#کالم

” حسین علیہ السلام سب کے "

ChatGPT Image Jun 16 2026 12 53 45 AM

حروف بے زباں
مرزا رضوان

تاریخِ انسانی کے صفحات پر بہت سے نام رقم ہیں، مگر کچھ نام ایسے ہیں جو صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک پوری کائنات، ایک پورا فلسفہ اور ابدیت تک پھیلا ہوا نور ہیں۔ ان میں سب سے تابناک، سب سے عظیم اور سب سے مقدس نام شہزادہِ کونین، نواسہِ رسول، جگر گوشہِ بتول سرکار سیدنا امام حسین علیہ السلام کا ہے۔ آپ علیہ السلام کی ذاتِ اقدس صرف ایک قبیلے یا ایک گروہ کی میراث نہیں، بلکہ آپ انسانیت کا وہ روشن مینار ہیں جس کی ضو پاشیاں آج بھی ہر دور کے اندھیروں کو کافور کر رہی ہیں۔
سیدنا امام حسین علیہ السلام کی محبت کسی خاص عقیدے، خطے یا مذہب کی قید سے ماورا ہے۔ آپ کی ذات میں وہ مقناطیسی کشش ہے جس نے صدیوں سے ہر صاحبِ دل انسان کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ آپ کا ذکرِ خیر سن کر صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ دنیا کے دیگر مذاہب کے پیروکار بھی عقیدت کے پھول نچھاور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ہندو مت کے متصوفین ہوں، عیسائیت کے دانشمند ہوں یا سکھ مذہب کے پیشوا—سب نے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سرکار سیدنا امام حسین علیہ السلام کی قربانی کو انسانی عظمت کی معراج قرار دیا ہے۔ گاندھی کا یہ کہنا کہ "میں نے حسین علیہ السلام سے سیکھا ہے کہ مظلوم ہو کر ظالم سے کیسے لڑا جاتا ہے،” اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی ذاتِ اقدس عالمگیر انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ حق اور باطل کی جنگ میں مذہب کی دیواریں گر کر صرف اخلاق اور اصول باقی رہ جاتے ہیں ۔ کربلا کا میدان صرف ایک جنگی معرکہ نہیں، بلکہ یہ ایثار اور قربانی کا وہ امتحان تھا جہاں عقل دنگ رہ جاتی ہے۔سیدنا امام حسین علیہ السلام نے اپنے نانا رحمت اللعالمین، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دینِ مبین کو بچانے کے لیے جس طرح اپنے پورے خاندان، اپنے شیر خوار علی اصغر، اپنے بھائیوں اور اپنے جاں نثار ساتھیوں کی قربانی دی، اس کی مثال تاریخ کی کسی کتاب میں موجود نہیں۔آپ کا ایثار یہ نہیں تھا کہ آپ نے صرف جان دی، بلکہ آپ کا ایثار یہ تھا کہ آپ نے ظلم کے سامنے سرِ تسلیمِ خم کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ نے تپتی دھوپ، بھوک اور پیاس کی شدت میں بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ آپ کی اور آپکے رفقاء کی قربانی نے یہ پیغام دیا کہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی حق پرست کے حوصلے کو پست نہیں کر سکتی اگر وہ خدا کے حضور سجدہ ریز ہو ،امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہمیں درس دیتی ہے کہ سکون، عیش و آرام اور مصلحت پسندی کے لیے ضمیر کا سودا نہیں کیا جاتا۔ آپ کی شہادت حق کی وہ فتح ہے جس کی گونج آج بھی ظالم کے ایوانوں کو ہلا دیتی ہے۔ آپ نے ہمیں سکھایا کہ اگر معاشرے میں برائی عام ہو جائے تو ایک فرد کا تنہا کھڑا ہو جانا بھی ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔آپ کا پیغام آج بھی وہی ہے: "ظلم کے خلاف خاموشی خود ظلم کی حمایت ہے۔” آپ نے اپنی حیاتِ مقدسہ میں کبھی بھی کسی ایسی بات پر سمجھوتہ نہیں کیا جو دین محمدی سے الگ اور اخلاقیات کے منافی ہو۔ یہ وہ ابدی درس ہے جو آج بھی ان لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو ناانصافی، جبر اور آمریت کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔
آج ہم جس پرآشوب دور میں جی رہے ہیں، جہاں انتشار، بے یقینی اور مادی ترقی کی دوڑ میں انسانی اقدار دم توڑ رہی ہیں، وہاں امام حسین علیہ السلام کی سیرت ہمارے لیے آبِ حیات ہے۔آج کی حسینیت کا تقاضا ہے کہ ہم معاشرے میں پھیلی نفرتوں کو محبت میں بدلیں۔ جہاں کہیں بھی حق کا گلا گھونٹا جا رہا ہو، وہاں حسین علیہ السلام کے سچے پیروکار بن کر آواز بلند کریں۔ جب ہم اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، جب ہم کسی مظلوم کی ڈھارس بندھاتے ہیں، اور جب ہم جھوٹ کے مقابل سچ کا علم بلند کرتے ہیں، تو درحقیقت ہم حسینیت کی روح کو زندہ کر رہے ہوتے ہیں۔امام حسین علیہ السلام! آپ ماضی کا قصہ نہیں، آپ حال کی ضرورت اور مستقبل کا استعارہ ہیں۔ آپ کا ذکرِ خیر ہی ہمارے ایمان کی تازگی کا ضامن ہے۔ اے فرزندِ رسول! آپ کی ذاتِ اقدس پر لاکھوں درود و سلام، آپ کی قربانی کو تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکے گی۔ آپ تو سب کے ہیں، آپ تو کل انسانیت کے ہیں، اور آپ کی محبت ہی دنیا و آخرت میں کامیابی کا واحد راستہ ہے۔خدا ہمیں امام الشہداء سیدنا امام حسین علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلنے، حق پر ثابت قدم رہنے اور انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے