پاک فوج حرمین شریفین کے تحفظ کے بابرکت مشن پر
(عبدالباسط علوی)
سعودی عرب کی جانب سے شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پر پاکستانی فوج کے دستے کی آمد کا اعلان ستمبر 2025 میں طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے میں ایک اہم پیش رفت ہے جو روایتی تعاون سے آگے بڑھ کر ایک گہری اور زیادہ پابند فوجی شراکت داری میں تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ تعیناتی جس میں لڑاکا طیارے اور معاون عملہ شامل ہے پاکستان میں ایک تزویراتی اقدام اور مذہبی فریضے سے وابستہ مشن دونوں لحاظ سے دیکھی جا رہی ہے جس کا خاص تعلق مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کے تحفظ سے ہے۔ یہ اقدام علاقائی تناؤ میں اضافے کے دوران سامنے آیا ہے جو مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی کی صورتحال کو نئی شکل دینے میں اس اتحاد کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جبکہ اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری تجارتی راستوں سے ایئر بیس کی قربت کی وجہ سے یہ ایک دفاعی رکاوٹ کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔
سعودی اور پاکستانی قیادت کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ کسی بھی ایک ملک پر حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا جس نے ان کے سیکیورٹی مفادات کو عملی طور پر ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ یہ پیش رفت بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی حقیقتوں کی عکاس ہے جس میں روایتی مغربی سیکیورٹی ضمانتوں پر کم ہوتا اعتماد اور علاقائی طاقتوں کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی شامل ہے۔ پاکستان میں اس تعیناتی نے عوامی سطح پر زبردست جوش و خروش پیدا کیا ہے جس میں قومی فخر اور مذہبی جذبات کا امتزاج نظر آتا ہے اور اس سے مسلم دنیا کے محافظ کے طور پر ملک کے تصور کو مزید تقویت ملتی ہے۔ اس اقدام کو محض اسٹریٹجک اصطلاحات میں نہیں بلکہ عزت اور ذمہ داری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو پاکستان کے کردار کو ایک علاقائی فوجی قوت سے بڑھا کر اسلام کے مقدس ترین مقامات کی حفاظت کے کلیدی ضامن کے طور پر بلند کرتا ہے۔
خالصتاً آپریشنل اور عسکری نقطہ نظر سے شاہ عبدالعزیز ایئر بیس پر پاک فوج کے دستے کی آمد دونوں مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون (Interoperability) میں ایک بڑی چھلانگ کی علامت ہے۔ اگرچہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے—جس میں 1960 کی دہائی سے مملکت میں پاکستانی فوجیوں کی موجودگی اور مشترکہ مشقیں شامل ہیں—لیکن موجودہ تعیناتی اپنے دائرہ کار اور "مشترکہ مدافعت” کے واضح مینڈیٹ کے لحاظ سے منفرد ہے۔ مشرقی صوبے میں واقع یہ فضائی اڈہ فضائی حدود کی نگرانی اور طاقت کے اظہار کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کو سعودی رائل ایئر فورس کے اثاثوں کے ساتھ ضم کر کے دونوں ممالک درحقیقت ایک متحد فضائی دفاعی نظام تخلیق کر رہے ہیں۔ یہ محض علامتی اشاروں سے کہیں بڑھ کر ہے؛ اس میں حساس ڈیٹا لنکس کا اشتراک، ریڈار کوریج کی ہم آہنگی اور مشترکہ مشن کی منصوبہ بندی شامل ہے۔ ماہرین نے نوٹ کیا ہے کہ یہ تعیناتی دونوں افواج کی "آپریشنل تیاری” کو بڑھاتی ہے جس سے وہ ایک متحد کمانڈ ڈھانچے کے تحت حقیقی وقت میں خطرات کا جواب دے سکتے ہیں۔ اس میں شامل پائلٹوں کے لیے یہ پیشہ ورانہ کامیابی کا اعلیٰ ترین درجہ ہے—نہ صرف علاقائی خود مختاری بلکہ اسلام کے مقدس جغرافیے کا دفاع کرنا۔
اس تعیناتی کے گرد موجود جغرافیائی سیاسی تناظر ایران کے ساتھ جاری تنازعے سے بہت متاثر ہے۔ جیسے جیسے جنگ میں شدت آئی اور ایرانی جوابی حملوں نے خطے میں مختلف مفادات کو نشانہ بنایا اور امریکی افواج شدید مہمات میں مصروف ہوئیں، سعودی عرب نے خود کو ایک نازک پوزیشن میں پایا۔ مملکت نے غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاکہ وہ کسی ایسی براہِ راست جنگ میں نہ پھنس جائے جو خطے کی معیشت کو تباہ کر دے۔ تاہم پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے نے تہران کے لیے خطرے کے حساب کتاب کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ جیسا کہ سابق سینئر فوجی افسران اور تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ اگر سعودی عرب جوابی کارروائی کرے یا خود کو کسی براہِ راست بڑے حملے کی زد میں پائے، تو وہ تنہا نہیں ہوگا۔ پاکستان جیسی ایٹمی طاقت کی موجودگی، جو ایک باضابطہ معاہدے کی پابند ہے، ایک طاقتور رکاوٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی قیادت کو واضح طور پر اس معاہدے کی موجودگی کی یاد دہانی کرائی، جو کہ ایک سفارتی انتباہ ہے اور اس سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے جس کے ساتھ اسلام آباد اپنے عہد کو دیکھتا ہے۔ اگرچہ پاکستان ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے—مذاکرات کی میزبانی اور تحمل کی اپیل کر رہا ہے—لیکن لڑاکا طیاروں کی تعیناتی ایک "خاموش ضمانت” ہے کہ اس کے صبر اور ثالثی کے پیچھے مہلک فوجی طاقت موجود ہے۔
مزید برآں، تعیناتی کا پیمانہ عارضی طاقت دکھانے کے بجائے طویل مدتی وابستگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس دستے میں نہ صرف لڑاکا طیارے بلکہ "معاون طیارے” بھی شامل ہیں، جن میں عام طور پر الیکٹرانک وارفیئر طیارے، فضائی قبل از وقت وارننگ اور کنٹرول سسٹم (AEW&C) اور فضا میں ایندھن بھرنے والے ٹینکرز شامل ہوتے ہیں۔ ان طاقتور معاون ذرائع کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ پاک فضائیہ کا دستہ خود کفیل ہے اور ضرورت پڑنے پر مسلسل جنگی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ بعض ذرائع نے مملکت کے اندر وسیع تر سیکورٹی ڈھانچے میں 13,000 تک پاکستانی فوجیوں کے شامل ہونے کا ذکر کیا ہے، جو پہلے سے مشاورتی اور تربیتی کرداروں میں موجود ہزاروں فوجیوں کے علاوہ ہیں۔ یہ پاکستانی افرادی قوت کی ایک بڑی تعیناتی ہے جو اس اتحاد کے زمینی پہلو کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ یہ محض کسی مشق کے لیے آنے والا دستہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مقدس مشن کے لیے آنے والی محافظ فوج ہے۔ سعودی عرب کے لیے یہ






