#کالم

ایران کو پاکستان کے راستے تجارت کی اجازت

Fahad 01

أج کا اداریہ

پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ’ٹرانزٹ آرڈر 2026‘ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت ایران کو براستہ پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ ٹرانزٹ تجارت کی اجازت دے دی گئی ہے۔وزارتِ تجارت کے ’پاکستان کے ذریعے سامان کی ٹرانزٹ آرڈر 2026‘ کے تحت ایران کی مصنوعات کے ٹرانزٹ کے لیے چھ روٹس یا راہداریاں کھولی گئی ہیں۔ ان کے ذریعے ایران اپنی مصنوعات پاکستانی بندرگاہوں کے راستے کسی تیسرے ملک کو فروخت کر سکتا ہے یا کسی دوسرے ملک سے خریدی گئی مصنوعات پاکستان کے راستے ایران منگوا سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کے لیے کسی تیسرے ملک سے اشیا منگوانا یا اپنی مصنوعات فروخت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔پاکستان اور ایران کے درمیان 909 کلو میٹر طویل سرحد ہے، جہاں متعدد اعلانیہ اور غیر اعلانیہ بارڈر کراسنگز موجود ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہوں میں کوئٹہ کے قریب تافتان بارڈر، گوادر کے قریب گبد بارڈر کراسنگ اور مند، پشین بارڈر شامل ہیں۔ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان معمول کی تجارت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولنے سے مستقبل میں پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کے راستے بھی کھل سکتے ہیں۔پاکستان کی وزارتِ تجارت کے مطابق ’2008 میں پاکستان اور ایران کے درمیان بذریعہ سڑک بین الاقوامی تجارت کا معاہدہ طے پایا تھا اور اسی معاہدے کے تحت حکومت نے 2006 میں پاکستان کے راستے سامان کی ٹرانزٹ کا آرڈر جاری کیا تھا۔‘
لینڈ لاک یعنی خشکی میں گھرے ممالک عموماً کسی تیسرے ملک کی بندرگاہ کے ذریعے تجارت کرتے ہیں۔ افغانستان کئی دہائیوں سے پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے تجارت کرتا رہا ہے، تاہم ایران کے پاس اپنی فعال بندرگاہیں موجود ہیں، جن کے ذریعے وہ دنیا کے مختلف ممالک کو تیل اور دیگر اشیا فروخت کرتا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، تجزیہ کار پاکستان کے اس اعلان کو ایران کے لیے اعتماد سازی کا ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں
ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا جس کے بعد امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس آرڈر کے ذریعے پاکستان اور ایران کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ کو مزید آسان بنایا گیا ہے، جس سے علاقائی تجارت کو فروغ ملے گا۔وزیرِ تجارت جام کمال کے مطابق ’اس اقدام سے پاکستان کی سٹریٹیجک اہمیت میں اضافہ ہو گا اور پاکستان خطے میں تجارتی راہداری اور لاجسٹکس حب بننے کی جانب گامزن ہو گا۔وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ ’گوادر، کراچی اور تفتان سمیت مختلف روٹس کو ٹرانزٹ کوریڈورز کے طور پر نامزد کر دیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے کسٹمز قوانین کے تحت سامان کی ترسیل کو مزید شفاف اور منظم بنایا جا رہا ہے۔قرینِ قیاس یہی ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو اعتماد میں لینے کے بعد ہی ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا ہوگا تاہم پاکستان نے ایرانی حکومت کی درخواست پر یہ تجارتی راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران کو دی جانے والی یہ تجارتی راہداری انہی شرائط کے تحت ہو گی، جو افغانستان یا کسی بھی دوسرے لینڈ لاک ملک پر لاگو ہوتی ہیں’جنگ کے بعد اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کی ناکہ بندی کے باعث ایران عملی طور پر لینڈ لاک ملک بن چکا ہے۔اس اقدام سے پاکستان کو نہ صرف ٹرانزٹ فیس حاصل ہو گی بلکہ ایرانی عوام میں پاکستان کے لیے خیرسگالی میں بھی اضافہ ہوگا’
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد ایران کی قیادت نے پاکستان سے تجارتی راہداری کھولنے کی درخواست کی تھی، جس کے بعد پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے مشاورت کے بعد ایران کو یہ سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ہے ’ماضی میں پاکستان افغانستان کو تجارتی راہداری فراہم کرتا رہا ہے اور اب ایران کو تجارتی راہداری دینے سے مستقبل میں پاکستان کے لیے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کے امکانات بڑھیں گے۔‘ ’تجارتی راہداری کھولنے سے قبل پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت کے لیے بینکوں میں لیٹر آف کریڈٹ کی شرط میں نرمی کی تھی اور اس کے بعد ایران کے لیے تجارتی راہداری کھولی گئی’اس اقدام سے پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا اورباہمی اعتمادکی فضابڑھے گی۔
ایران دنیا کے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ تاہم پاکستان اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کا بیشتر حصہ سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔
ایران پر عائد عالمی پابندیوں اور بینکنگ چینلز کی عدم دستیابی کے باعث پاکستان ایران سے تیل درآمد نہیں کرتا، تاہم بارٹر سسٹم کے تحت دونوں ممالک کے درمیان خوراک سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی تجارت ہوتی رہی ہے، جو جنگ کے دوران بھی جاری رہی۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایران پر عائد امریکی اور عالمی پابندیوں کے باوجود ایران کو ٹرانزٹ کی سہولت دے سکتا ہے ؟تو یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے سمندری قوانین کے تحت اٹھایا گیا ہےایک ایسے ملک کو تجارتی راہداری فراہم کی گئی، جو اب لینڈ لاک ہو چکا ہے۔ایران کو ٹرانزٹ فراہم کرنے پر پاکستان کو امریکی پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ پاکستان براہِ راست تجارت نہیں بڑھا رہا بلکہ صرف راہداری فراہم کر رہا ہے۔ کہا جارہاہے کہ پاکستان نے ایران کے لیے ٹرانزٹ کھولنے سے قبل امریکہ سمیت تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا ہے اور ایسا ممکن نہیں کہ یہ فیصلہ امریکہ کو آگاہ کیے بغیر کیا گیا ہو۔دوسری جانب پاکستان کی جانب سے تجارتی راہداریاں کھولنے پر امریکہ کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ایران میں جنگ کے باعث ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور پاکستان کے ذریعے ایران انہی اشیا

ایران کو پاکستان کے راستے تجارت کی اجازت

نکتہ چینی

ایران کو پاکستان کے راستے تجارت کی اجازت

30/04/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے