#کالم

تعلیمی اداروں میں منشیات کا ناسور

Untitled 13 1


تحریر: رفیع صحرائی
۔۔۔۔۔۔۔
26 جون کو دنیا بھر میں انسدادِ منشیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد محض سیمینار منعقد کرنا، بینرز آویزاں کرنا اور چند رسمی بیانات جاری کرنا نہیں بلکہ پوری انسانیت کو اس خطرناک ناسور کے خلاف متوجہ کرنا ہے جو خاموشی سے قوموں کی بنیادیں کھوکھلی کر رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں منشیات کا مسئلہ نہ صرف سنگین بلکہ خوفناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
ایک کروڑ سے زائد پاکستانیوں کا منشیات کی لت میں مبتلا ہونا معمولی بات نہیں۔ یہ تعداد دراصل ایک قومی المیہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ منشیات فروشوں نے اب اپنے قدم تعلیمی اداروں تک پھیلا دیے ہیں۔ وہ تعلیمی ادارے جو علم، کردار اور تہذیب کے مراکز سمجھے جاتے تھے، آج بعض مقامات پر ڈرگ مافیا کے نشانے پر ہیں۔
یہ محض چند نوجوانوں کی بربادی کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل پر حملہ ہے۔ جو قوم اپنے نوجوانوں کو نشے کے عذاب سے نہ بچا سکے، وہ ترقی، استحکام اور خوشحالی کے خواب کیسے دیکھ سکتی ہے؟
تاریخ گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں کسی ملک کو کمزور کرنے کے لیے اس کی نوجوان نسل کو اخلاقی، ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو منشیات کے ذریعے تباہ کرنے کی ایک منظم کوشش جاری ہے۔ یونیورسٹیوں، کالجوں اور اب سکولوں میں بھی نشہ آور اشیاء کی رسائی ایک خطرناک رجحان ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ منشیات کی خرید و فروخت نے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے لیا ہے۔ سوشل میڈیا، واٹس ایپ گروپس اور آن لائن نیٹ ورکس کے ذریعے نوجوانوں کو نشے کے جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔ گھر بیٹھے منشیات کی سپلائی نے والدین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
اس کی کئی وجوہات ہیں۔ والدین کی مصروفیات، بچوں پر عدم توجہ، اخلاقی تربیت کا فقدان، تعلیمی اداروں میں مؤثر نگرانی کی کمی، بے روزگاری، ذہنی دباؤ، سوشل میڈیا کا منفی استعمال اور دوستوں کی بری صحبت نوجوانوں کو اس دلدل میں دھکیل رہی ہے۔
بعض والدین بچوں کی بہترین تعلیم کے لیے انہیں بڑے شہروں کے ہوسٹلز میں بھیج دیتے ہیں، مگر ان کی ذہنی اور اخلاقی نگرانی کا مناسب انتظام نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان میں سے کچھ نوجوان غلط صحبت کا شکار ہو کر اپنی زندگیاں برباد کر لیتے ہیں۔
یہاں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ڈرگ مافیا ایک منظم اور طاقتور نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اکثر اوقات یہ مافیا قانون کی گرفت سے بھی بچ نکلتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑی مچھلیوں کو بچانے کے لیے چھوٹی مچھلیاں جال میں پھنسا دی جاتی ہیں، اگر کوئی بڑی مچھلی کبھی جال میں پھنس بھی جائے تو اتنی طاقت ور ہوتی ہے کہ قانون کے جال کو پھاڑ کر باہر نکل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسدادِ منشیات کے قوانین اور ان پر عملدرآمد دونوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے دور میں "کنٹرول آف نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ” اور خصوصی عدالتوں کے قیام کی تجویز ایک قابلِ تحسین قدم تھا۔ تعلیمی اداروں کے گرد مخصوص حدود میں منشیات فروشی پر سخت سزاؤں کی تجویز بھی ایک مثبت پیش رفت تھی۔ بدقسمتی سے سیاسی تبدیلیوں کے باعث یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ موجودہ صوبائی حکومتوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایسے اچھے منصوبوں کو اپنانا چاہیے۔ اچھی پالیسی کسی جماعت کی میراث نہیں بلکہ قوم کا اثاثہ ہوتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ:
ہر ضلع میں خصوصی انسدادِ منشیات یونٹ قائم کیے جائیں سکولوں اور کالجوں کے اطراف مستقل نگرانی کا نظام بنایا جائے۔منشیات فروشی کے مقدمات کے لیے خصوصی عدالتیں قائم ہوں اور ان کا فیصلہ مقررہ مدت میں کیا جائے۔ سس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں باقاعدہ ڈرگ اسکریننگ اور کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں نیز والدین اور اساتذہ کے لیے آگاہی پروگرام شروع کیے جائیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے منشیات فروشی کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف سائبر کریک ڈاؤن کیا جائے اور نشے کے عادی نوجوانوں کی بحالی کے لیے جدید بحالی مراکز قائم کیے جائیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے نصاب میں "ڈرگ ایجوکیشن” کو کسی اضافی مضمون کے طور پر نہیں بلکہ دیگر مضامین میں نفوذ (Infusion) کے طریقے سے شامل کیا جائے۔ بچے اگر کم عمری ہی سے منشیات کے جسمانی، نفسیاتی، معاشرتی اور مذہبی نقصانات سے آگاہ ہو جائیں تو وہ اس لعنت سے دور رہنے کا شعور حاصل کر سکتے ہیں۔
منشیات صرف ایک فرد کو تباہ نہیں کرتیں بلکہ ایک پورے خاندان کو برباد کر دیتی ہیں۔ ایک نشئی نوجوان اپنے والدین کی امیدیں، بہن بھائیوں کے خواب، بیوی کی خوشیاں اور بچوں کا مستقبل اپنے ساتھ لے ڈوبتا ہے۔
اگر آج ہم نے اپنے تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک نہ کیا تو کل ہمیں یونیورسٹیوں سے سائنس دان، ڈاکٹرز، انجینئرز اور اساتذہ نہیں بلکہ نشے کے عادی نوجوان ملیں گے۔ پھر ہم ترقی، خوشحالی اور قومی تعمیر کے خواب صرف تقریروں میں ہی دیکھتے رہ جائیں گے۔
یہ وقت سیاسی اختلافات کا نہیں بلکہ قومی بقا کا ہے۔ سیاسی رہنما، ریاست، والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما، میڈیا اور سول سوسائٹی سب کو مل کر اس ناسور کے خلاف جہاد کرنا ہوگا۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ جو قوم اپنے نوجوانوں کو بچا لیتی ہے، وہ اپنا مستقبل بچا لیتی ہے، اور جو اپنے نوجوان کھو دیتی ہے، تاریخ میں گم ہو جاتی ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے