#اداریہ

کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

Fahad 01

اج کا اداریہ

پنجاب کے پانچ خاندانوں پر اس وقت یہ خبر قیامت بن کر ٹوٹی جب انہیں پتہ چلا کہ انکے پیاروں کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ پانچ ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں۔بچے یتیم اور لاوارث ہوگئے۔ بلوچستان کے ضلع واشک میں گذشتہ روز فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی فائرنگ کے ایک واقعے میں جن پانچ مزدوروں کی شہادت ہوئی ان کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔20 سالہ محمد بلال کا تعلق رحیم یار خان کی تحصیل خانپور کے نواحی علاقہ فلڈ کالونی سے تھا اور وہ بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں مزدوری کرتے تھے۔بلال کے بھائی محمد اصغر نے میڈیاکو بتایا ہے کہ ’کسے معلوم تھا کہ پیسے کمانے کے لیے بلوچستان جا کر مزدوری کرنے والا بلال سہرا سجانے سے پہلے منوں مٹی تلے جا سوئے گا۔ بلوچستان کے وزیر اعلی سرفراز بگٹی نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ماشکیل میں ’نہتے اور بے گناہ مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔لوچوں نے پنجابیوں کو نہیں، دہشت گردوں نے پاکستانیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ حملہ پاکستان کی وحدت اور قومی یکجہتی پر حملہ ہے۔سرفراز بگٹی نے مزید کہا ہے کہ ’آزادی کا جھوٹا لبادہ اوڑھنے والے دہشت گرد ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔ ریاست ہر دہشت گرد اور اس کے سہولت کار کو انجام تک پہنچائے گی۔ پاکستان دہشت گردی کے سامنے نہ کبھی جھکا ہے اور نہ کبھی جھکے گا۔دریں اثنا ڈپٹی کمشنر واشک مجید سرپرہ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ذمہ دار افراد کی ’نشاندہی اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔اشک پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ماشکیل میں دکانوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچوں مزدور موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ فائرنگ کے فوراً بعد حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز فوری طور پر علاقے میں پہنچ گئیں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔
مقتولین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے آبائی اضلاع سیالکوٹ، نارووال اور رحیم یار خان روانہ کی گئی ہیں۔فائرنگ میں قتل ہونے والے 18 سالہ محسن رضا کا تعلق پنجاب کے ضلع نارووال کے علاقے غازیوال کالونی سے تھا۔
محسن کے ماموں محمد عمران نے بتایا کہ محسن اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔
’وہ اپنے محنت کش باپ کا سہارہ بننا چاہتا تھا، وہ کام سیکھنے کے لیے تین ہفتے پہلے ہی بلوچستان اپنے کزنز کے پاس گیا تھا تاکہ روزگار کمائے اور گھر کے حالات بدلیں۔وہ بتاتے ہیں کہ ’جہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا یہ اس کے کزن کی دکان نہیں تھی، بلکہ وہ ایک دوسری دکان پر گپ شپ کرنے کے لیے گیا تھا، جہاں اچانک دہشت گردوں نے حملہ کیا۔عمران بتاتے ہیں کہ بلوچستان کی تحصیل ماشکیل میں ان کے کئی رشتہ دار رہتے ہیں جن کے ذاتی کام اور دکانیں ہیں۔ ’اسی وجہ سے ہم نے محسن کو وہاں بھجوایا تھا تاکہ اپنوں میں رہے گا تو کام سیکھ جائے گا۔وہ کہتے ہیں کہ حملے کے وقت محسن گھر والوں سے کال پر بات کر رہے تھے۔ ’کال جاری تھی کہ اس دوران فائرنگ کی آواز آئی اور یہ وہی فائرنگ تھی جس میں محسن مارا گیا تھا۔‘بستی جٹکی کے رہائشی عبدالغنی کے بیٹے 40 سالہ بلال غنی بھی اسی واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ وہ گذشتہ 14، 15 برسوں سے بلوچستان میں محنت مزدوری کر رہے تھے جہاں ماشکیل کے علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں بلال ایک سال سے مزدوری کر رہا تھا۔عبدالغنی بتاتے ہیں کہ ان کا بیٹا نائی کی دکان پر شیو کروا رہے تھے کہ جب ان پر حملہ ہوا۔وہ کہتے ہیں کہ ‘بلال تین، چار مہینوں سے کہہ رہا تھا کہ اب یہاں (بلوچستان کے) حالات ٹھیک نہیں اور پنجابیوں کی جان کو خطرہ رہتا ہے تو اس نے اپنے ٹھیکے دار کو کہہ رکھا تھا کہ وہ پنجاب واپس جانا چاہتا ہے اس لیے اس کا حساب کتاب کلیئر کر دیا جائے اور اس کی مزدوری کی رقم ادا کردی جائے۔بلوچستان میں مسلح افراد کی جانب سے مسافروں کو بسوں سے اتار کر گولیاں مارنے یا غیر بلوچ مزدوروں کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں۔ البتہ ابھی تک کسی بھی گروہ یا فرد کی جانب سے اس حملے کی باقاعدہ ذمے داری قبول نہیں کی گئی۔پچھلے سال بھی بلوچستان بھر میں اس طرح کے متعدد واقعات رونما ہوئے جن میں سب سے اندوہناک واقعہ اگست میں بلوچستان اور پنجاب کی سرحد کے قریب ضلع موسیٰ خیل میں پیش آیا تھا۔
پولیس رپورٹس کے مطابق کم از کم 23 افراد کو ان کی گاڑیوں سے زبردستی اتارا گیا اور انہیں شناخت کے دوران پنجابی معلوم ہونے پر قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کی ذمے داری بلوچ لبریشن آرمی بشیر زیب گروپ نے قبول کی تھی۔
اکتوبر میں بلوچستان کے ضلع پنجگور میں نامعلوم افراد نے رہائشی عمارت میں گھس کر فائرنگ کرتے ہوئے سات مزدوروں کو قتل کردیا تھا جن کا تعلق پنجاب سے تھا۔اپریل میں نوشکی میں کوئٹہ اور ایران کی سرحد پر واقع پاکستانی شہر تفتان کے درمیان شاہراہ پر ایک بس سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو مسافر وں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔اپریل ہی میں ساحلی شہر گوادر کے علا قے سربندر میں مسلح افراد نے ایک کمرے میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں سات مزدور زند گی کی بازی ہار گئے تھے۔اس سے قبل بلوچستان کے ضلع قلات میں31 جنوری اور یکم فروری کی درمیانی شب مسلح افراد کی جانب سے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر پنجگور سے آنے والی ایک بس پر فائرنگ سے 17سیکیورٹی اہلکار شہید کردیے گئے تھے۔
ایک رپورٹ میں تجزیہ کیا گیاہے کہ بی ایل اے شروع ہی سے غیر بلوچ افراد، خاص طور پر پنجابیوں اور سندھیوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ مگر حال ہی میں اپنائی جانے والی نئی حکمتِ عملی کے تحت وہ بلوچستان کی اہم شاہراہوں پر مسافر بسوں اور ٹرکوں کو روکتی ہے اور شناختی کارڈز کے ذریعے شناخت کی تصدیق کے بعد وہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو قتل کر دیتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ یہ حملے کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے بلوچستان اور پنجاب کے درمیان تناؤ کو بڑھانے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہے کیوں کہ ان تنظیموں کی بقا پنجاب کے خلاف دشمنی کو فروغ دینے میں مضمر ہے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے