قسط:32 پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن
(شاہد بخاری)
مجھے ہے حکمِ اذاں
ماہنامہ”سفید چھڑی“ کے اداریوں پر مبنی تیسرے مجموعے کا نام ”مجھے ہے حکمِ اذاں“ہے، نام ہی میں اتنی دلکشی اور جازبیت اور کمٹمنٹ ہے کہ ہر ادارئیے کو بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔
مضامین: 34 صفحات: 144 اشاعت: 2012
ثنائی پریس سرگودہا
انتساب: بھلے دنوں کے نام جنہیں بالآخر پلٹنا ہی ہے
چند اہم ادارتی عنوانات
۱۔طلبِ علم
۲۔الکاسبُ حبیب اللہ
۳۔چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
۴۔ڈپریشن
۵۔پاکستان پائندہ باد
۶۔مجھے ہے حکمِ اذاں
۷۔یہ کافر دل نہیں مانا
۸۔کفرانِ نعمت
۹۔وراثت اور ماحول کا جبر
۱۰۔نغمے کو نوحہ نہ بننے دیجئے
۱۱۔ہو محفلِ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
۱۲۔مری منزل خدایا دُور کر دے
۱۳۔ہَمِیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
۱۴۔”بے چارے ادیب“اور ”بے سہارا“فنکار
۱۵۔دلیلِ کم نظر ی قصہء جدیدو قدیم
۱۶۔مشاعرے کیا ہوئے؟؟
مجھے ہے حکمِ اذاں کے حوالے سے ڈاکٹر زکریا رقم طراز ہیں:
”ڈاکٹر شیخ محمد اقبال نے بہت سی اصنافِ ادب میں طبع آزمائی کی ہے، ان کی تحریریں کسی ایچ پیچ اور ابہام کے بغیر ان کے مافی الضمیرکا اظہار کرتی ہیں۔میں ہمیشہ صاف شفاف واضح اور شستہ تحریروں کو پیچ در پیچ مبہم اور ژولیدہ تحریروں پر ترجیح دیتا ہوں، اس لئے ڈاکٹر صاحب موصوف کا اندازِ بیان میرے مزاج کے قریب تر ہونے کی وجہ سے میرا پسندیدہ اندازِ تحریر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ماہنامہ”سفید چھڑی“ کے اداریئے خاصے کی چیز ہوتے ہیں جن میں ہمارے معاشرے کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے اور انہیں حل کرنے یا بہتری پیدا کرنے کے لئے تجاویز پیش کی جاتی ہیں،ان کے مخاطب دانشور اور اربابِ اختیار دونوں ہیں۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر اقبال نے ہمارے معاشی، معاشرتی، سیاسی، تہذیبی غرض تمام مسائل کی طرف توجہ دلانے کو اپنا فرض عین جانا ہے۔ چونکہ وہ صاحبِ مطالعہ ہیں اور دلِ درد مند بھی رکھتے ہیں اس لئے مسائل کی تفہیم کے ساتھ ساتھ بڑے خلوص اور درد مندی سے انہیں پیش کرتے رہتے ہیں۔ میرے خیال میں سیاسی اور سماجی مسائل کی پیش کش کے علاوہ ان کے اداریوں سے ہمارے معاشرے کی اجتماعی نفسیات کا ایک ایسا مرقع تیار کیا جا سکتا ہے جس سے معاشرتی اصلاح کی بہترین کوششوں کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کا یہ مجموعہ چشم و دل کی بیداری کا سامان مہیا کرتا ہے۔ اس کا مطالعہ ہر اس شخص کو کرنا چاہیے جو معاشرے کے موجودہ رجحانات سے ناخوش ہے اور اسے سنوارنے کی خواہش رکھتاہے“
مدیرہ”تحریریں”زاہدہ صدیقی اس کتاب کے حوالے سے لکھتی ہیں:
”مجھے ہے حکمِ اذاں“ ڈاکٹر صاحب کے34 مضامین کا مجموعہ ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے انہوں نے ہر موضوع پر بے لاگ گفتگو کی ہے اور اپنے مشاہدات، تجربات اور خیالات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔سارے مضامین اس قابل ہیں کہ توجہ سے پڑھے جائیں ان میں سے بعض تو اس قابل ہیں کہ بچوں کے نصاب میں شامل کر لئے جائیں۔مضامین کا دائرہ وسیع ہے مگر ان سب میں جرأتِ اظہار کے ساتھ ساتھ پاکیزگیئ فکر بھی نمایاں ہے اور ملک اور قوم کو مثالی ملک و قوم دیکھنے اور افراد کو علم وحکمت اور اخلاق کے اعتبار سے مثالی افراد دیکھنے کی آرزو بھی جلوہ گر نظر آتی ہے۔“
یا اللہ!
قدرت اللہ شہاب نے ”یا خدا“ میں اپنی آہ و بکا کا اظہار کیا تھا ڈاکٹر شیخ اقبال نے ”یااللہ“ کہہ کر زندگی کی بے بسی اور مجبوریوں کا بے لاگ،بے دھڑک ذکر کیا ہے۔ ویسے تو ان کے تمام اداریئے زندگی کے دکھوں کا نغمہ ہیں اور ان کا مداوا تلاش کرنے کی محنتِ شاقہ ہیں لیکن ”یا اللہ“ میں درد کی لہر اور تیز ہو جاتی ہے۔”یا اللہ!“ ڈاکٹر اقبال کے اداریوں پرمشتمل چوتھی کتاب ہے۔
مضامین: 34 صفحات: 128 اشاعت: 2018
احمد دین پرنٹنگ پریس لاہور
انتساب: آئندہ آنے والی نسلوں کے نام جن کے حوالے سے ہم نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔
چندایک عنوانات دیکھئے:
۱۔میرے دُکھ کی دوا کرے کوئی
۲۔ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے؟
۳۔ہر گز نہ میرد آنکہ دلش زندہ شُد باعشق
۴۔عقل کی منطق جدا ہے دل کی منطق ہے جدا
۵۔ہر گھڑی خونِ تمنا نہیں دیکھا جاتا
۶۔دل کی لگی، لگی رہی ختم فسانہ ہو گیا
۷۔پاک سر زمین شاد باد
۸۔بے چارے شوہر
۹۔خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے
۱۰۔غزل اس نے چھیڑی
۱۱۔اُف یہ صبحیں اُف یہ شامیں
۱۲۔زبان کا مسئلہ
۱۳۔اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
۱۴۔صید بھی ہم صیاّد بھی ہم
۱۵۔قیامتِ صغریٰ
۱۶۔ہم ہنوز پتھر کے دور میں سانس لے رہے ہیں
۱۷۔ماہنامہ سفید چھڑی کے پچیس سال
۱۸۔قرض کا آسیب
معروف دانشور اور نقاد اور براڈ کاسٹر مہر اللہ یار سپرا ”یا اللہ“ کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں:
”پرو فیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کی تحریروں کا مجموعہ ”یا اللہ“ خود اپنے اندر کئی اسرار ورموز رکھتا ہے۔میں نے اس کا مطالعہ ایک خاص نقطہء نظر سے شروع کیا۔ہر مضمون پڑھنے کے بعد زبان سے بے ساختہ نکلا ”یا اللہ ہم پر رحم فرما“۔۔۔”یا اللہ“دل کے نہاں خانہ سے اٹھنے والی ایک ایسی ”ہوک“ہے جو نیم مردہ دلوں کو متحرک کرنے کی قوت رکھتی ہے۔معاشی اور معاشرتی عدم توازن نے ڈاکٹر صاحب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے مگر پون صدی سے سوئی ہوئی قوم شاید صورِ اسرا فیل کی منتظر ہے۔ڈاکٹر صاحب کی نگاہ بصیرت تو آسمان کو گدلا ہوتا دیکھ رہی ہے مگر اہلِ وطن کو ابھی ابا بیل نظر نہیں آرہے۔۔۔”یا اللہ“کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنکھ اور دل میں کتنا فاصلہ ہے۔آنکھ کیا دیکھتی ہے اور دل کیا محسوس کرتا ہے؟۔آنکھ بصارت کا چشمہ ہے اور دل بصیرت کا منبع۔عام قلمکار اور شیخ صاحب کے قلم میں یہ فرق نمایاں ہے”یااللہ“کے مضامین مختصر اور جامع ہیں جو ڈاکٹر صاحب کی عملی زندگی کا نچوڑ ہیں۔ان کے الفاظ دو آتشہ ہیں جو اہل بصارت کی کور چشمی پر تازیانہ عبرت ہیں۔وہ معاشرے کی بے حسی پر نوحہ خوانی نہیں کرتے، ڈنڈے برساتے ہیں۔ان کی سوچ ایک مصلح کی ہے اور عمل ایک






