#کالم

معاہدہ مکہ نئی تشکیلِ عالم

Untitled 6

سہیل بشیر منج

?امت مسلمہ کے تین عظیم و جلیل دفاعی ستونوں پاکستان ترکی اور سعودی عرب کے مابین قائم ہونے والا تاریخی "معاہدہ مکہ” عالم اسلام کے روشن مستقبل اور اتحاد کا ایک ایسا خِطہ نور ہے جس نے مسلم امہ کے دلوں میں عزت و وقار کی نئی روح پھونک دی ہے یہ معاہدہ کوئی معمولی سیاسی سمجوتہ نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کا وہ سنہری باب ہے جو نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن یعنی نیٹو کے مساوی دفاعی حصار تشکیل دیتا ہے اس روح پرور معاہدے کی بنیادی ترین اور سحر انگیز شق نیٹو کے آرٹیکل فائیو کی طرز پر اجتماعی دفاع کا مضبوط ترین عزم پیش کرتی ہے جس کے تحت ان تینوں میں سے کسی ایک بھی بھائی پر ہونے والا ہر جارحانہ حملہ درحقیقت ان تینوں اسلامی طاقتوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کا دندان شکن جواب تینوں اقوام مل کر باہم متحد ہو کر دیں گی اس دفاعی میثاق کی دیگر اہم ترین شقیں سرحدوں کی مشترکہ حفاظت اور تمام فوجی صلاحیتوں کی ہم آہنگی کی ضامن ہیں جن کے تحت تینوں ممالک کے فوجی دستے جدید ترین جدید ٹیکنالوجی انٹیلی جنس معلومات اور دفاعی آلات کے باہمی تبادلے کے ذریعے ایک ناقبل تسخیر آہنی دیوار بن جائیں گے مشترکہ دفاعی پیداوار اور عسکری صنعت کو فروغ دینا بھی اس تاریخی دستاویز کی بنیادی شق کا
حصہ ہے تاکہ بیرونی انحصار ختم کر کے اسلام کے ان مراکز کو مکمل طور پر خود کفیل بنایا جا سکے اس بے شک و شبہ معاہدے نے مسلم دنیا کو انتشار اور بے بسی کے تاریک سائے سے نکال کر شان و شوکت، وقار، رعب و دبدبہ کی نئی بلندیوں پر سرفراز کر دیا ہے اور ہر درد مند مسلمان کا دل اس تاریخی معجزے پر شکر گزاری اور بے پناہ مسرت کے جذبات سے لبریز ہے۔ معاہدہ مکہ پاکستان سعودی عرب اور ترکی تینوں برادر اسلامی ممالک کے لیے جغرافیائی اور عسکری سطح پر ایک بے مثال حفاظتی ڈھال ثابت ہوگا پاکستان کے لیے اس معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مشرقی سرحد پر درپیش دیرینہ روایتی حریف بھارت کی طرف سے کسی بھی بزدلانہ پیش قدمی کے وقت اسے دو بڑی اسلامی عسکری اور معاشی طاقتوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہو جائے گی جبکہ مغربی سرحد کی بدلتی صورتحال میں افغانستان کی جانب سے درپیش کشیدگی کے سامنے بھی پاکستان کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی سعودی عرب کے نقطہ نظر سے یہ میثاق اسے خطے میں درپیش کشیدہ سیکیورٹی چیلنجز بالخصوص یمن کے حوثی باغیوں اور مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال سے تحفظ فراہم کرے گا جبکہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے سامنے بھی سعودیہ کو ایٹمی اور عسکری صلاحیت کی حامل افواج کی ناقابل تسخیر پشت پناہی میسر آئے گی ترکی کے لیے اس کے فوائد یوں نمایاں ہیں کہ بحیرہ روم میں درپیش کشیدگی کے دوران یونان اور قبرص جیسے ممالک سے نبرد آزما ہونے کے لیے اس کی دفاعی حیثیت ناقابل تسخیر ہو جائے گی جبکہ شمالی شام اور کرد جنگجوو¿ں کے سیکیورٹی خطرات سے بھی ترکی کو مکمل دفاع حاصل ہوگا تاہم اس اتحاد پر ایران کو شدید تحفظات لاحق ہیں کیونکہ تہران اس سہ فریقی عسکری بلاک کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے تسلسل اور اپنے گرد ایک طاقتور  گھیراو¿ سے تعبیر کرتا ہے جس سے خطے کا طاقت کا توازن متاثر ہونے اور رقابت میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہ اگر مستقبل قریب میں تمام مسلم ممالک چین روس اور شمالی کوریا کے ساتھ مل کر اس اتحاد کو وسعت اور استحکام بخشتے ہیں تو دنیا کا جغرافیائی اور معاشی توازن مکمل طور پر بدل جائے گا یہ ایک ایسا ناقابل تسخیر اور ہیبت ناک بلاک بن کر ابھرے گا جس کے سامنے مغربی سامراج کی اجارہ داری ہمیشہ کے لیے دم توڑ دے گی چین کی بے پناہ اقتصادی قوت روس کی شاندار عسکری و سائنسی صلاحیت اور شمالی کوریا کے ایٹمی ردعمل کے ساتھ جب امت مسلمہ کے وسیع تر وسائل مجتمع ہوں گے تو دنیا ظالمانہ اور شیطانی طاقتوں کے مکر و فریب سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے گی اس حتمی طاقت کے قیام کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو کبھی یہ جرات حاصل نہیں ہو سکے گی کہ وہ کسی نہتے مسلمان ملک پر دھاوا بول سکیں یا ان کے گلشن کو آگ اور خون میں نہلا سکیں آنے والے دنوں میں مصر انڈونیشیا ملائیشیا قطر کویت بحرین بنگلہ دیش ایران اور نائجیریا جیسے اہم اسلامی ممالک اس تاریخی معاہدہ مکہ کا حصہ بن کر اسلامی نیٹو کے معتبر رکن بن سکتے ہیں جس کے نتیجے میں استعماری طاقتوں کا غرور خاق میں مل جائے گا اور مظلوم اقوام کو مستقل امن و تحفظ میسر آئے گا یہ عظیم اتحاد عالمی سطح پر ایک ایسا توازنِ نو قائم کرے گا جہاں ظلم کا خاتمہ اور حق کی فتح یقینی ہو جائے گی اسلامی نیٹو چین روس اور شمالی کوریا کے اس عظیم اتحاد کا قیام عالمی معیشت اور تجارت کے منظر نامے کو یکسر بدل کر رکھ دے گا یہ طاقتور اتحاد دنیا کے سب سے بڑے تجارتی راستوں توانائی کے وسائل اور پیداواری مراکز کو اپنے کنٹرول میں لے کر مغربی استعمار کے معاشی تسلط کا خاتمہ کر دے گا سی پیک کے وسیع تر نیٹ ورک اور بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ راہداری کے ذریعے ایشیا یورپ اور افریقہ کے درمیان براہ راست اور تیز ترین تجارتی روابط قائم ہوں گے اسلامی ممالک کے پٹرولیم اور قدرتی گیس چین کی جدید ترین پیداواری صنعت روس کی بنیادی معدنیات اور غذائی اجناس کا باہمی اشتراک ایک خود کفیل معاشی نظام کی بنیاد رکھے گا بین الاقوامی تجارت میں ڈالر کے بائیکاٹ اور مقامی کرنسیوں کے استعمال سے امریکہ کا مالیاتی ہتھیار اور غیر منصفانہ پابندیوں کا اثر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا اس بلاک کے تمام ممالک مل کر جدید ٹیکنالوجی دفاعی پیداوار اور زراعت کی برآمدات کو یورپی اور مغربی مارکیٹوں پر منحصر رہے بغیر ناقابل یقین حد تک بڑھا سکتے ہیں تجارت کے اس طاقتور اور متبادل نظام کے قیام سے امریکہ اور اسرائیل کا دنیا پر معاشی و عسکری بالا دستی قائم رکھنے کا خواب چور چور ہو جائے گا ان سامراجی قوتوں کے پاس نہ تو ان بین الاقوامی بحری راستوں کی ناکہ بندی کی صلاحیت بچے گی اور نہ ہی وہ مظلوم اقوام کو معاشی طور پر بلیک میل کر سکیں گے دنیا کی ستر فیصد سے زائد آبادی اور وسائل پر مشتمل یہ اتحاد صیہونی اور استعماری چالوں کا مکمل خاتمہ کرتے ہوئے ایک متوازن عادلانہ اور امن سے بھرپور نیا عالمی نظام تشکیل دے گا جس میں مظلوم اقوام کو عزت تحفظ اور بے مثال معاشی ترقی حاصل ہوگی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے