پاکستان کی ثالثی میں ایران ‘ امریکہ مذاکرات سے قبل پاکسانی سفارتکاری کے چرچے
آج کا اداریہ
سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں ایران، امریکہ مذاکرات سے پہلے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان ہونے والا مکالمہ ہے کہ” وٹس اپ مین۔۔ ہاؤ آر یو۔۔‘
اس ابتدائی حال احوال کے دوران پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی وفد میں شامل سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے خوشگوار انداز میں ملتے دکھائی دے رہے ہیں۔لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، مذاکرات سے قبل کانفرنس ہال میں ایرانی وفد کے سوا پاکستان، امریکہ اور قطر کے وفود موجود تھے اور اطراف میں سوئس اہلکار اور میڈیا نمائندگان اور کیمروں کی بھرمار تھی۔گذشتہ چند مہینوں میں میری فیلڈ مارشل منیر سے جتنی بات ہوئی اتنی شاید کسی اور نہیں ہوئی۔ ان کے سفارتی کردار کے بغیر ہم یہاں موجود نہ ہوتے۔ وہ یقیناً ایک عظیم فوجی رہنما ہیں، لیکن میرے خیال میں انھوں نے خود کو ایک بہترین سفارتکار کے طور پر بھی منوایا ہے۔‘یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے مرکزی ثالث پاکستان کی حالیہ عرصے میں پذیرائی ہوئی ہو اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے نام کی گونج ہو۔خود امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پسندیدہ فیلڈ مارشل کہتے رہے ہیں۔جے ڈی وینس نے نہ صرف فیلڈ مارشل عاصم منیر بلکہ مذاکرات کے لیے ہال میں میں پہنچنے کے دوران پاکستان کے کردار سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ’پاکستان بہترین ہے۔ ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔
امریکی قیادت کی جانب سے گذشتہ تین ماہ کے دوران امریکہ، ایران تنازع میں پاکستان کے کردار کو بار بار سراہا جا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں بھِی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پاکستان سے متعلق خیالات کو پاکستان کو عالمی سطح پر ملنے والی سفارتی اہمیت سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے فیلڈ مارشل سے متعلق بیان کا سوشل میڈیا پر بھی چرچا ہے اور پاکستانی اور صارفین اس پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
ابتدائی جذبہ خیرسگالی کے جذبات کے اظہارکےبعد مفاہمتی یادداشت کے تحت پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات شروع ہوئے۔ وزیراعظم شہباز شریف، قطری وزیراعظم سمیت امریکا اور ایران کے وفود شریک ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان نے فریقین کا استقبال کیا، امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور نمائندہ خصوصی اسٹیو ویٹکوف شامل ہیں جبکہ ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے پہلے دور میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کی اعلیٰ سطح کی کمیٹیوں کے درمیان بات چیت کا آغاز ہو گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر یہ اُمید کرتا ہے کہ اس مذاکراتی عمل کے آغاز سے مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والے تمام نکات پر جامع اور مستقل معاہدہ طے پا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے خصوصی تکنیکی ماہرین پر مشتمل گروپ تشکیل دیے گئے ہیں جو مفاہمتی یادداشت کے تمام نکات پر بات چیت کریں گےبیان میں کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے خصوصی تکنیکی ماہرین پر مشتمل گروپ تشکیل دیے گئے ہیں جو مفاہمتی یادداشت کے تمام نکات پر بات چیت کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے پانے والے نکات پر عمل درآمد کے لیے فالو اپ گروپ بھی تشکیل دیے گئے ہیں جو حتمی معاہدے تک پہنچنے کے تمام عمل کی نگرانی کریں گے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر اور پاکستانی ثالث دونوں فریقوں کو مذاکرات کے لیے ایک مثبت ماحول فراہم کرنے کے لیے مکمل تعاون کریں گے۔ کیونکہ بات چیت اور سفارتکاری ہی تنازعات کے حل کا واحد راستہ ہے
واضح رہے کہ پاکستان کی ایران اور امریکہ ثالثی کی بنیاد ایک سال قبل ایران تنازع کے وقت رکھی گئی۔ اُس وقت آرمی چیف عاصم منیر نے ایران کا دورہ کیا تھا اور پھر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اُن کی میزبانی کی اور کہا کہ وہ ایران کے معاملات کو سمجھتے ہیں۔جہاں کریڈٹ بنتا ہو، ضرور دینا چاہیے۔ پاکستان نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر کردار ادا کیا اور جو پاکستان کو دلال کہہ کر اس کا مذاق اُڑاتے تھے، نجی محفلوں میں پاکستان اور بالخصوص عاصم منیر کے بڑھتی ہوئی ساکھ کا اعتراف کرتے ہیں چاہے امن معاہدے کا نتیجہ کچھ بھی ہو، اس مرحلے پر پاکستان کی موجودگی بذاتِ خود ایک کامیابی ہے۔‘






