وزیراعلیٰ پنجاب کا نوجوانوں کی بہبود و ترقی کا ویژن اور نسیم نقوی کی ایوارڈ تقریب
تحریر: محمد ندیم بھٹی،
قوموں کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ھے کہ جن معاشروں نے اپنی نوجوان نسل کو تعلیم، تربیت، مواقع اور مثبت سمت فراہم کی وہی دنیا میں ترقی کی منازل طے کر سکے۔ نوجوان کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ھوتے ہیں اور ان کی فکری و عملی تربیت دراصل مستقبل کی سمت کا تعین کرتی ھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کا وژن بھی اسی بنیادی فلسفے پر قائم ھے کہ نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے، انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور انہیں معاشی، تعلیمی اور تکنیکی میدان میں آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہی ویژن آج پنجاب میں مختلف اصلاحاتی اقدامات اور نوجوان افراد بہبودی کی پالیسیوں کی صورت میں نمایاں دکھائی دیتا ھے، جس کا مقصد ایک ایسا پاکستان تشکیل دینا ھے جہاں ہر نوجوان کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع مل سکے۔
اسی ویژن کے تسلسل میں لاھور کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ایک شاندار، باوقار اور یادگار تقریب منعقد ھوئی جس کا اہتمام معروف سماجی شخصیت نسیم نقوی اور ان کی ٹیم نے کیا۔ اس تقریب کا مقصد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد، نوجوانوں اور سماجی رہنماؤں کو اعزازات اور خصوصی میڈلز سے نوازنا تھا تاکہ ان کی محنت اور خدمات کو سرکاری و عوامی سطح پر سراہا جا سکے اور دوسروں کے لیے ترغیب کا باعث بنایا جا سکے۔ تقریب کا ماحول انتہائی پرُوقار تھا جہاں روشنیوں سے سجا ہال، مہمانوں کی موجودگی اور نوجوانوں کے چہروں پر امید اور اعتماد کی جھلک اس بات کی عکاسی کر رھی تھی کہ یہ محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ھے۔
تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن، وزیر خزانہ، سابق صوبائی وزیر تعلیم اور وائس چانسلر ساوتھ ایشیا یونیورسٹی عمران مسعود اور رکن پنجاب اسمبلی آمنہ الفت شامل تھے۔ ان میں سے دو شخصیات نے اپنے خطابات میں نوجوان نسل کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا مستقبل ان نوجوانوں کے ہاتھ میں ھے جنہیں آج صحیح سمت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان تعلیم، تحقیق، اخلاقی تربیت اور جدید مہارتوں کو اپنائیں تو وہ نہ صرف اپنے لیے کامیابی کے دروازے کھول سکتے ہیں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مقررین نے یہ بھی کہا کہ نوجوانوں کی رہنمائی صرف نصیحت سے نہیں بلکہ عملی مواقع فراہم کرنے سے ممکن ھے۔
تقریب میں پنجاب کے وزیر خزانہ بھی بطور مہمانِ خصوصی مدعو تھے، تاہم بجٹ کی تیاری اور حکومتی مصروفیات کے باعث وہ تقریب میں شریک نہ ھو سکے۔ انہوں نے اپنی معذرت کے ساتھ ایک خصوصی پیغام ارسال کیا جس میں انہوں نے اس ایوارڈ تقریب کو نوجوانوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ھوئے کہا کہ حکومت پنجاب نوجوانوں کی ترقی، تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رھی ھے اور ایسے پروگرامز اس وژن کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوان ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور ان پر سرمایہ کاری ھی مستقبل کی کامیابی کی ضمانت ھے۔
تقریب کا ایک اہم اور یادگار خطاب سابق صوبائی وزیر تعلیم اور وائس چانسلر ساوتھ ایشیا یونیورسٹی عمران مسعود کا تھا۔ انہوں نے نوجوانوں کو خاص طور پر یہ نصیحت کی کہ وہ جدید دور کی جدت آمیز تعلیمات کو اپنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا دور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیٹا سائنس، فری لانسنگ اور عالمی معیشت میں تیزی سے بدلتے رجحانات کا دور ھے۔ نوجوان اگر ان جدید علوم کو نہ سیکھیں گے تو وہ عالمی مقابلے میں پیچھے رہ جائیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان صرف روایتی تعلیم تک محدود نہ رہیں بلکہ تحقیق، تخلیق اور عملی مہارتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ عمران مسعود نے واضح الفاظ میں کہا کہ جو نوجوان مسلسل محنت کرے گا، وقت کی قدر کرے گا اور خود کو بدلتے حالات کے مطابق ڈھالے گا وھی کامیابی کی نئی منزلیں حاصل کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹیاں صرف ڈگری دینے کی جگہ نہیں بلکہ شخصیت سازی کے مراکز ہیں، اور نوجوانوں کو ان سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔
اسی تقریب میں انجمن تاجران آل پاکستان کے چیئرمین چوہدری ابو بکر کی تقریر نے شرکاء کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کو مسلسل محنت، دیانت داری اور کاروباری سوچ اپنانے کا پیغام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کاروبار اور تجارت کے بے شمار مواقع موجود ہیں لیکن کامیابی صرف انہی کو ملتی ہے جو محنت، صبر اور ایمانداری کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان صرف نوکری کے انتظار میں نہ بیٹھیں بلکہ چھوٹے کاروبار سے آغاز کریں، مارکیٹ کے تقاضوں کو سمجھیں اور اپنی محنت کے ذریعے خود مختار بنیں۔ چوہدری ابو بکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشی استحکام اسی وقت ممکن ھے جب نوجوان طبقہ کاروبار، تجارت اور جدید انٹرپرینیورشپ کی طرف آئے۔ ان کی گفتگو میں بار بار یہ پیغام نمایاں تھا کہ مسلسل محنت ہی کامیابی کی کنجی ھے، اور جو نوجوان ہمت نہیں ہارتا وھی آخرکار کامیابی حاصل کرتا ھے۔ تقریب کے دوران نسیم نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ ایسے افراد اور نوجوانوں کو سراہتے ہیں جو معاشرے میں خاموشی سے مثبت کردار ادا کر رھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کی اصل ترقی انہی لوگوں کی بدولت ممکن ھوتی ھے جو بغیر کسی ذاتی مفاد کے دوسروں کی خدمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوارڈز صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہیں جو مزید بہتر کارکردگی کی طرف راغب کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ مثبت سوچ، برداشت اور خدمت کے جذبے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اس پروقار تقریب میں راقم محمد ندیم بھٹی،چئیرمین






