#کالم

گوشت کھانے سے پہلے یہ جان لیں !

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.36.23

حکیم حارث نسیم سوہدروی
harrismaseen080@ gmail۔com

عید الاضحی جسے عید بقر بھی کہا جاتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس بے مثال قربانی کی یادگار ہے۔ جواللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی گئی اور یہ قربانی اللہ تعالیٰ کے حضور ایسی مقبول ہوئی کہ ہمیشہ کے لیے ہر سال مسلمانوں پر عید الاضحی پر فرض کر دی گئی کہ ہر صاحب حیثیت مسلمان ہر سال اس عید پر جانور قربان کرکے سنت ابراہیمی کو زندہ رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانان عالم اپنی حثیت کے مطابق ہر سال عید الاضحی پرگائے، بکرا، چھترا، دُنبہ اور اونٹ قربان کرکے سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ اور پھر ان جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں۔
گوشت لحمیات (پروٹینز) سے بھرپور ہوتا ہے۔ لحمیات متوازن غذا کا اہم جزء ہیں۔ مگر طب و صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک انسان کے لیے روزانہ ۱۰۰ گرام گوشت کافی ہے۔ جب کہ زیادہ کااستعمال نقصان کا سبب ہو سکتا ہے۔ چونکہ عید الاضحی جسے ہم عید بقراور قربانی کی عید کہتے ہیں۔ قربانی کے باعث گوشت کی فراوانی ہوتی ہے۔ تو دیکھا گیا ہے کہ لوگ بہت زیادہ گوشت کھاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بدہضمی، اسہال، پیٹ درد، اور بخار کا شکار ہوجاتی ہے۔ نیز گوشت کا بہت زیادہ استعمال جوڑوں کا درد، ہائی بلڈ پریشر، امراج قلب، اور سرطان کا باعث ہوسکتا ہے۔ یوں فائدے کی بجائے نقصان ہوجاتا ہے۔ جہاں تک گوشت کا تعلق ہے۔ اس کی اپنی غذائی افادیت ہے۔ اور اس کا متوازن طریقے سے کھانا صحت کے لیے ضروری اور مفید ہے۔ مگر جب یہ فروانی کے باعث بے تحاشا اور ضرورت سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ تو فائدہ کی بجائے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے عید بقر پر گوشت ضرورکھائیے،مگر توازن کا دامن ہاتھ سے نہ جانے پائے۔ اس طرح آپ گوشت کے ثمرات سے مستفید ہو سکتے ہیں کہ لوگ گوشت اور روغنی اشیاء کے بہت شوقین ہیں اسی طرح دیکھا گیا ہے کہ عید پر گوشت فراوانی سے ملتا ہے تو پھر اس کا استعمال فراوانی سے کرتے ہوئے توازن کادامن چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمارے کہنے کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ عید بقر پر گوشت نہ کھائیے۔ بلکہ کھائیے اور ضرو ر کھائیے۔ یہ سنت بھی ہے۔ تاہم اعتدال میں گوشت کو پکاتے وقت الائچی، زیرہ، پودینہ اور رائتہ کا استعمال ضرور کریں تاکہ درست ہضم ہو جائے۔ گوشت کے ساتھ پودینہ اور زیرہ کا رائتہ اور چٹنی کا استعمال ضرور کریں۔ عید بقر کے چار روز لگاتا ر گوشت کھانے کی بجائے درمیان کوئی سبزی یا دال ضرورلیں۔ اور کوشش کریں کہ گوشت اُبال کر پودینہ، زیرہ، الائچی پیس کر چھڑک کر کھائیں۔
ہمارے ہاں زیادہ تر قربانی بکروں اور گائے کی ہوتی ہے۔ اور انھی کا گوشت فراوانی سے ہوتا ہے۔ گائے کی نسبت بکرے کا گوشت اچھا ہوتا ہے۔ مگر کچھ لوگ اونٹ کی بھی قربانی کرتے ہیں۔ جوکہ گائے کے گوشت کے مقابل زیادہ بہتر اور مفید ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ بہت کم ہوتا ہے تاہم عرب ممالک اور صحرائی علاقوں میں بکثرت پایاجاتا ہے۔ البتہ عید پر مل جاتا ہے۔ اونٹ کا گوشت نمکین ہوتا ہے۔ اسی لیے ہائی بلڈ پریشر کے مریض نہ لیں۔ اونٹ کا گوشت پرانے بخاروں، یرقان، ہیپاٹائیٹس، امراض جگر، جوڑوں کے درد، عراق النساء (لنگڑی کا درد) اور پیشاب کی جلن میں مفید ہے۔ امراض قلب میں بھی مفید ہے۔ اعضاء رئیسہ دِل دماغ جگر اور تقویت باہ کے لیے مفید و موثر ہے۔ اعصابی و جسمانی کمزوری میں موثر ہے۔ اس کی مقدار خوراک بھی ایک سو گرام ہے۔ ایک صحت مند جسم کو جومتوازن غذا ضورری ہے اس میں لحمیات کو اہمیت حاصل ہے۔ جو کہ گوشت اور بعض دوسری اشیاء سے حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح گوشت کی جسم انسانی کے لیے ضرورت سامنے آجاتی ہے۔ تاہم اس کو اعتدال اور توازن سے استعمال کرناچاہیے۔ تاکہ اس کے فوائد حاصل کیے جاسکیں۔ عید پر جب لوگ فراوانی کے سبب بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں اور بے احتیاطی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو متعدد مسائل صحت سے دو چار ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عید پر گوشت کو اچھی طرح نفاست سے استعمال نہیں کیاجاتا۔ پھر گوشت کے بھرپور استعمال کے بعد دانتوں کو اچھی طرح صاف نہیں کیاجاتا۔ جس سے گوشت کے چھوٹے چھوٹے ذرے دانتوں میں رہ جاتے ہیں۔ جو دانتوں اور مسوڑھوں کے امراض کا سبب بنتے ہیں۔ جن میں مسوڑھوں میں ورم اور Cutsبھی لگ سکتا ہے۔ عید کے موقع پر ضرورت سے زیادہ استعمال معدہ کی جھلیوں میں سوزش کا سبب بن سکتا ہے۔ گوشت کو زود ہضم بنانے کے لیے بھی اسے بغیر یا کم مصالحہ میں بنایاجائے۔ اور گوشت کے ساتھ سلاد کی صورت پھل سبزیاں ضرو رلیں تاکہ جسم کو فائبر ملتا رہے۔ ایسے لوگ جن کو یورک ایسڈ کی وجہ سے جوڑوں کا دردہو، ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب و جگر کا شکار ہوں۔ ان کو گوشت کے استعمال میں احتیاط کرنا چاہیے۔ سنت کے لیے معمولی طور پر لیں۔ جہاں تک گوشت فریز کرنے کا تعلق ہے تو کوشش کریں کہ یہ آٹھ سے دس روز سے زیادہ فریز نہ کریں اور جلد از جلد استعمال کر لیں۔ ہاں اب تو لوڈشیڈنگ کا بھی مسئلہ ہے جس سے گوشت کے خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
مٹن میں چکنائی کی مقدار، چکن کی نسبت زیادہ ہوتی ہے جبکہ بیف (بڑے گوشت) میں چکنائی کی زیادہ مقدار مرغی، مچھلی اور بکرے کے گوشت میں موجود ہوتی ہے اور دوسرے غذائی اجزا مثلاً پروٹین، زنک، فاسفورس، آئرن اور وٹامن بی کی مقدار بھی موجود ہوتی ہے۔غذائی ماہرین کے مطابق گائے کے
گوشت کی 100 گرام مقدار میں 250 کیلوریز ، 15 گرام فیٹ ، 30 فیصد کولیسٹرول ، 3 فیصد سوڈیم ، 14 فیصد آئرن ، 20 فیصد وٹامن بی 6، 5 فیصد میگنیشیم ، 1 فیصد کیلشیم اور وٹامن ڈی اور 43 فیصد کوبالا من پایا جاتا ہے جبک بکرے کے گوشت کے 11 گرام مقدار میں 294 کیلوریز، 32 فیصد فیٹ ، 45 فیصد سیچوریٹڈ فیٹ، 32 فیصد کولیسٹرول ، 3 فیصدسوڈیم ، 8 فیصد پوٹاشیم ، 50 فیصد پروٹین ، 10 فیصد آئرن ، 5 فیصد وتامن بی 6، 5 فیصد

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے