آنکھ جو کچھ دیکھتی ہےادب لطیف کے90 سال
( شاھد بخاری )
1935ء سے مسلسل شائع ھونے والے تاریخ ساز ادبی جریدے ادب لطیف کےنوے سال مکمل ھونے پر محبان ادب لطیف کے لئیے با وقار تقریب گزشتہ ھفتے، فلیٹیز میں منعقد کی گئی جس کی صدارت ڈاکٹر سعادت سعید نے کی۔
کلمات صدارت میں انھوں نے کہا کہ اردو جریدوں کی تاریخ میں ماہنامہ ادب لطیف لاہور محض ایک رسالہ نہیں بلکہ ایک ایسا فکری میدان رہا ہے جہاں، نو دہائیوں تک انسانی وجود کی بازیافت کا عمل جار ی رہا۔ مارچ 1935ء میں جب چودھری برکت علی نے اس جریدے کی بنیاد رکھی تو اس کے ابتدائی مقاصد نہایت ادب نواز، لسانی اور جمالیاتی تھے، جن کا محور اردو زبان کے اعلیٰ نمونوں کی اشاعت اور ایک پاکیزہ ادبی ذوق کی آبیاری تھا۔ آغاز میں یہ جریدہ،اسلوب کی شائستگی اور علمی تنقید کے ذریعے ابنائے وطن کو زبان کی قدردانی کی طرف مائل کرنے کا خواہاں تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان مقاصد میں جو تصوراتی کایا کلپ یعنی میٹامورفسس رونما ہوا، وہ اردو ادب کی تاریخ کا سب سے دلچسپ اور گہرا فکری سفر ہے۔ یہ سفر محض زبان کی درستی سے شروع ہو کر انسان کی اس اصل شکل کی بحالی تک جا پہنچا جو جدیدیت، استعمار اور نظامِ زر کے جبر تلے دب کر مسخ ہو چکی تھی۔اس نوے سالہ پروسیس کے دوران ادب لطیف کے مقاصد میں جو سب سے بڑی تبدیلی آئی، وہ انسان کو اس کے کافکائی انسیکٹ (کیڑے) اور آئینسکو کے گینڈوں والی کیفیت سے نکال کر دوبارہ انسانی صورت میں لانے کی تڑپ تھی۔”کافکا” کا کردار جب ایک صبح کیڑے میں تبدیل ہوتا ہے تو وہ دراصل اس بے گانگی اور سماجی تنہائی کا استعارہ ہے جو صنعتی معاشرے نے فرد پر مسلط کر دی۔ اسی طرح آئینسکو کے گینڈے اس گروہی ہسٹیریا اور اندھی تقلید کی علامت ہیں جہاں انسان اپنی انفرادیت کھو کر ایک وحشی درندے میں ڈھل جاتا ہے۔ ادب لطیف کے لکھنے والوں نے، جن میں سعادت حسن منٹو، کرشن چندر اور فیض احمد فیض جیسے مشاہیر شامل تھے، اس بات کو محسوس کیا کہ اگر ادب صرف زبان کی آرائش تک محدود رہا تو وہ اس مسخ شدہ انسانی امیج کو درست نہیں کر پائے گا۔ چنانچہ اس جریدے کے مقاصد میں ایک ایسی کایا کلپ ہوئی جس نے ادب کو انسانیت کی بحالی کا ایک واحد اور یک نکتی حوالہ بنا دیا۔
یہ میٹامورفسس اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس نے فکری تکثیریت کے اس مغالطے کو مسترد کر دیا جو اکثر تھالی کے بینگن پیدا کرنے اور بالآخر نظامِ زر کو تقویت پہنچانے کا باعث بنتی ہے۔ جب ہر نظریے کو بلا تفریق درست مان لیا جائے تو مرکزیت غائب ہو جاتی ہے، لیکن ادب لطیف کے دانشوروں کے نزدیک مرکز ہمیشہ وہ انسان رہا جس کی صورت کو بحال کرنا مقصود تھا۔ مولانا روم کے اس شیخ کی طرح جو چراغ لیے دیو ودد سے بیزار ہو کر انسان کی آرزو کر رہا تھا، ادب لطیف کے قلم کاروں نے بھی اپنے افسانوں اور نظموں کو وہ چراغ بنایا جس کا مقصد ان گینڈوں کے ہجوم میں آخری آدمی کی انسانیت کو بچانا تھا۔ یہ ایک ایسی مزاحمتی اپروچ تھی جو کسی طبقاتی نظام کے خاتمے کی سطحی تمنا سے کہیں زیادہ گہری وجودی کمٹمنٹ پر مبنی تھی۔
نوے سالوں کے اس ارتقائی سفر میں ادب لطیف نے ثابت کیا کہ ادب کا اصل وظیفہ انسان کو اس کی نبوی طاقت سے روشناس کرانا ہے، جو اسے استحصال اور خود کی حفاظت کے محدود دائروں سے نکال کر ایک عالمگیر سچائی سے جوڑتی ہے۔ جب آئینسکو کا آخری آدمی گینڈا بننے سے انکار کرتا ہے، تو وہ دراصل اس بورژوا معاشرے کی منطق کو توڑتا ہے جو فرد کو بھیڑ چال کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔ ادب لطیف کے صفحات پر یہی وہ جنگ تھی جو ہر دور کے ادیب نے لڑی۔ یہاں کایا کلپ کا عمل یہ تھا کہ کس طرح اس لایعنیت اور ابسرڈٹی سے نکل کر ایک بامعنی انسانی وجود کی تشکیل کی جائے۔ اس جریدے نے دکھایا کہ اگر انسان کی بنیادی شکل ہی خطرے میں ہو تو تمام لسانی پاکیزگی اور جمالیاتی اقدار بے معنی ہو جاتی ہیں، لہٰذا اولین ترجیح اس درست انسانی امیج کی بحالی ہے جو ہر دور کے جبر کا نشانہ بنتا رہا ہے۔
آج جب ہم ادب لطیف کی نوے سالہ تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اس کے ابتدائی ادب نواز مقاصد نے وقت کی بھٹی میں تپ کر ایک ایسی فولادی مرکزیت اختیار کر لی ہے جہاں انسان اپنی تمام تر اصلیت کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ یہ میٹامورفسس کسی شکست خوردہ مابعدالطبیعیات کا نتیجہ نہیں بلکہ اس آخری آدمی کی فتح کا اعلان ہے جو بندر یا گینڈا بننے کے بجائے اپنی انسانیت پر اصرار کرتا ہے۔ ادب لطیف نے اپنے سفر میں نظامِ زر کی پیدا کردہ اس بکھری ہوئی تکثیریت کو مسترد کیا جو مرکز سے خالی ہوتی ہے، اور اس کے بجائے اس نے اس وحدت کی ترویج کی جہاں فرد کا وقار اور اس کی اصل صورت ہی سب سے بڑا نصب العین ہے۔ یہی وہ کایا کلپ ہے جس نے ادب لطیف کو نو دہائیوں تک زندہ رکھا اور اسے اردو ادب میں انسانیت کی بقا کا ایک مستند استعارہ بنا دیا۔
ملتان ویمین یونیورسٹی شعبہ اردو کی سربراہ ڈاکٹر شگفتہ حسین میہمان خصوصی نے کہا کہ جو لوگ ادب لطیف کے باقاعدہ قاری ہیں وہ جانتے ہیں کہ بین الاقوامی ادب کے تراجم ہمیشہ سے ادب لطیف کا حصہ رہے ہیں۔ اس اعتبار سے اس پرچے کا معیار اعلیٰ رہا ہے۔ جن دنوں صدیقہ بیگم نے پرچے کی باگ ڈور سنبھالی وہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دور تھا 1977ءکے مارشل لاءکی ظلمت چھائی ہوئی تھی۔ ان دنوں ادب لطیف میں شاندار تراجم شائع ہوئے ۔ناظم حکمت یار قرۃ العین طاہرہ، فروغ فرخ زاد،نوال السعداوی،نجیب محفوظ، ایریکا ژونگ، ایما سارجنٹ اور ایسے ہی بڑے ادیب و شاعر جو عالمی ادب کی مزاحمتی تاریخ کا روشن باب ہیں،ادب لطیف کے قارئین تک،ان کی ترجمہ شدہ تحریریں






