والد کے عالمی دن پر ایک باپ کا اعتراف
تحریر :۔ جاویدایازخان احساس کے انداز
گو اسلامی تعلیمات کے مطابق تو ہردن ہی باپ کی عظمت کے اعتراف کا دن ہوتا ہے لیکن رواج یہ ہے کہ اکیس جون کو دنیا بھر میں والد کا عالمی دن منایا جاتا ہے جب پوری دنیا کے بچے اپنے والد کو مختلف انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔اس مرتبہ میرے بچوں نے بھی میرے سے ایک خوبصورت کیک کٹوا کر اور مباکباد دۓ کر یہ دن منایا اور اپنے بوڑھے باپ کی ان خدمات کا اعتراف کیا جو اب ماضی کا حصہ بن چکی ہیں باپ کے عالمی دن پر دنیا بھر میں باپ کی محبت، قربانیوں اور ذمہ داریوں کا ذکر کیا جاتا ہے، دنیا بھر کے باپوں کو یہ عالمی دن مبارک ہو !
مگر شاید اس دن کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ باپ بھی اپنے دل کے دریچے کھول کر اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف کرے۔ کیونکہ باپ بھی آخر انسان ہوتا ہے، فرشتہ نہیں اس لیے اعتراف کا اظہار کوئی کمزوری نہیں رشتوں کا حق ہے ۔اعتراف بھی اظہار محبت کی طرح رشتوں کی اوکسیجن ہے جیسے جسم کے لیے سانس ضروری ہے رشتوں کے لیے زبان سے کیا گیا اعتراف اورعمل سے کیا گیا خلوص ضروری ہے ۔ آج میں بطور باپ یہ تسلیم کرتا ہوں کہ زندگی کی دوڑ میں بچوں کے لیے بہتر مستقبل بنانے کی کوشش کرتے کرتے بعض اوقات ان کے حال کو نظر انداز کر بیٹھا۔ رزق کی تلاش میں اتنا مصروف رہا کہ کئی بار ان کی ننھی خواہشیں، ان کے سوال، ان کی خاموشیاں اور ان کے انتظار کو سمجھ نہ سکا۔ میں مانتا ہوں کہ کبھی سخت لہجے نے محبت کے اظہار کو دبا دیا، کبھی نصیحتوں کی زیادتی اور ڈانٹ نے دوستی کا راستہ روک لیا، اور کبھی اپنی تھکن کو بچوں کی غلطی سمجھ کر ان پر ناراضی اتار دی۔ میں نے ان کے لیے گھر بنایا، آسائشیں فراہم کیں، مگر شاید وہ وقت نہ دے سکا جس کی انہیں سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ باپ اکثر اپنے جذبات کو چھپاتا ہے۔ وہ آنسوؤں کو کمزوری سمجھ کر پی جاتا ہے اور محبت کو ذمہ داریوں کے پردے میں چھپا دیتا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ بہت سے باپ اپنی اولاد سے بے پناہ محبت کے باوجود اس محبت کا اظہار کرنا نہیں جانتے۔ آج اس عالمی دن پر میں اپنی اولاد سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر میری کسی سختی نے تمہارے دل کو دکھایا، اگر میری کسی بے توجہی نے تمہیں تنہا محسوس کرایا، اگر میری کسی توقع نے تم پر بوجھ ڈالا، تو میں اس کا اعتراف بھی کرتا ہوں اور معذرت بھی۔ باپ کی سب سے بڑی خواہش اپنی اولاد کی کامیابی اور خوشی ہوتی ہے، مگر بعض اوقات اسی خواہش میں وہ یہ بھول جاتا ہے کہ بچوں کو صرف سہولتیں نہیں، بلکہ ایک مسکراتا ہوا، سننے والا اور سمجھنے والا باپ بھی چاہیے۔ باپ کے عالمی دن پر اپنے بچوں کے لیے میری دعا ہے کہ وہ میری خوبیوں سے زیادہ میری غلطیوں سے سیکھیں۔ اگر میں ان کے لیے ایک مثالی باپ نہ بن سکا تو کم از کم ایک ایسا انسان ضرور بن سکوں جو اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ کیونکہ رشتوں کی مضبوطی کسی کمال میں نہیں، اخلاص اور اعتراف میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ہر نسل کا باپ اپنے زمانے کے مطابق بچوں سے محبت کا اظہار اپنے طریقے سے کرتا ہے ۔کبھی محبت کا تقاضا ان کے لیے رزق اور دنیا کی ضروریات کمانا ہوتا ہے اور کبھی انہیں وقت دینا ہی سب سے ضروری بن جاتا ہے کیونکہ آج کی نئی نسل محبت کو کردار سے نہیں اظہار سے مانتی ہے ۔کاش وہ جان سکیں کہ باپ کا ان کے لیے کمانا اور دن رات محنت کرنا سخت مزاجی نہیں بلکہ محبت کا اعلیٰ ترین درجہ ہوتا ہے ۔ہر باپ محبت کرتا ہے مگر انداز الگ الگ ہوتا ہے کوئی لفظوں اور قوت اظہار سے اور کوئی خاموشی سے ،کوئی ڈانٹ ڈپٹ سے ،کوئی قربانی اور ایثار سے اور کوئی اپنی زندگی کی قربانی دے کر ان کے لیے محبت کا تاج محل کھڑا کر دیتا ہے ۔
زندگی کے طویل سفر میں انسان بہت سے کردار ادا کرتا ہے، مگر "باپ” کا کردار شاید سب سے بھاری اور سب سے خاموش کردار ہے۔ یہ وہ مسافر ہے جو اپنے خوابوں کی چادر پھاڑ کر اولاد کے لیے سائبان بناتا ہے، اپنی خواہشوں کو دفن کرکے بچوں کی تمناؤں کو زندگی دیتا ہے، اور پھر بھی اکثر اپنے جذبات کے اظہار سے محروم رہ جاتا ہے۔میری بیوی کہتی ہے کہ ایک اچھا خاوند ہی اچھا باپ ہوتا ہے جبکہ میرا خیال ہے کہ ایک اچھا بیٹا ہی اچھا باپ ہوتا ہے ۔
آج باپ کے عالمی دن پر، جب دنیا باپ کی عظمت کے گیت گا رہی ہے، میں اپنی عظمت کا نہیں، اپنی کوتاہیوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ میرے بچوں! مجھے اعتراف ہے کہ میں تمہارے لیے روٹی، کپڑا اور چھت کا انتظام کرتے کرتے کئی بار تمہاری آنکھوں میں اترنے والی اداسی نہ پڑھ سکا۔ میں نے تمہارے مستقبل کے لیے دن رات محنت کی، مگر بعض اوقات تمہارے حال کی دھڑکن سننے سے محروم رہا۔ مجھے یاد ہے تمہارے بچپن کے وہ لمحے جو میری مصروفیت کی نذر ہوگئے۔ تم دروازے پر میری آمد کے منتظر ہوتے تھے اور میں تھکن کے بوجھ تلے تمہاری باتیں سننے کے بجائے آرام کی تلاش میں ہوتا تھا۔ تم کھیلنا چاہتے تھے، میں حساب کتاب میں گم تھا۔ تم محبت کے چند لفظ مانگتے تھے اور میں نصیحتوں کے انبار لے کر بیٹھ جاتا تھا۔ مجھے اعتراف ہے کہ بعض اوقات میری سختی میں محبت تو تھی، مگر محبت کا انداز درست نہ تھا۔ میری آواز بلند ہوئی تو تمہارے دل خاموش ہوگئے۔ میری توقعات بڑھیں تو تمہارے کندھوں پر بوجھ بڑھ گیا۔ میں نے زندگی کے طوفانوں سے تمہیں بچانے کی کوشش کی، مگر شاید یہ بھول گیا کہ کبھی کبھی بچوں کو مضبوط بنانے کے لیے ان کے ساتھ بیٹھ کر بارش میں بھیگنا بھی






