اعتماد، احترام اور وفا کی لازوال مثال
تحریر۔ شفقت اللہ مشتاق
دو، پانچ یا دس سالہ نہیں پچھتر سالہ دوستی کا دور اور وہ بھی بے مثل اور بے نظیر دور۔ دھوپ چھاؤں، دن رات، اچھے بھلے یہ سارے حالات آتے جاتے رہتے ہیں اور اگر تعلقات مبنی براخلاص ہوں تو دوست دوست ہی رہتے ہیں اور احساست و جذبات خوبصورت اور لطیف۔ ہمارے ہاں تو پگ وٹان کا بھی تصور ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے دوستوں کے درمیان حساب نہیں ہوتا ہے ( حساب دوستاں دردل نہیں اب) دوستی میں سانجھ کا تصور وغیرہ وغیرہ۔ اس وقت دنیا میں کل 193 سے زائد ممالک ہیں اور ان ممالک کی بھی ایک دوسرے کے ساتھ یقیننا دوستی ہوگی اور وہ ایک دوسرے سے دوستی نبھاتے بھی ہونگے لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاک چائنا کی دوستی کی ایک منفرد اور یکتا تاریخ ہے اور اگر اس تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دوستی بڑی ہی پکی پیڈی اور ابھی تک کے قرائن کے اعتبار سے بادی النظر میں لازوال ۔اک لازوال اور ہمہ گیر تزویراتی شراکت داری جس کی بنیاد باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفادات پر قائم ہے۔ یہ رشتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہوا ہے اور دونوں ممالک کی عوام اسے ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہرے اور شہد سے میٹھے روایتی جملوں سے یاد کرتے ہیں۔چائنا اور پاکستان ہر پلیٹ فارم پر یک زبان ہوتے ہیں اور ان دونوں کے دشمنوں کو اچھی طرح علم ہے کہ اگر ان میں سے کسی کے خلاف کسی نے بھی جارحیت کا مظاہرہ کیا تو ان دونوں ممالک کو یک جان پائیں گے اور ایسے جارح ملک کو ایک کا نہیں دوممالک کا مقابلہ کرنا ہوگا اور مقابلہ کرنے کے لئے پختہ عزائم اور جوش وجذبے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ( باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم۔۔سو بار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا۔
پاکستان 1947 میں معرض وجود میں آیا۔ چائنا میں 1949 میں انقلاب آیا تھا اور چین میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔ برصغیر پاک وہند میں بھی پاکستان کے قیام سے یہاں کے مسلمانوں کے ایک نئے دور کا آغاز۔ یوں دونوں ممالک اور ان کی شروعات۔ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جن ممالک نے 1949 میں سب سے پہلے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا تھا۔ 1951 میں پاکستان اور چین کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد ہندوستان کے پیٹ میں مروڑ اور اس کی بدحواسی۔ پاکستان کو تو شروع سے ہی اس نے نقصان پہنچانا شروع کردیا تھا۔ تقسیم ہند کے موقعہ پر ہمارے حصے کے اثاثے اور اس متعصب ملک کا چٹا انکار اور تقسیم کے بنیادی طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی اور کشمیر پر ناجائز قبضہ اور اس کے بعد آج تک ناجائز طور پر پاک سر زمین پر قابض ہونے کی مسلسل کوشش لیکن ناکام اور نامراد ہندوستان۔ کچھ ایسا ہی انڈیا کا چائنا کے ساتھ معاملہ۔ پنگے پر پنگا اور بے عزت ہونے کا پروگرام۔ بارڈر کی حدود اور لداخ کے معاملات پر انڈیا چائنا جنگ 1962-63 میں ہوئی۔ اس تاریخی پس منظر نے پاک چائنا دوستی کی بنیاد رکھی اور یوں اخلاص، محبت اور پیار کے ایک نئے دور کی صبح طلوع ہوئی۔ سجری صبح۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لئے ایک سے ایک بڑھ کر اپنا اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ کون نہیں جانتا کہ 1968-69 میں امریکہ چائنا کے درمیان پل بننا کسی طرح بھی پاکستان کے لئے خطرے سے خالی نہیں تھا اور ہم نے دوستی کے تقاضے نبھائے اور یہ خطرہ مول لیا۔ دوستی میں دکھ درد بھی سانجھے ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے 1965 کی جنگ میں بھی چائنا ہماری بھرپور مدد کرچکا تھا۔ اس ساری کہانی کا کلائمکس اس وقت ہوتا ہے جب ہندوستان ہم پر 2025 میں شب خون مارتا ہے اور پھر وہ کہیں کا نہیں رہتا۔ ہمارے طیارے اڑتے ہیں تو ان کے ایئر بیس تباہ وبرباد جبکہ ان کے طیارے اڑنے سے پہلے فریز۔ پاک چائنا دوستی سدا بہار۔ بے مثال کامیابی پر شادیانے اور پاک چائنا دوستی کے ساری دنیا میں چرچے۔ (کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی)۔
اس مثالی دوستی کی بنیاد درج ذیل ستونوں پر استوار ہے۔ چین نے ہمیشہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے جبکہ پاکستان نے تائیوان، تبت اور سنکیانگ کے مسائل پر ہمیشہ ون چائنا پالیسی کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ سی پیک اور معاشی ترقی۔ اقتصادی راہ داری سے بڑا معاشی شاہکار ہے جس کے تحت توانائی کے منصوبے، سڑکوں کا جال اور گوادر پورٹ کی تعمیر عمل میں آئی ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی اور علاقائی رابطوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔دفاعی شراکت داری دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور عسکری شعبے میں گہرا تعاون رہا ہے۔ تھنڈر 17 جے ایف۔ مشترکہ دفاعی منصوبے اس اعتماد کی بہترین مثال ہیں۔ثقافتی اور عوامی روابط کی اگر بات کی جائے تو دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کی ثقافت کا احترام کرتے ہیں۔ چین میں اردو زبان کی ترویج اور پاکستان میں چینی زبان سیکھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔اس خطے میں دوستی نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہے بلکہ پورے خطے میں امن اور استحکام کا بھی باعث ہے۔ اس مضبوط اتحاد نے جنوبی ایشیا کے جیو پولیٹیکل منظر نامے میں ایک اہم توازن پیدا کیا ہے۔ یہ دوستی حکومتوں کی تبدیلیوں سے بالا تر ہے۔
محمد شہباز شریف وزیر اعظم پاکستان نے پاک چائنا پچھتر سالہ دوستی کو باقاعدہ طور پر منانے کا اعلان کیا ہے اور وزیراعظم مذکور آئندہ چند یوم میں چین کا دورہ کریں گے۔ ان کا یہ اعلان بڑا ہی اہم ہے۔ جب دو دوست اپنی دوستی پر اتراتے ہیں اور آئندہ کیلئے بھی اس عہد کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم ایک ہیں تو ایسے ممالک کے سارے دشمن جل بھج جاتے ہیں اور ان کو کان ہوجاتے ہیں کہ ان کی کوئی بھی غلطی بے بدل نہیں جائیگی اور ایسے دشمن ملک کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کی عوام میں بھی اس دوستی کی اہمیت کا شعور بیدار ہوتا






