#بغیر زُمرہ

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہےتجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے؟

Untitled 13

(شاہد بخاری )
زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
ھائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے
سرگودھا میں سوائے چچا ذاکر کے ہمارا کوئی سگا رشتہ دار نہیں تھا ۔ بھائی کا ادب کیسے کیا جاتا ہے؟یہ میں نے ان سے سیکھا
5 بلاک میں پیر جی انعام الللہ کرنالی،بی۔اے،
بی۔ٹی رہتے تھے ،وہ سب کو انگریزی مفت پڑھاتے تھے،
جن کی کوچنگ سے برادر صغیر،میجر بنا۔پیر جی کے فرزند ارجمند سید مختار حسین طاہر (بھائی تاری) ریاضی کے پروفیسر تھے، جو بلا ٹیوشن فیس اپنے گھر میں ریاضی پڑھاتے ہوئے نہیں تھکتے تھے۔
ہم 6 بلاک میں رہتے تھے۔ 7بلاک،مسجد روڈ پر حافظ عبدالحمید انبالوی کی بیکری تھی جو بعد ازاں اعظم مارکیٹ اور پھرگرلز کالج روڈ پر منتقل ہو گئی۔ وہ فارغ اوقات میں مسجد گول چوک کچہری بازار میں جا کر بیٹھے رہتے اور مفت قران مجید حفظ کرواتے۔ شاگردوں کو کھلا پلا کر خوش ہوتے تھے خود کسی سے چائے تک کبھی نہیں پی۔
5 بلاک،کچہری با زار میں بے لوث کامریڈ طیب ایم۔اے۔،ایل ایل۔بی کی ٹرنکوں وغیرہ کی دکان تھی
جہاں سے ان کے درویش صفت والد کے چلے جانے کے بعد،مختلف الخیال دوست آکر گپ شپ کرتے،اپنا اپنا کیتھارسس کرتے ،خوب رونق رھتی تھی۔
صوفی ذبیح الللہ پانی پتی 23 بلاک میں رہتے تھے جن سے گورنمنٹ ہائی سکول میں چھٹی سے آٹھویں تک پڑھا،اتوار کو ان کے گھر جا کے پڑھتے، مار بھی کھاتے اور کھانا بھی۔ 1964ء میں میٹرک ھم نے اکٹھے کیا۔امتحان کی تیاری بھت عمد ہ کرواتے تھے۔

 انہی کے رشتہ دار مولانا الیف الللہ اور مولانا دحیہ 22بلاک میں،عید گاہ  روڈ پر رہائش پزیر تھے ۔یہ عالم با عمل، ہمارے اسکول کے مثالی اساتذہ میں سے تھے۔
ان سے ذراآگے ،گلی کی نکڑ  پر حضرت رائے پوری کا گھر تھا جن کے گھر سے ہر وقت الللہ۔الللہ کے ذکر کی صدائیں آتی رہتی تھیں ۔ان کا لنگر سب کے لیے عام تھا۔
     عید گاہ سے واپسی پر مولانا صاحبان اور حضرت جی کو سلام کرنے کے بعد انہی کے رشتہ دار راؤ رفیق صاحب کے گھر سے شیر خورمہ سے لطف اندوز ہو کر 13بلاک میں ایک اور بے لوث،  بھائی ھادی(والد صبا حت سید) کی طرف بھی جاتے جن کی بدولت نیک سیرت شریک حیات ملی.
14بلاک کے نکڑ پر ڈاکٹر فیض صاحب کا گھر تھا، جہاں سے ان کے بیٹے R.C.کولا پلائے بغیر نہ گزرنے دیتے تھے۔
عید کی شام کو اولڈ سول لائنز میں چودھری ولایت حسین(ر) ڈپٹی کمشنرکی کوٹھی پر بھی ابا لے جاتے تھے جو زمانہء وکالت میں بھائی خورشید خان برادر سلیم خان ایڈوکیٹ کی طرح ممد و معاون رھے۔
 انہی کی برادری کے چودھری مشتاق علی(تایا جی) کی کوٹھی واقعہ 85 کلب روڈ،متصل،ایس۔ پی ھاؤس میں ہمارا عشائیہ ہوتا تھا،جن کے  اکلوتے  لخت جگر عبداللہ کے ساتھ چپ بیٹھے رہ کر بھی لطف آتا تھا۔یہ تھے تو مجھ سے ایک دو سال چھوٹے لیکن کار خیر کرنے اور انسان دوستی میں مجھ سے بہت بڑے تھے۔ ان کی وسیع و عریض کو ٹھی کی طرح ان کا دل بھی بہت کشادہ تھا، جس کے در، ہر ضرورت مند کے لیے ہمیشہ کھلے رھتے تھے۔     
   ڈاکٹر اقبال کی بلائنڈ ایسوسی ایشن کو جب سے سرکار کی طرف سے بس ملی ہے تب سے پٹرول کی فراہمی عبداللہ نے از خود اپنے آئیڈیل فلنگ سٹیشن سے مہیا کرنے کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے ۔ان کا پیٹرول پمپ صرف نام کا ھی آئیڈیل نہیں واقعی مثالی پٹرول پمپ ہے، جس کی کامیابی کی پیشین گوئی ،شیل کے ایگزیکٹو نے  اس وقت کر دی تھی جب راقم ان سے پیٹرول کا ٹارگیٹ کم کرنے کی التماس کر رہا تھا ۔جس کے جواب میں وہ کہنے لگے کہ نہ تو راؤ صاحب نے پٹرول میں ملاوٹ کر نی ہے اور نہ ہی کم مقدار میں کسی کو دینا ہے، یوں سرگودھا جیسے چھوٹے شہر میں جلد ہی نہ صرف یہ مشہور ہو جائیں گے بلکہ ہر سال انعام بھی جیتا کریں گے اور واقعی ہوا بھی ایسے ھی۔ کبھی ان کو،انعام میں  عمرے کے ٹکٹ ملتے تھے تو کبھی دبئی وغیرہ کی  سیر کے۔

کے۔ ایف ۔سی سے مفت کھانے پینے کے کوپن وہ ہمارے لیے لاہور بھجوا دیتے تھے ۔
27 اکتوبر کو مری جاتے ہوئے راؤ عبداللہ کی گاڑی اس ڈائیورشن بلاک سے ٹکرا گئی جو چند گھنٹے قبل سڑک کے درمیان میں نصب کیا گیا تھا اور جس سے خبردار کرنے کا کوئی سائن بورڈ سڑک کے کنارے نہیں لگایا گیا تھا۔ ایکسیڈنٹ سے ان کا دماغ بھی مضروب ہوا اور وہ عالم مدہوشی میں چلے گئے ۔الشفاء اسلام آباد اور ڈاکٹرز ہسپتال لاہور میں ان کے اوپریشنز ہوئے۔ دو سال کے دوران انہیں ھارٹ اٹیک بھی ہوا اور فالج بھی۔ چار دسمبر کو عبداللہ بھائی ہمیں داغ مفاد کو دے گئے: ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانی
زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا
کون سے سکتا حیات جاوداں کی سختیاں ؟
زندگی پر موت کا کتنا بڑا احسان ہے
جن دنوں عبداللہ حیات مو ت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھے ڈاکٹرز نے ہدایت کر رکھی تھی کہ ان سے پرانی یادوں کو تازہ کرتے رھا کریں ۔جب بھی میں ان کے پاس جاتا، سرگودھے کی باتیں دوہراتا رہتا اور وہ خالی نظروں سے مجھے دیکھتے رہتے ۔ان کے اہل خانہ بتلاتے کہ یہ آپ کو پہچان گئے ہیں۔ اس دل چسپ واقعے سے ان کی آنکھوں میں چمک میں نے بھی دیکھی تھی۔
جب میری چھوٹی بہن کی شادی ہوئی تو سرگودھا میں میرج ھالز نہیں ہوتے تھے۔ والدہ عبدالللہ کے اصرار پر،جوھر آباد،سے بارات ان کی کوٹھی پر آئی۔ رخصتی ہو چکی تو لان میں چائے پیتے ہوئے میرے بہنوئی جاوید بخاری کے ماموں اکرم واسطی نے سڑک کے پار اشارہ کر کے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟ راوء عبداللہ نے بتلایا کہ وہ شیشم کا درخت ہے۔وہ کہنے لگے، درخت کا نہیں، میں اس بلڈنگ کا پوچھ رھا ہوں۔ کیا یہ کینال ریسٹ ہاؤس تو نہیں؟ہمارے اثبات پر وہ بتلانے لگے کہ بھائی جان(ڈاکٹر خلیل واسطی لاہور کے معروف و ممتاز ماہر

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہےتجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے؟

بجھتی ہوئی چنگاری

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے