#کالم

یومِ تکبیر

new desingsdssd

از۔ مشتاق سدوزئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
28 مئی 1998ء کو پاکستانی قوم کا سر اس وقت فخر سے بلند ہو گیا جب پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور پوری دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن گیا ۔ یہ اعزاز حاصل کرنا صرف ایک دن یا ایک مہینے یا سال کا نہیں بلکہ دہائیوں پر مشتمل ہمارے سائنسدانوں اور مسلح افواج کی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے کیونکہ
انسان ابتداء ہی سے دوسروں پر اپنا رعب جمانے‘اپنی برتری منوانے اورطاقت کے نشے میں اپنے محل کی خاطر دوسروں کی جھونپڑی گرانے میں جانداروں میں سب سے آگے پایا جاتا ہے ۔ ایسے ہی حالات کاسامنا سرزمینِ پاکستان کو بھی ہے۔ جنم دن سے لے کرآج تک ہمسایہ ملک بھارت کی ریشہ دوانیاں‘ سازشیں‘ اور پاکستان کے اندر تخریب کاری جیسی بھیانک منصوبہ بندی اور انسانیت سوز اقدامات سہتا آیا ہے۔ اور آج بھی ویسا ہی ہے۔ پاکستان محدود وسائل سے اپنے دفاع پر رقم خرچ کرتا ہے جو مجبوری ہے ۔حیدرآباد دکن ‘جوناگڑھ اورمنادرتک بات نہ ٹھہری بلکہ آدھے سے َ زیادہ کشمیر پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ارضِ پاک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے بھی باز نہیں آیا۔ اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندراگاندھی نے ہرزہ سرائی کی تھی کہ ہم نے ’’نظریہ پاکستان‘‘کو خلیج بنگال میں ڈبودیا ہے حالانکہ اگرایسا ہوتا تومشرقی پاکستان بھارت میں ضم ہو جاتا لیکن ایک اور آزادمسلم ریاست قائم ہو گئی ۔ بھائی بھائی سے الگ ضرور ہوا‘مگرنہ تو اس نے شناخت بدلی‘نہ مذہب بدلا نہ ہی ہندوتوا کے نظریے کاغلام بنا۔ اس پر بھی ہمارے دشمن کو اطمینان نہ آیا اور کچھ ہی عرصہ بعد اس نے 18 مئی 1974 کو پاکستان کی سرحد سے محض 93 میل کی مسافت پر راجھستان میں پہلا ایٹمی تجربہ کیا۔ ایسے حالات میں اپنے سے کئی گنا بڑے اور مکاروعیار دشمن سے محفوظ رہنے کی خاطر پاکستان نے بھی ایٹمی طاقت کے حصول کے لئے دن رات ایک کردی۔
 
اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا ارادہ کیا اور انہیں یہ بھی کہنا پڑا کہ عیسائیوں ، یہودیوں اور ہندوؤں کے پاس ایٹم بم ہے ۔۔ہم بھی ایٹم بم ضرور بنائیں گے چائیے اس کے لیئے ہمیں گھاس کھانی پڑے۔ ڈاکٹر منیر احمد اور ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی سربراہی میں اس کام کا آغاز ہوا ۔ذوالفقارعلی بھٹوکے بعداقتدارجنرل ضیاء کے ہاتھوں میں آیامگرایٹمی پروگرام پرکوئی آنچ نہ آئی ۔ تقریبا چوبیس سال بعد

