تک ایک بھی ایسا شاٹ لگانے کا موقع نہیں ملا جو گول کیپر کو بچانا پڑتا۔اس ورلڈ کپ کے دوران بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا تھا کہ فرانس کے ٹرافی اٹھانے تک صرف دن گننا باقی رہ گئے ہیں۔
ان کی پاس شاندار اٹیک ٹیم تھی جس کی قیادت کائلیان ایمباپے کر رہے تھے، اور وہ آسانی سے سیمی فائنل تک پہنچ گئے تھے۔ناک آؤٹ مرحلے میں انھوں نے سویڈن کو آرام سے شکست دی، مضبوط پیراگوئے کے خلاف متاثر کن فتح حاصل کی اور پھر مراکش کے خلاف میچ بھی با آسانی جیتا۔مائیکل اولیسے، عثمان ڈیمبیلے اور دو مرتبہ چیمپئنز لیگ جیتنے والے بریڈلی بارکولا اور دیزیرے دوئے میں سے کسی ایک کی موجودگی کا مطلب یہ تھا کہ اگر ایمباپے اس روز اچھی کارکردگی نہ دکھا پاتے تو بھی ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر کوئی زیادہ فرق نہ پڑتا۔توانائی اور تازگی کی پہچان رکھنے والی فرانسیسی ٹیم سپین کے سامنے ماند پڑ گئی۔اس میچ کے بعد سوشل میڈیا پر بیشتر تبصروں میں سپین کی شاندار کارکردگی اور فرانس کے مایوس کن کھیل کو موضوعِ بحث بنایا گیا۔سوشل میڈیا پر صارفین اور ماہرین نے جہاں سپین کی کارکردگی کوسراہا ہے وہاں فرانس کے کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔ مبصر ماریو نافل نے سپین کے دوسرے گول کے بعد ایمباپے کے ردِعمل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے چہرے پر مایوسی اور حیرت نمایاں تھی۔ ان کے بقول ’آج تو فرانس پہچانا ہی نہیں جا رہا تھا۔‘فرانس کی کارکردگی پر تنقید کرنے والے صرف وہی نہیں تھے۔ کسی نے سپین کی 2-0 کی فتح کے بعد طنزیہ انداز میں فرانس کو الوداع کہا اور لکھا کہ وہ اس کے لیے ’سفید جھنڈا لہرائیں گے۔تو کسی نے سپین کو پیشگی چیمپئین ہونے کی نوید سنائی۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 فائنل مرحلے میں

‎آخری معرکہ

فیفا ورلڈ کپ 2026 فائنل مرحلے میں

17/07/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے