#چیف ایڈیٹر

قومی اداروں پر تنقید اور سیاسی ذمہ داری

SAFDAR ALI KHAN 1 1

تحریر۔۔۔صفدر علی خاں

پاکستان کی سیاست میں اختلافِ رائے ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور دیکھا جائے تو یہ جمہوری معاشرے کی علامت بھی ہے۔ سیاسی جماعتیں اور رہنما حکومتی پالیسیوں اور ریاستی معاملات پر تنقید کا حق رکھتے ہیں ، لیکن اس حق کے استعمال میں الفاظ کا انتخاب ، لہجہ اور قومی مفاد کو پیشِ نظر رکھنا ہر ذمہ دار سیاسی قائد پر لازم ہوتا ہے۔افسوس صد افسوس کہ لاہور کے قریب ایک جلسے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے ایسی گفتگو سامنے آئی ہے جو فوج اور شہداء کے حوالے سے انتہائی نامناسب اور بے حسی پر مبنی ہے۔ مولانا فضل الرحمان ملک کے سینئر ترین سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی پارلیمانی سیاست، مذہبی اثر و رسوخ اور قومی معاملات پر طویل جدوجہد سے انکار ممکن نہیں اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ ان کے الفاظ عام سیاسی رہنماؤں کے مقابلے میں زیادہ وزن رکھتے ہیں اور زیادہ دور تک اثر انداز ہوتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی فضا شدید کشیدگی کا شکار ہے لہذا کسی حد تک سوچا جا سکتا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کی کمی، انتخابی سیاست کے تقاضے، کارکنوں کو متحرک رکھنے کی ضرورت اور حکومت و اپوزیشن کے مابین بڑھتی ہوئی تلخی اکثر رہنماؤں کو جذباتی اور سخت بیانات کی طرف لے جاتی ہے۔ بعض اوقات جلسوں میں عوامی جوش پیدا کرنے کے لیے کچھ تلخ باتیں بھی ہو جاتی ہیں مگر اتنی تلخی کا کوئی جواز نہیں بنتا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج اور شہداء کے معاملے کو صرف سیاسی اختلاف کا موضوع نہیں بنایا جا سکتا ۔ اس ملک کے ہزاروں فوجی ، افسران ، پولیس اہلکار اور شہری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔ شہداء کی قربانیوں کا احترام قومی اتفاقِ رائے کا حصہ رہا ہے۔ ہم سب پر لازم ہے کہ اگر کسی پالیسی، کردار یا ادارہ جاتی فیصلے پر اعتراض ہو تو اسے دلیل، آئینی حدود اور مہذب زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے، لیکن ایسے الفاظ جو شہداء کے اہلِ خانہ کے جذبات کو مجروح کریں، معاشرے میں تقسیم پیدا کریں اور لازمی طور پر اس قسم کے بیانات کے اثرات بھی دور رس ہوتے ہیں۔ جس سے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے اور سنجیدہ مکالمے کی گنجائش کم ہو جاتی ہے ، اسی کے ساتھ نوجوان نسل میں اداروں کے بارے میں منفی اور متضاد تصورات جنم لیتے ہیں اور مزید یہ کہ دشمن قوتیں پاکستان کے اندرونی اختلافات کو اپنے بیانیے کے لیے استعمال کرتی ہیں ،اس سب سے بڑھ کر شہداء کے خاندان خود کو غیر محفوظ اور غیر قدر دان محسوس کر سکتے ہیں، حالانکہ قوم ان کی قربانیوں کی ہمیشہ سے مقروض ہے۔
آج پاکستان کو اشتعال انگیز نعروں سے زیادہ تحمل ، مکالمے اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ سیاست دانوں، صحافیوں، دانشوروں اور ریاستی اداروں سب کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ لفظ صرف جلسے کے اسٹیج تک محدود نہیں رہتے ۔۔۔ وہ قوم کے ذہن اور دل میں اتر جاتے ہیں۔ قومی سلامتی ، شہداء کی حرمت اور جمہوری اختلاف ۔۔۔ ان تینوں کے درمیان توازن ہی ایک بالغ سیاسی معاشرے کی پہچان ہے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستان اپنی جنگی اور سفارتی کامیابیوں کی وجہ سے دشمنوں کو بہت کھٹک رہا ہے لہذا امید کی جانی چاہیے کہ تمام سیاسی قیادت مستقبل میں ایسی زبان اختیار کرے گی جو اختلاف کو زندہ رکھے مگر قومی وحدت کو زخمی نہ کرے ۔مولانا فضل الرحمان اور دیگر سیاستدانوں کو ہمیشہ یہ حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا چائیے کہ ان کے یہ تمام چونچلے پاکستان اور اس کی بہادر و مضبوط افواج کی ہی وجہ سے ہی ہیں لہذا پاکستان کے شہداء کی قربانیوں کو ہر سیاسی بحث سے بالاتر ہونا اور رکھنا چائیے کیونکہ اسی میں ہم سب کی بقاء ہے بصورت دیگر اپنے ارد گرد نظر دوڑا لیں۔ مثبت رویہ ہی ملک کو مزید مضبوط اور مستحکم بنا سکتا ہے اور آخر میں ایک بات اور۔۔۔شہادت اور شہید کا مرتبہ اللہ ربالعزت نے قرآن پاک میں طے کر دیا ہوا ہے۔۔۔

قومی اداروں پر تنقید اور سیاسی ذمہ داری

کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش

قومی اداروں پر تنقید اور سیاسی ذمہ داری

16/07/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے