محرم الحرام: کربلا کا ابدی پیغام اور آج کے انسان کی ذمہ داری
ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، مگر اس کی اہمیت محض ایک نئے سال کے آغاز تک محدود نہیں۔ یہ مہینہ تاریخِ اسلام کے اس عظیم باب کی یاد دلاتا ہے جس نے حق، انصاف، حریتِ فکر اور انسانی وقار کے لیے قربانی کی ایک لازوال مثال قائم کی۔ محرم ان چار مقدس مہینوں میں شامل ہے جنہیں قرآنِ کریم نے حرمت والے مہینے قرار دیا ہے، لیکن دسویں محرم، یومِ عاشور، کو پیش آنے والے واقعۂ کربلا نے اسے ایسی عظمت عطا کی جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
جب بھی محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے تو مسلمانوں کے دلوں میں حضرت امام حسینؓ، ان کے اہلِ خانہ اور وفادار ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ تاہم کربلا کو صرف ایک تاریخی سانحہ سمجھنا اس کے حقیقی فلسفے کو محدود کر دینا ہے۔ کربلا دراصل ایک فکر، ایک نظریہ اور ایک زندہ پیغام کا نام ہے۔ یہ حق اور باطل، انصاف اور ظلم، ضمیر اور مفاد، اور سچائی اور جبر کے درمیان ابدی کشمکش کی علامت ہے۔
حضرت امام حسینؓ، رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے اور اہلِ بیت کے عظیم فرد تھے۔ آپؓ نے ایسے وقت میں حق کا علم بلند کیا جب اقتدار کی طاقت سچائی کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔ یزید کی بیعت سے انکار محض ایک سیاسی اختلاف نہیں تھا بلکہ اصولوں اور ضمیر کی حفاظت کا فیصلہ تھا۔ امام حسینؓ جانتے تھے کہ اگر وہ خاموشی اختیار کر لیتے یا ظلم کے نظام کو قبول کر لیتے تو حق کی آواز کمزور پڑ جاتی۔ اسی لیے انہوں نے دنیاوی مصلحتوں کے بجائے اصولوں کو ترجیح دی اور تاریخ کا رخ بدل دیا۔
کربلا کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ حق کی طاقت کا انحصار تعداد، وسائل یا ظاہری قوت پر نہیں ہوتا۔ امام حسینؓ کے ساتھ صرف بہتر جانثار تھے جبکہ مخالف لشکر ہزاروں افراد پر مشتمل تھا۔ بظاہر یہ ایک ناممکن مقابلہ تھا، مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ نظریات اور کردار کی قوت تلواروں اور لشکروں سے زیادہ دیرپا ہوتی ہے۔ آج چودہ سو سال بعد بھی امام حسینؓ کا نام عزت، محبت اور عقیدت سے لیا جاتا ہے جبکہ ظلم کی نمائندہ قوتیں تاریخ کے تاریک گوشوں میں دفن ہو چکی ہیں۔
کربلا کا ایک روشن پہلو خواتین کا کردار بھی ہے۔ حضرت زینبؓ نے جس جرات، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا وہ انسانی تاریخ کا بے مثال باب ہے۔ اگر امام حسینؓ نے میدانِ کربلا میں حق کی خاطر قربانی دی تو حضرت زینبؓ نے اس قربانی کے پیغام کو زندہ رکھنے کا فریضہ انجام دیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ حق کی جدوجہد صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ حالات کے سامنے ڈٹ جانے اور سچ کو دنیا تک پہنچانے کا نام بھی ہے۔
محرم ہمیں محض غم اور سوگ کا پیغام نہیں دیتا بلکہ خود احتسابی کی دعوت بھی دیتا ہے۔ یہ سوال ہر دور کے انسان کے سامنے کھڑا کرتا ہے کہ اگر ہم کربلا کے زمانے میں ہوتے تو ہمارا کردار کیا ہوتا؟ کیا ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوتے یا خاموش تماشائی بن جاتے؟ یہ سوال صرف ماضی سے متعلق نہیں بلکہ آج کے حالات پر بھی پوری طرح صادق آتا ہے۔
آج دنیا کے مختلف معاشروں میں بدعنوانی، جھوٹ، ناانصافی، اقربا پروری، استحصال اور طاقت کے ناجائز استعمال کی مختلف شکلیں موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں کربلا کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ امام حسینؓ نے ہمیں سکھایا کہ ظلم کو ظلم کہنا اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا ایک مومن کی ذمہ داری ہے۔ خاموشی بعض اوقات ظلم کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف بن جاتی ہے۔
ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ برداشت کم ہو رہی ہے، اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا نفرت انگیز رویوں کو فروغ دے رہا ہے۔ کربلا ہمیں اخلاق، تحمل، احترام اور مکالمے کا درس دیتی ہے۔ امام حسینؓ نے اپنے مخالفین کے ساتھ بھی اخلاق اور انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ یہی وہ وصف ہے جس کی آج کے معاشرے کو شدید ضرورت ہے۔
محرم کا ایک اور عظیم سبق صبر اور استقامت ہے۔ زندگی میں آزمائشیں ہر انسان کے حصے میں آتی ہیں۔ کبھی حالات موافق نہیں ہوتے، کبھی مشکلات راستہ روک لیتی ہیں اور کبھی امید کی کرن مدھم پڑنے لگتی ہے۔ ایسے میں کربلا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صبر کمزوری نہیں بلکہ طاقت کا دوسرا نام ہے۔ امام حسینؓ اور ان کے اہلِ خانہ نے صبر کی جو مثال قائم کی وہ رہتی دنیا تک انسانیت کو حوصلہ دیتی رہے گی۔
آج فلسطین، کشمیر اور دنیا کے دیگر خطوں میں مظلوم انسان انصاف کے منتظر ہیں۔ جنگیں، غربت، جبر اور انسانی المیے مسلسل جنم لے رہے ہیں۔ ان حالات میں کربلا کا پیغام صرف ایک مذہبی یادگار نہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا اور انصاف کے لیے جدوجہد کرنا انسانیت کا بنیادی تقاضا ہے۔
افسوس کہ بعض اوقات ہم محرم کے پیغام کو صرف رسومات اور رسمی تقریبات تک محدود کر دیتے ہیں۔ حالانکہ کربلا کا اصل مقصد انسان کے اندر اخلاقی بیداری پیدا کرنا ہے۔ اگر محرم گزر جائے اور ہمارے کردار، سوچ اور رویوں میں کوئی مثبت تبدیلی نہ آئے تو ہم اس پیغام کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ حقیقی خراجِ عقیدت یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں سچائی، دیانت، انصاف اور انسان دوستی کو جگہ دیں۔
صحافت، تعلیم، سیاست، عدلیہ اور سماجی زندگی کے ہر شعبے میں کربلا کا پیغام زندہ رہنا چاہیے۔ ایک صحافی جب حقائق بیان کرنے کا حوصلہ کرتا ہے، ایک استاد جب دیانت داری سے علم منتقل کرتا ہے، ایک جج جب انصاف پر مبنی فیصلہ دیتا ہے اور ایک عام شہری جب حق بات کہنے کی جرات کرتا ہے تو وہ دراصل کربلا کے فلسفے کو زندہ رکھتا ہے۔
بطور صحافی، معلم اور لکھاری مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں






