#کالم

سلیم الرحمٰن کا۔۔۔ کاغذی ہے پیرہن

1200x630

روبرو۔۔۔محمد نوید مرزا

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

جس طرح مرزا کے اس شعر میں معنویت کی کئی تہیں ہیں اور ہر نقاد اس کو مختلف زاویہء نگاہ سے دیکھتا رہا ہوں بالکل اسی طرح معروف شاعر سلیم الرحمٰن کی شاعری میں بھی گہرائی ،اثر آفرینی اور تخلیقی ہنر مندی دکھائی دیتی ہے۔انھوں نے اپنی شعری کلیات ۔۔۔کاغذی ہے پیرہن۔۔۔کا نام غالب کے اس شعر سے مستعار لیا ہے۔اس کلیات میں ان کا اردو اور پنجابی کا تمام شعری سرمایہ یکجا کر دیا گیا ہے۔
غزل اور نظم دونوں اصناف میں یکساں تخلیقی مہارت رکھنے والے سلیم الرحمٰن نے اپنے لئے ایک الگ جہان شاعری بنا رکھا ہے۔ان کی شاعری میں روانی اور سادگی کے ساتھ ساتھ زبان وبیان کی خوبصورتی اور گہرائی جا بجا نظر آتی ہے۔بقول جناب اصغر ندیم سید،،سلیم الرحمٰن کی شاعری کی تکنیک ،کرافٹ اور طرز احساس ایک سطح پر سادہ ہے لیکن اندر سے بے حد پیچیدہ اور اسرار سے بھرا ہے۔جس زندگی کا تجربہ وہ ایسے زمانے میں کر رہا تھا جو کسی بھی حوالے سے انسانی شناخت کا فرض نبھا رہے تھے۔محض شناخت ہی نہیں اپنی زمینوں کی تلاش ،اپنے آسمانوں کا کھوج اور سب سے بڑھ کر اپنی ثقافتی دنیا کی تلاش ایسے سوالات تھے کہ سلیم الرحمٰن ان کو تلاش کرنے میں مصروف ہو گئے وہ ابھی تک مصروف ہیں،،
تلاش کے اس سفر میں ان کے دامن میں بے شمار خوب صورت شعر جمع ہو گئے ہیں آئیے ان میں چند اشعار کا لطف لیتے ہیں۔۔۔

دیکھوں گا میں بھی تیرے جہاں طلسم کو
میں بھی سفر کروں گا تری روشنی کے ساتھ

جو چند پتے میں کاٹوں تو لاکھ آتے ہیں
درخت کی طرح دل میں اگی ہوئی ہے کتاب

نقش کرتی ہے ہوا راز گئی صدیوں کے
ہم سے کہتے ہیں کوئی بات پرانی پتھر

زباں پہ جال بچھا ہیں میں کس طرح اتروں
اڑوں تو کیسے اڑوں بال و پر شکستہ ہیں

وہ تو شاید ہے کسی خواب کی دنیا کا مکیں
نہیں معلوم حقیقت یا فسانہ کم ہے

کسی کی بات تری بات سے نہیں ملتی
کوئی بھی شکل ترے ہو بہو نہیں ہوتی

مکمل ہی نہیں تصویر اس کی
کئی رنگ اور بھی بھرنا پڑیں گے

آپ نے شاعر کی غزل کے چند عمدہ اشعار تو دیکھ ہی لئے ہیں۔اب آئیے ان کی نظموں کا جائزہ لیتے ہیں۔
سلیم الرحمٰن کی نظموں میں ایک حیرت،پراسراریت اور جدید نظم کے سارے تقاضے نظر آتے ہیں۔ان نظموں میں ہماری تہزیبی ،سیاسی،سماجی اور اخلاقی اقدار کا بیانیہ بھی دکھائی دیتا ہے بقول ارمان نجمی،،ایک اہم نکتہ یہ کہ سلیم الرحمٰن کی تخلیقی حسیت کے ارتقاء نے نہ صرف ان کی نظموں کو ایک نئی معنوی جہت عطا کی بل کہ ان کی بیشتر غزلیں بھی اسی ادراک کے تارو و پود سے تشکیل پذیر ہیں،،
مزید لکھتے ہیں،،ان کی نظمیں پڑھتے ہوئے مجھے بار بار منیر نیازی یاد آتے رہے ۔ان کے یہاں تنہائی ،اجنبیت،پیہم سفر،دہشت ،بے زاری،ویرانی وغیرہ کے موضوعات ہیں لیکن سلیم الرحمٰن کے مصرعوں میں غیر معمولی تسلسل اور بہاؤ کا احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے کم الفاظ میں سادہ بحور سے کامیاب معنی آفرینی کی ہے،،
ان خیالات کی روشنی میں ان کی چند نظموں کے حصے دیکھتے ہیں۔۔۔

یہ سب کچھ ایک عظیم خاموشی میں ہوا
جب گھاس نمودار ہوئی
روشنی ابھی ابھی علیحدہ ہوئی تھی
اور اس نے قرمزی شنگرف اور مجسمے تخلیق کئے تھے

    نظم تخلیق

تجھے لوٹا رہا ہوں
زندگی کا ذرہ ذرہ
عمر کی شاخوں سے جھڑتے پھول
سوکھے ہاتھ
مرجھائی رگیں

   نظم خواب کا درخت

بقول ڈاکٹر سعادت سعید،،سلیم الرحمٰن کی نظموں میں در آنے والے ویثرن کا لب لباب یہ ہے کہ پرانے عقائد نئے تقاضوں اور احتیاجات کے دوش پر تخریب کا شکار ہوتے ہیں۔اس تخریب سے نئی تعمیر جنم لیتی ہے،،
سلیم الرحمٰن کی پنجابی شاعری میں بھی وہی مزاج ہے جو ان کی اردو شاعری کا خاصہ ہے۔میں انھیں کلیات کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے