بجھتی ہوئی چنگاری
جمع تفریق۔۔۔ ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معروف شاعرہ منور سلطانہ لکھنوی کے والد محترم بسمل لکھنوی اپنی زندگی کے آ خری ایام میں نئی نسل کو دنیا ادب کے مختلف شعبہ جات سے متعارف کراتے ہوئے انہیں ادب و آ داب سے جینے کا گر سکھاتے تھے لیکن ان کا مرکز نگاہ شعر و ادب ہی تھا ہم نے بچپن میں شعراء کرام کو اصلاح کراتے بھی دیکھا اور نئے شعراء کو قافیہ ردیف اور شعر و سخن سے شناسائی حاصل کرتے ہوئے بھی پایا،وہ ایک شعر سنایا کرتے تھے جس کا صرف یہ مصرعہ مجھے یاد ہے۔۔
٫٫ آ گ لے لے کوئی بجھتی ہوئی چنگاری سے،،
شاید وہ شیر خدا کے اس فرمان سے متاثر تھے کہ ٫٫پوچھ لو علی سے جو پوچھنا ہے اس سے قبل کہ علی دنیا میں نہ رہے،، یہ لگتا ہے کہ وہ علی والے کہلاتے تھے اور انہیں یہ معلوم تھا کہ دنیا میں جو بھی تم نے علم حاصل کیا وہ دوسروں تک پہنچا دو تاکہ وہ صدقہ جاریہ بن جائے اور لوگوں کی بھلائی کے کام آ ئے یقینا سیکھنے سکھانے کا عمل مہحد سے لحد تک جاری رہتا ہے اس لیے ہر کسی کو اپنی بساط کے مطابق اسے جاری ہی رکھنا چاہیے٫٫ میں ہوں کہ آ پ،، زندگی کے دن گنے چنے ہیں لیکن اس گنتی سے کوئی واقف نہیں، پھر بھی یہ راز سب کو معلوم ہے کہ ہر روز زندگی کا ایک دن کم ہو رہا ہے مجھے تو اس بات کا شدید احساس ہے کہ ٫٫جتنی زندگی گزار لی ہے اتنی اب باقی نہیں،، حقیقت تو یہی ہے کہ نئی صدی کی پہلی پیڑھی جوان ہو چکی اور پچھلی صدی کے آ خری لوگ جانے کی تیاری کر رہے ہیں، یہ بات بھی درست ہے کہ ان کی سوچ، لباس اور خدشات بہت جلد ناپید ہو جائیں گے لیکن اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دنیا کے جدید تقاضوں نے نئی نسل کو ان سے دور کر دیا ہے ہر طرف تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے بھاگم بھاگ۔۔ ایک دوسرے سے آ گے نکلنے اور فتح یابی کی تمنا، اس لیے کوئی اپنی پرانی نسل سے کچھ سیکھنے اور جاننے کے لیے تیار نہیں، یہی وجہ ہے کہ خاندانی سسٹم زاول پزیر اور نتائج میں کوئی نہیں جانتا کہ خوشیاں کیسے منائی جاتی ہیں اور غموں میں کیسے شریک ہو کر دوسروں کا غم بانٹا جا سکتا ہے، اس وقت بھی گھروں اور کونے کھدروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے لیکن وہ تو نئی نسل کےخیال میں ٫٫ آ ؤٹ آ ف ڈیٹ،، ہو چکے ہیں دنیاوی زندگی کے لیے پیسہ اور رزق کی فراوانی کی دوڑ میں ہی سب مگن ہیں کوئی نہیں جانتا کہ اس فراوانی میں صرف کھانا، پینا اور پیسہ ہی نہیں ،ان میں اچھے دوست اور رشتہ دار بھی شامل ہیں ماضی کے نامور اور قابل قدر لوگ اپنے اور پرائے لوگوں کے ہاتھوں ٫٫ آ ؤٹ آ ف ڈیٹ،، ہو کر منظر سے غائب ہیں ان ماضی کے تابندہ ستاروں سے اگر کوئی ملنے چلا جائے تو حال احوال کچھ اس طرح ملتا ہے۔۔۔
۔۔ بہت محدود سا ایک حلقہ احباب تھا میرا
۔۔فقط مستیاں، شیطانیاں، نادانیاں اور میں
۔۔اب بھی حلقہ احباب محدود ہے میرا
۔۔فقط خاموشیاں، تنہائیاں، اداسیاں اور میں
ہم لوگ بھی کمال لوگ ہیں ھم نے دین کامل اور کلمہ حق کو صدق دل سے تسلیم کرتے ہوئے بھی ہر وقت بے یقینی میں مبتلا رہنا عادت بنائی ہوئی ہے حالانکہ یقین کی ایک ڈور ٹوٹتی ہے تو سوھنا رب ہمیں دوسری ڈوری سے فورا اس لیے جوڑ دیتا ہے اس کی دی ہوئی٫٫ جان،، قائم رہے ،اسی لیے جب ہم تھک کر رکتے ہیں تو چلنے کی نئی وجہ دے دیتا ہے مانتے ہیں کہ وہ شہ رگ سے قریب ہے ہمارے ساتھ رہتا ہے آ زمائش میں بھی اور آ زمائش کے بعد بھی، اسی لیے کہا گیا ہے کہ نا امیدی گناہ ہے یعنی جو نا امید ہوا اس کا رب پر بھروسہ ختم ہو گیا ،دنیا میں اس کی مثال گھر اور باپ کے سربراہ خاندان کی سی ہے ،چلتا رہے تو کسی کو اس کا احساس نہیں ہوتا لیکن رک جائے تو سب کو پسینہ آ جاتا ہے، اسی طرح ٫٫مالک کل ،،جب تک دیتا رہتا ہے سب بھول جاتے ہیں کہ کوئی تو ہے جو نظام زندگی چلا رہا ہے لیکن جونہی اپنی غلطی سے یا حکمت عملی سے رکاوٹ آ تی ہے تو گلہ شکوہ شروع کر دیتے ہیں حالانکہ یہ بھی یقین ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے لہذا آ زمائش اور رکاوٹ میں پریشان نہ ہوں صرف اپنے انداز اور سوچ بدل لیں جس طرح گھر کا سکون صرف مسائل سے نہیں بلکہ ایک فرد کی مسلسل ذمہ داری، محنت اور خاموش قربانی سے قائم رہتا ہے اسی طرح ترقی اور خوشحالی ایمانداری نیک نیتی کے ساتھ اس کی قبولیت اور رحمت سے وابستہ ہے اس لیے کچھ سبب کریں صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے آ سانیاں پیدا کریں، آ پ کو سب کچھ خود بخود مل جائے گا اگر ہر حال میں خوش اور قسمت و زندگی پر فخر محسوس کرتے ہوئے وہ کچھ کریں جو زندوں اور بحیثیت انسان آ پ پر فرض ہے خالق و مالک سب دیکھ رہا ہے وہ کبھی اپنے بندے کو مشکل میں نہیں دیکھنا چاہتا، دنیا کا ہر مصور اپنے شاہکار کو اعلی و ارفع مقام پر دیکھنے کا خواہش مند ہے تو مصوروں کا مصور اعلی خدائے بزرگ و برتر کیسے اپنے شاہکار بندے کی تذلیل برداشت کر سکتا ہے، عادات بدلیں، جان اور جہان اس کا ہے اس سے ہی مانگیں جس سے سب مانگتے ہیں لیکن ہمارا رواج ہے کہ ہم دنیا میں بھیک مانگتے ہیں حق سمجھ کر اور جہاں سے مانگنے کا حق ہے وہاں حق مانگنے سے بھی کتراتے ہیں کہ بھیک مانگنا بری بات ہے ایسے لوگ اپنے آ پ سے یہ سوال پوچھ لیں کہ کیا شکوہ شکایت جائز ہے؟؟؟
دنیاوی کامیابی کا ایک نسخہ یہ بھی ہے کہ