11مئی 1998ء کو بھارت نے پوکھران کے مقام پر تین ایٹمی دھماکے کر کے اپنے اپ کو دنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت ظاہر کیا دو روز بعد یعنی 13مئی کو بھارت کی جانب سے دو مزید ایٹمی دھماکے کردیئے گئے۔ عددی حساب سے بھارت کے پاس دنیا کی تیسری بڑی فوج‘ چوتھی بڑی فضائیہ اور پانچویں بڑی بحریہ ہے مگر توسیع پسندانہ عزائم اوراحساسِ برتری جیسے سفاک ومکروہ احساسات اورخطے میں سیاہ و سفید کامالک بننے کاخواہش مند بھارت ‘ حاصل شدہ قوت کے اظہارکے بناء کیسے اپنی بے چین روح کوتسکین دیتا۔ دھماکوں کے وقت بھارت میں مذہبی انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتاپارٹی کی حکومت تھی اور اٹل بہاری واجپائی وزیراعظم تھے۔ دنیاکی چھٹی بڑی ایٹمی قوت بننے کے بعد بھارتی حکمرانوں کا لب ولہجہ رعونت سے بھرپور‘شقاوت قلبی کامظہراورآدم خور بن گیا۔ پاکستان کودھمکیاں دی جانے لگیں اور لائن آف کنڑول پر بڑے پیمانے پر کارروائی کی بازگشت سنائی دینے لگی اورپاکستان کو کشمیرکاز یکسر بھلا دینے کی متکبرانہ نصیحتوں کا تانتا بندھ گیا۔
 پاکستان میں اس وقت میاں نوازشریف کی حکومت تھی ۔ ادھر مغربی ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑ رہی تھی اور پاکستان کو کبھی ایف سولہ طیاروں کی دلفریب پیشکش کی جانے لگی اور کبھی بیرونی امداد کی ہنڈیا کواُبالا دیاجاتا اورکبھی بین الاقوامی پابندیوں سے ڈرایادھمکایاجاتا کہ ایٹمی دھماکے نہ کریں۔ ایسے حالات میں عوام میں جوش وجذبہ عروج پرتھااوروہ ہمیشہ کی طرح اپنی افواج اورحکومتِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے ضلع چاغی کے پینتیس کلومیٹرطویل راس کوہ ہل کاانتخاب ہوا۔اور ‘28مئی 1998کودن کے 3بج کر16 منٹ پرمتعلقہ حکام نے ’’نعرۂ تکبیر‘‘بلندکرتے ہوئے ’’بٹن‘‘ دبادیا اوریوں تیس سیکنڈ کے مختصر وقفہ میں سیاہ گرینائٹ کی چٹانیں دودھیا رنگ کی ہوگئیں۔ دعاکرتے لب اورنم آنکھیں شاداں وفرحاں ہوئیں ‘فضاء نعرہ تکبیرکے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔اب پاکستان دنیاکی ساتویں بڑی ایٹمی قوت بن چکاتھا۔ پاکستان نے ان دھماکوں سے دنیا کی چھٹی بڑی ایٹمی قوت بھارت کو چھٹی کادودھ یاددلاکراپنی برتری واضح کردی۔ خطرناک نگاہوں سے تاکنے والے نظریں چرانے لگے اوراٹل بہاری واجپائی کو کہناپڑا کہ ہم پاکستان کے ساتھ تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے خواہشمند ہیں۔

اس دن کو پاکستانی عوام نے ’’یومِ تکبیر ‘‘کے نام سے موسوم کیا ہے ۔۔تکبیرعربی زبان کالفظ ہے۔جس کے معنی بڑائی وعظمت کے ہیں۔مسلمان اللہ کی ذات کو سب سے برترواعلیٰ سمجھتے ہیں اوریہی ان کی اساس ہے جو ان کو بدرسے لے کر 7 مئی 2025 تک کامیابی وکامرانی کے جوہرعطا کرتی آئی ہے‘۔قرآن حکیم میں کئی مقامات پر خدائے بزرگ وبرترنے مسلمانوں کی توجہ علوم کی جانب دلوائی ہے ‘یہی وجہ ہے کہ مسلم امہ کے ہوش مندطبقات نے ہمیشہ مطالعہ کائنات کواہمیت دی ۔ یومِ آزادی کے بعد پاکستان کی دفاعی تاریخ میں یہ دن سب سے بڑاہے جس کی وساطت سے پاکستانی سرحدیں ناقابلِ تسخیر ٹھہریں۔ یہ سب کچھ رب تعالیٰ کی کرم نوازیوں ‘ڈاکٹر قدیر خان ، ڈاکٹ ثمرمبارک مند اور پاکستان کی مسلح افواج کی انتھک محنتوں اور ذوالفقارعلی بھٹوکے عزم اور جنرل ضیاء کی توجہ سے نصیب ہوا۔
 
قیامِ پاکستان سے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں امن کاپرچار‘مظلوم و محکوم قوموں کی آزادی اورہمسایوں کے ساتھ برابری کی سطح پر بہترین تعلقات جیسے عوامل بنیادی ماخذکی حیثیت سے شامل رہے ہیں۔پاکستان اپنے محدودوسائل کے باوجوددفاعی بجٹ پر اپنی بقاء کی خاطرخرچ کرتاہے۔دوسری جانب بھارت پر ہر وقت جنگی جنون سوار رہتا ہے اوراس کے توسیع پسندانہ عزائم میں اسکی فلسفہ سازیاں بھی اپنے عروج پر ہیں۔ ۔‘یہی وجہ ہے کہ بھارتی سرکاراپنے ملک کے غریب عوام کاپیٹ باربار ’’کندآلے‘‘ سے کاٹ رہی ہے ۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابو بھارت

یومِ تکبیر

بجھتی ہوئی چنگاری

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے