#کالم

نکتہ چینی

Untitled 7

آپا منزہ جاوید اسلام آباد

انسان ایک عجیب مخلوق ہے۔ وہ دوسروں کے عیب تو فوراً دیکھ لیتا ہے مگر اپنی خامیوں سے ہمیشہ ناآشنا رہتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ کبھی اپنی ذات کو کٹہرے میں کھڑا ہی نہیں کرتا۔ وہ ہر وقت خود کو درست اور دوسروں کو غلط سمجھنے کی عادت میں مبتلا رہتا ہے۔ اپنی غلطیوں کو ماننا تو درکنار وہ خود فریبی کی ایک ایسی دنیا میں جیتا ہے جہاں وہ ہمیشہ خود کو مظلوم اور دوسرے کو ظالم تصور کرتا ہے۔
نکتہ چینی کا یہ رویہ ہمارے معاشرے میں تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ نجانے کیوں وقت کے ساتھ ساتھ انسان میں دوسروں کی عیب جوئی کا رجحان شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جیسے ہی کسی کو تھوڑی سی شہرت یا عزت نصیب ہوتی ہے وہ خود کو عقلِ کل سمجھنے لگتا ہے۔
پھر اس کی توجہ دوسروں کی اصلاح سے زیادہ ان کی تضحیک پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ وہ دوسروں کی چھوٹی چھوٹی بلکہ اکثر جھوٹی غلطیوں کو اچھال کر ایک عجیب سی تسکین محسوس کرتا ہے۔ شاید اس کے اندر کے انسان کو ایک وقتی سکون ملتا ہے۔ اسے یوں لگتا ہے جیسے دوسروں کی خامیاں نمایاں کر کے وہ اپنی خامیوں کو چھپا لینے میں کامیاب ہو گیا ہو۔ وہ خود کو یہ دلاسہ دیتا ہے کہ اچھا ہے ابھی تک کسی کی نظر اس کی کمزوریوں پر نہیں پڑی۔ وہ دوسروں کو اس قدر عیب جوئی میں الجھا دیتا ہے کہ کسی کا دھیان اس کی اپنی ذات کی طرف جاتا ہی نہیں۔
یا شاید وہ دوسروں کی خامیوں کو اچھال کر اپنے اندر کے گند کو دبانا چاہتا ہے۔ اپنے باطن میں چھپے خوف اور احساسِ کمتری کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسروں پر انگلی اٹھانا دراصل اس کے اپنے اندر کے اضطراب کا عکس ہوتا ہے جسے وہ تسلیم کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔
ایسے لوگ اپنے آپ کو وقت کا سردار سمجھنے لگتے ہیں۔ انہیں دوسروں کے چلنے بیٹھنے اٹھنے پہننے اور بولنے تک میں خامیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ کسی کی کردار کشی کرنا اس کی عزت کو مجروح کرنا اور اس کی خوبیوں کو نظر انداز کر کے صرف اس کی کمزوریوں کو نمایاں کرنا یہ سب ان کے لیے ایک مشغلہ بن جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ وہ خود مکمل اور پارسا ہیں۔
لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اگر ہم خود اسی چکی میں پسنے لگیں جس میں ہم دوسروں کو پیس رہے ہیں تو کیا ہوگا۔ اگر ہماری ذات بھی اسی طرح موضوع بحث بن جائے اور ہمارے عیب بھی اسی طرح اچھالے جائیں تو کیا ہم اسے برداشت کر پائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی خامیوں پر قابو پا لیتے ہیں جبکہ کچھ انہیں چھپانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ مگر رسوا وہی ہوتا ہے جو کسی کی نظر میں آ جائے یا کسی کے ہتھے چڑھ جائے پھر لوگوں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس کی ذات کو نشانہ بنائیں۔ اس کی خوبیوں کو پس پشت ڈال کر اس کی کمزوریوں کو سر عام لے آئیں
یہ سوال بہت اہم ہے کہ
آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم خود خامیوں سے پاک ہیں کیا ہم واقعی اتنے کامل ہیں جتنا ہم خود کو سمجھتے ہیں شاید نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جب بھی ہمیں کسی میں کوئی خامی نظر آئے تو سب سے پہلے ہم اپنا محاسبہ کریں۔ اپنے اندر جھانکیں اپنے ضمیر کو ٹٹولیں اور خود سے یہ سوال کریں کہ کیا یہ خامی مجھ میں تو نہیں۔ اگر ہم یہ عادت اپنا لیں تو نہ صرف ہمارا رویہ بدل سکتا ہے بلکہ معاشرے میں برداشت محبت اور احترام کا فروغ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔
ایسے ناپختہ انسان کے ہاتھ کسی کی خامی آ جانا یوں ہے جیسے بندر کے ہاتھ ماچس لگ جائے۔ وہ نہ صرف خود کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی جلانے سے باز نہیں آتا۔
یاد رکھیں۔ جب ہم عیب جوئی کو فروغ دیتے ہیں اور دوسروں کی ذات پر تنقید کو اپنا مشغلہ بنا لیتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وقت کا یہ پہیہ کبھی ہماری طرف نہ گھومے۔ وقت جب پلٹتا ہے تو بڑے بڑے لوگ بھی کٹہرے میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
اس لیے دوسروں میں اتنی ہی خامیاں تلاش کریں جتنی ہم خود برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ ہمیشہ سوچ سمجھ کر بولیں کیونکہ الفاظ منہ سے نکلنے کے بعد ہمارے اختیار میں نہیں رہتے۔ وہ اس گیند کی مانند ہوتے ہیں جو دیوار سے ٹکرا کر پلٹتی ہے اور واپس ہماری ہی طرف آتی ہے۔
پردہ رکھنا سیکھیں، بلاوجہ کسی کے عیب کی تشہیر مت کرتے پھریں کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ رب العالمین نے ہمارے کتنے پردے رکھے ہوئے ہیں اگر وہ سب ظاہر ہو جائیں تو شاید ہمیں چھپنے کو جگہ بھی نہ ملے اور ہماری تدفین کے لیے بھی لوگ نہ آئیں۔
اپنی عادت بنائیں کہ دوسروں کے عیب چھپائیں۔ برداشت سے کام لیں اور نظر انداز کرنا سیکھیں۔ تاکہ اگر کبھی برا وقت آئے تو آپ کو بھی ویسا ہی تحفظ نصیب ہو جس کا بیج آپ نے خود بویا ہو۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے