آخری معرکہ
ڈیرے دار سہیل بشیر منج
1
جس طرح ستھرا پنجاب مہم نے صوبے کے طول و عرض سے غلاظت اور تعفن کے ڈھیروں کو سمیٹ کر عوام کو ایک پاکیزہ اور صحت مند ماحول فراہم کیا بالکل اسی طرح اب دھرتی کے ایک اور انتہائی اہم اور حساس حصے یعنی بلوچستان میں بھی ایک عظیم الشان تطہیر کا عمل شروع ہو چکا ہے پنجاب میں اگر کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگا کر شہروں کی خوبصورتی اور رعنائی کو بحال کیا گیا تو بلوچستان کی وسیع و عریض اور سٹریٹیجک سرزمین پر امن و امان کی صورتحال کو بگاڑنے والی بیرونی و اندرونی غلاظت کو صاف کرنے کا بیڑہ اٹھایا جا چکا ہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے جہاں گوادر کی گہری بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے عالمی اہمیت کے عظیم منصوبے پورے ملک کی معاشی ترقی کے ضامن ہیں لیکن کچھ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار دہشت گرد اس سنہری خطے میں بدامنی پھیلا کر یہاں کے معصوم شہریوں کا خون بہا رہے ہیں اور تعمیر و ترقی کے اس خوبصورت سفر کو روکنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں ان ناگفتہ بہ حالات میں ہماری غیور پاک فوج رینجرز اور فرنٹیئر کور کے بہادر جوان ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان ظالموں اور سفاک قاتلوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکے ہیں وہ اپنی جانوں کے لازوال نذرانے پیش کر کے اس پاک مہم کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے دن رات برسرپیکار ہیں ان سیکیورٹی اداروں نے جدید ترین انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کو نیست و نابود کیا ہے اور سرحد پار سے پناہ پانے والے شرپسندوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے یہ معرکہ محض ایک روایتی فوجی کارروائی نہیں بلکہ بلوچستان کو ایک پرامن خوشحال اور محفوظ صوبہ بنانے کا قومی عزم ہے جس طرح پنجاب کی انتظامی ٹیموں نے انتھک محنت سے ظاہری گندگی کا خاتمہ کیا اسی طرح بلوچستان کو ان سفاک امن دشمنوں کے ناپاک وجود سے ہمیشہ کے لیے پاک کر دیا جائے گا تاکہ وہاں کے غیور اور محب وطن شہری امن اور حقیقی آزادی کی سانس لے سکیں اور ملک دشمن عناصر کا نام و نشان ہمیشہ کے لیے مٹ جائے یہ وقت ملکی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ہے جہاں ہمارے جانثار محافظوں کی بے مثال قربانیاں رنگ لا رہی ہیں اور وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب بلوچستان مکمل طور پر امن کا گہوارہ بن کر ابھرے گا اور ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو لے گا
بلوچستان اس وقت عالمی جیو پولیٹکس کا وہ حساس ترین میدان جنگ بن چکا ہے جہاں پاکستان کی معاشی شہ رگ یعنی گوادر پورٹ کو کاٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر انتہائی گہرے اور ہولناک جال بچھائے جا رہے ہیں گوادر اپنی سٹریٹیجک لوکیشن اور گہرے پانیوں کی بدولت دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی گزرگاہ ہے جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پورے خطے کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہندوستان اسرائیل اور ان کی ہمنوا شیطانی طاقتیں اس منصوبے کو اپنے وجود کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتی ہیں یہ ہندوستان اسرائیل اور شیطانی قوتیں ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں جن کا بنیادی مقصد نہ صرف سی پیک کو سبوتاژ کر کے چین کے عالمی معاشی اثر و رسوخ کو روکنا ہے بلکہ پاکستان کے اندرونی امن و امان کو مستقل طور پر مفلوج کر کے ملک کو معاشی اور انتظامی سطح پر دیوالیہ کرنا ہے اس گھناؤنے کھیل میں افغانستان کی سرزمین کو ایک بڑے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جہاں سے را اور موساد دہشت گرد تنظیموں کی بھاری مالی معاونت اسلحے کی فراہمی اور جدید تکنیکی تربیت کے ذریعے بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ انفراسٹرکچر پر حملوں اور فرقہ وارانہ نفرتوں کو ہوا دے رہی ہیں تاکہ پاکستان مستقل طور پر دفاعی پوزیشن پر مجبور رہے اور یہاں بیرونی سرمایہ کاری کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے اگر خدانخواستہ دشمن اپنے ناپاک عزائم اور چالوں میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا نقصان صرف پاکستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ پورے عالم اسلام کے لیے ایک ایسا المیہ ہوگا جس کی تلافی صدیوں ممکن نہ ہو سکے گی پاکستان امت مسلمہ کی واحد ایٹمی قوت ہے اور مشرق وسطیٰ سے لے کر ایشیا تک صیہونی عزائم اور گریٹر اسرائیل جیسے بھیانک ایجنڈے کی راہ میں سب سے بڑی اور مضبوط ترین رکاوٹ ہے اگر خدانخواستہ یہ دفاعی حصار کمزور پڑتا ہے تو صیہونی اور استعماری طاقتوں کو روکنے والا دنیا میں کوئی نہیں بچے گا اور پورا مسلم بلاک ان کے رحم و کرم پر آ جائے گا حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور اس کا سٹریٹیجک خوف اسرائیل کی رگ رگ میں بسا ہوا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کا ایک ایٹمی وار ہیڈ انہیں صفحہ ہستی سے مٹا کر محض داستانوں کا حصہ بنا سکتا ہے لہذا موجودہ نازک ترین حالات کا تقاضا ہے کہ تمام مسلم ممالک اپنی مصلحت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوں کیونکہ جب تک پاکستان کا مضبوط وجود قائم ہے تب ہی تک تمام مسلم ریاستیں خود کو محفوظ اور خود مختار تصور کر سکتی ہیں یہ کالم ہر محب وطن اور باشعور مسلمان کے لیے ایک فکری چیلنج ہے جو دشمن کی چالوں کو بے نقاب کرنے کے لیے پکار رہا ہے
بلوچستان کی پاک دھرتی پر بہنے والا بے گناہ شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے غیور جوانوں کا پاکیزہ خون اب ایک ایسا ناقابل برداشت صدمہ بن چکا ہے جس کا سنگین حساب چکانے کا وقت آ گیا ہے دشمن کے ناپاک عزائم کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اب روایتی جنگ سے بڑھ کر جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ایک فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے پاک فوج کو چاہیے کہ وہ جیو اسٹیشنری سیٹلائٹ امیجری کا نیٹ ورک اور جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے الگورتھمز کو دفاعی حکمت عملی کا حصہ بنائے تاکہ بلوچستان کے ناہموار پہاڑوں اور خفیہ غاروں میں چھپے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا رئیل ٹائم ڈیٹا حاصل کیا جا سکے اس ڈیجیٹل نگرانی کے ساتھ سگنلز انٹیلیجنس اور ڈرون ٹیکنالوجی کا مربوط استعمال دشمن کو سنبھلنے کا ایک بھی موقع نہیں دے گا اس گرینڈ آپریشن کی کامیابی کے لیے یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان شہریوں کو فوری طور پر ڈی پورٹ کیا جائے کیونکہ ہندوستان اور اسرائیل کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی بھاری انویسٹمنٹ اور دہشت گردی کی نرسریوں کے تانے بانے براہ راست انھی نیٹ ورکس سے جڑے ہیں جو یہاں پناہ لیے ہوئے ہیں پاکستانی قوم کو یہ پختہ یقین رکھنا ہوگا کہ ہمارے غیور سیکیورٹی ادارے آپ کے پرسکون کل اور آپ کی معصوم نسلوں کے محفوظ مستقبل کو بچانے کے لیے اپنے آج کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں مائیں اپنے جگر گوشے اور بہنیں اپنے سہاگ اس مٹی کی آبرو پر اس لیے قربان کر رہی ہیں تاکہ پاکستان کے آنگن ہمیشہ سلامت رہیں لہذا پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کیونکہ یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور جدید ترین انٹیلیجنس کے بل بوتے پر شروع ہونے والا یہ معرکہ بہت جلد دہشت گردوں کا نام و نشان مٹا کر وطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنا دے گا
بلوچستان کی غیور اور غیرت مند عوام کے لیے اب وہ تاریخی لمحہ آ چکا ہے جب انہیں اپنی مٹی کا قرض چکانے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ جب پاک فوج کے جوان آپ کے بچوں کی مسکراہٹوں اور آپ کی نسلوں کے پرامن کل کو بچانے کے لیے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں تو دھرتی کے ہر بیٹے ہر بیٹی ہر معزز سردار اور ہر حکومتی عہدیدار پر یہ فرض عا ئد ہوتا ہے کہ وہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے ضمیر فروشوں کے خلاف پاک فوج کی آنکھ اور کان بن جائیں اپنے شہروں گلیوں اور محلوں میں چھپے ان آستین کے سانپوں کی خفیہ معلومات سیکیورٹی اداروں تک پہنچانے کے لیے مخبری کا ایک ایسا مضبوط عوامی نیٹ ورک قائم کریں کہ ان سفاک قاتلوں کو چھپنے کے لیے دھرتی کی کوئی کوکھ میسر نہ آ سکے اس وقت سرحدوں کے آر پار ایک ایسا بے رحم اور جامع کلیئرنس آپریشن شروع ہو چکا ہے جو بلوچستان کے ایک کونے سے لے کر ایران اور افغانستان کے آخری بارڈر تک پھیلا ہوا ہے جہاں اب ان ناسوروں سے کوئی بات چیت یا رعایت نہیں ہوگی بلکہ انہیں صرف اور صرف عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا اس صور تحال نے ہندوستان اور اسرائیل جیسے مکار دشمنوں کو شدید بے بسی کی تصویر بنا دیا ہے جو یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ایٹمی پاکستان پر براہ راست حملہ کرنے کی جرات کبھی نہیں کر سکتے اس لیے وہ ہمیشہ افغانستان کے چور دروازوں سے بزدلانہ وار کرتے ہیں لیکن پاکستان دشمن کی ہر چال کو کچلنے کی مکمل اور بھرپور اہلیت رکھتا ہے قوم اس بات پر کامل یقین اور امید رکھے کہ جب تک پاک فوج کا ایک بھی جانثار زندہ ہے دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی ہمارے شہدا کا پاکیزہ لہو ضائع نہیں جائے گا اور یہ دھرتی بہت جلد امن کا گہوارہ بن کر چمکے گی






