روحانی بصیرت کا مسافرمنبر سے دل تکمولانا طارق جمیل کاعکسِ جمیل
منشاقاضی حسبِ منشا

اگر ہمارے عہد کے روحانی منظرنامے کو کسی ایک پُرسکون روشنی سے منور پایا جائے تو وہ روشنی مولانا طارق جمیل کی شخصیت سے پھوٹتی ہے۔ وہ محض ایک مبلغ یا عالم نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان ہیں ، جن کے وجود سے نرمی، حکمت، محبت اور روحانی سکون کی خوشبو آتی ہے۔ ان کا لہجہ بلند نہیں، مگر اثر انگیز ہے؛ ان کی گفتگو سادہ ہے، مگر دلوں میں اترتی ہے؛ اور ان کی شخصیت پرسوز نہیں، لیکن دلوں کو پگھلا دینے والی گہرائی رکھتی ہے۔
روح کی آنکھ سے دیکھنے والا انسان
مولانا کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ انسان کو اس کے ظاہر سے نہیں، اس کی باطنی دھڑکن سے پہچانتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی اصل تصویر اس کے چہرے پر نہیں، دل میں بنتی ہے۔ اسی لیئے ان کی گفتگو میں ہمیشہ "دل” کا ذکر نمایاں رہتا ہے ۔ دل جھوٹ نہیں بولتا ، سید عطاءاللہ شاہ بخاری کہا کرتے تھے کہ میرا دماغ غلطی کر سکتا ہے لیکن دل نے آج تک غلطی نہیں کی ، دل کی نرمی، دل کی صفائی، دل کا تعلق اپنے رب سے جوڑنے کا سفر…
مولانا طارق جمیل ہمارے عہد کے اُن نمایاں مذہبی مفکرین اور مبلغین میں سے ہیں جنہوں نے دعوتِ دین کو محض خطابت یا درس کے دائرے میں محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے انسانی اخلاق، روحانی تہذیب اور سماجی ہم آہنگی کے ایک وسیع تر بیانیئے میں ڈھالا۔ ان کی زندگی کا سفر کسی روایتی خطیب کا سفر نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کی داستان ہے ، جس نے اپنا دل، اپنا فکر، اپنا علم اور اپنا وقت دوسروں کے لیئے وقف کیا۔ ان کی شخصیت میں جہاں عالمِ دین کی جاذبِ نظر سنجیدگی ہے، وہاں صوفیانہ نرم دلی، سماجی خدمت کا جذبہ اور انسانی دکھوں سے بے پناہ آگہی بھی شامل ہے۔
ابتدائی زندگی اور شعور کا سفر 23 جون 1953ء میں میاں چنوں کے قریب ایک زمیندار گھرانے میں جنم لینے والے طارق جمیل کے بچپن میں شاید یہ کوئی نہیں سوچ سکتا تھا کہ یہ بچہ آگے چل کر پورے عالمِ اسلام میں پہچانا جانے والا ایک ایسا مبلغ بنے گا جو لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن جائے گا۔ ان کا نوجوانی کا دور زندگی کی معمولی روایات، دنیاوی امنگوں اور اعلیٰ تعلیم کے حصول میں گزرا۔ اُنہیں طب سے خاص دلچسپی تھی اور وہ ڈاکٹر بننے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن قدرت نے ان کے لیئے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔ ایک موقع پر تبلیغی جماعت کے چند افراد سے ملاقات نے ان کی زندگی کی سمت یکسر بدل دی۔ یہ ملاقات محض ایک فکری جھٹکا نہ تھی بلکہ روحانی بیداری کا ایسا دروازہ ثابت ہوئی جس سے گزر کر وہ دنیاوی مقصد سے نکل کر ایک بڑے مقصد کی طرف بڑھنے لگے۔ دینی تعلیم کے لیئے جامعہ عربیہ رائے ونڈ کا انتخاب کیا، جہاں ان کے اندر موجود فکری گہرائی، اخلاقی مزاج اور روحانی حساسیت نے ایک نئی صورت اختیار کی۔ مولانا طارق جمیل کا پیغام اور ان کی پوری خطابت "نرمی” کے فلسفے پر قائم ہے۔ جب دنیا میں مذہبی اختلافات، فکری انتشار اور جذباتی شدت پسندی بڑھ رہی تھی، مولانا نے اپنی گفتگو میں محبت، حلم، برداشت اور انسانوں کو قریب لانے کی روش اختیار کی۔ ان کی زبان میں وہ چاشنی ہے جو دلوں کو بے ساختہ مسخر کر لیتی ہے۔ وہ دلیل سے زیادہ دلائلِ محبت دیتے ہیں، جھڑکنے کے بجائے گلے لگاتے ہیں، اور مایوس دلوں کو امید کی روشنی دیتے ہیں۔ ان کی تقاریر میں مذہبی احکامات کے ساتھ انسانی کمزوریوں کی تفہیم، نفسیات کی باریکیاں اور معاشرتی اصلاح کا سبق بھی جھلکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان، ادیب، سیاست دان، کھلاڑی، فنکار اور عام لوگ، سب ہی ان کے مخاطب بنتے ہیں۔ اگر مولانا طارق جمیل کی شخصیت کو ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ علم اور عشق دونوں کے مسافر ہیں۔ ان کی گفتگو میں علمی گہرائی بھی ہے اور صوفیانہ لطافت بھی۔ یہ امتزاج شاید ہی کسی خطیب میں اس حد تک موجود ہو۔ ان کی طبیعت عاجزانہ، مزاج نرم اور لہجہ انتہائی نفیس ہے۔ وہ ٹھہر کر بولتے ہیں، سوچ کر جملہ ادا کرتے ہیں، اور ہر لفظ میں خیر کی نیت جھلکتی ہے۔ ان کی شخصیت کی کشادہ ظرفی اس بات سے عیاں ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود محبت کا دروازہ بند نہیں کرتے۔ اہلِ سیاست ہوں یا اہلِ فن — وہ سب سے وہی نرمی اور احترام سے ملتے ہیں۔ ان کی دعائیں لوگوں کے لیئے مرہم کا کام کرتی ہیں۔
مولانا طارق جمیل کی خطابت کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ محض مذہبی بیانیہ نہیں دیتے بلکہ انسانی نفسیات، اخلاقیات، تاریخ، سیرتِ نبوی، صوفیانہ روایات اور معاشرتی مسائل کو ایک مربوط انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں قرآن و حدیث کی روشنی بھی ہے اور زندگی کی مثالیں بھی۔ یہ وہ توازن ہے جو ان کے درس کو نہ صرف اہلِ مذہب بلکہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے بھی قابلِ فہم اور قابلِ قبول بناتا ہے۔
مولانا طارق جمیل کی خدمات صرف منبر تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے انسانیت کے درد کو اپنے عمل کا محور بنایا۔
1. سماجی اور فلاحی خدمات
’’طارق جمیل فاؤنڈیشن‘‘ کے ذریعے انہوں نے تعلیم، صحت، فلاحی منصوبوں اور مستحقین کی مدد کے سلسلے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، یتیموں کی کفالت، غریبوں کے لیئے امدادی پروگرام — یہ سب اُن کی عملی زندگی کا حصہ ہیں۔ گردوں کی صفائی کے مراکز جو رحمٰن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اور چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز جیسے عجوبہ ء روزگار معالج کی زیر نگرانی چل رہے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ مولانا طارق جمیل کی توجہ ان گردوں کے مریضوں کی طرف بھی مبذول ہو جو بسترِ علالت سے لیکر اسماں کی نیل گوں بستوں تک اپ نے روحانی مسیح مولانا طارق جمیل کی راہ تک رہیں اور رحمان فاؤنڈیشن کے سارے ڈائریکٹر صاحبان انہیں ارادت و عقیدت کے چراغوں کی روشنی کی لو میں





