#کالم

میٹرو بس فیصل آباد کی اہم ضرورت ہے؟

new desing hgfuyfuy

شہزادیات. / شہزاد بیگ
جمیز لائل کے نقشے پر قائم لائل پور اپنی زندگی کی تقریبا 136 بہاریں دیکھ چکا ہے ۔اس وقت یہ شہر چالیس ہزار کی آبادی کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا 1890 میں شروع ہونے والا یہ شہر 1895 میں ریلوے لائن سے مزین ہوچکا تھا اور یہاں پر نہری نظام بھی شروع کردیا تھا یہاں کے باغات نہری نظام کی سند تھے ساندل بار بھی قائم دائم تھی اور گھنثہ گھر بھی اپنے اٹھ بازاروں کے ساتھ تیزی سے آباد ہونا شروع ہوچکا تھا نور شاہ ولی کے ساتھ ساتھ گوبند پورہ اور جناح کالونی کے آثار بھی نموار ہو چکے تھے اٹھ بازاروں میں ھندووں اور مسلمانوں کے درمیان قیام پاکستان کے سلسلے چھوثی موٹی جھرپیں بھی شروع ہوچکی تھی خواجہ فیملی گھنٹہ گھر کے سامنے ایک بڑا بورڈ سر عبدالقادر ایڈووکیٹ کی تحریک پر نصب کرچکی تھی "بن کے رہے گا پاکستان، لے کے رہیں گے پاکستان ” کا نعرہ فلک شگاف ہونا شروع ہوچکا تھا ھندووں کی زیادہ تعداد کے باوجود مسلمان یہ اقدام اٹھا چکے تھے اسی کشا کش میں ملک وجود میں آچکا تھا ھندو اور سکھ واپس جاچکے تھے گھنٹہ گھر کے اطراف چینوٹ بازار سے ٹانگے اور بیس چلنا شروع ہو چکی تھی بازاروں رونق شروع ہوچکی تھی جبکہ بازاروں کے اندر شروع میں پارک اور فری ڈسپنسریاں بھی بنا دی گئیں تھیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قبضہ مافیا کی زد میں آتی گئیں اور شہر سکڑتا ہوا فٹ پاتھ تک قبضہ مافیا کے ہاتھوں میں آنا شروع ہوچکا تھا اور اس کی آبادی جو قیام پاکستان کے تناسب سے ہندو کی آبادی مسلمانوں سے بہت زیادہ تھی اٹھواں بازاروں میں چند دکانات پر مسلمان نظر آتے تھے اب ہر دکان پر مسلمان براجمان ہوچکے تھے قیام پاکستان کے بعد یہ شہر تیزی سے ترقی کرتا ہوا اپنے اطراف کی تحصیلوں میں پھیلا تو اس کی آبادی ہزاروں سے لاکھوں میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی اور آج ہم اگر دیکھتے ہیں تو اس کی آبادی 40 لاکھ تک جا پہنچی ہے اس عرصہ میں لائل پور کا نام بھی سعودیہ کے فرماروا شاہ فیصل کے نام سے منسوب کردیا گیا تھا جسے ہم اب فیصل آباد کہتے ہیں یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کسی دور میں اومنی بسیں ڈبل ڈیکر بسیں اور اسی طرح پبلک ٹرانسپورٹ ویگنیں یہاں سے شروع چلنا شروع ہوگئی جی ٹی ایس بسیں بھی ابھی طبی عمر پوری کر کی تھی لیکن یہاں پر سواریوں کا مزدوروں کا جو رش جو تھا وہ بے تحاشہ تھا کسی بھی ویگن یا بس میں دیکھتے تو کھڑے ہونے والے کی تعداد بیٹھنے والوں سے زیادہ ہوتی تھی اس مسئلے کو کسی بھی گورنمنٹ نے سنجیدگی سے نہ لیا اور اپنی پوری توجہ صرف لاہور تک ہی محدود رکھی اگر آج ہم دیکھیں تو یہاں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے اگرچہ گرین بسوں کی بازگشت زنائی دیتی ہے تو وہ بھی ایک آدھے روٹ پر نظر آتی ہیں دیگر اب بھی سب خالی کے خالی نظر آتے یہیں انھیں کب چالو کرنا ہے خدا جانے ۔۔۔۔۔ہمارے نمائندے ڈی سی سی کے لیے باولے ہوجارہے ہیں ووٹروں کی انکے لیے کوئی اہمیت نہ ہے۔ چند ہی میٹنگوں میں سب کچھ کھل کر سامنے آچکا ہے۔لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ شہر کء سڑکات تعمیر ہوچکی ہیں ہورہی ہیں شہر ترقی کررہا ہے۔
ادھر شہر میں اٹو والے یا دیگر جو پرائیویٹ ٹرانسپورٹ ہے وہ منہ مانگے دام لیکر کر شہریوں کی جیبں خالی کررہے ہیں اور پبلک انتہائی پریشان ہے۔یہ بیچارےجائیں تو کہاں جائیں۔۔۔کئی بار کی کوشش کے باوجود یہاں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل نہیں کیا ہوسکا چند بسیں آتی ہیں جو سال دو سال بعد کم ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور پھر غائب ہوجاتی ہیں۔
گزشتہ تین چار سالوں سے یہاں پر جس طرح شہر کو خوبصورت بنانے کے نام پرکچہری بازار جدید بازار میں منتقل کردیا گیا ہے اسی طرح جنھگ بازار کو کیا جا رہا ہے یہ بہت اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی چند دنوں سے گردش کرتی نظر آرہی ہے کہ یہاں پر میٹرو بس کی تمام ضروری کاروائی مکمل ہوچکی ہے اور عنقریب اس کی تعمیر کا کام شروع کردیا جائے گا پچھلے چھ مہینوں سے یہاں پر مختلف سیمپل لیے گئے روڈ چیک کیے گئے اور پچھلے دن تو یہاں کیمپ بھی لگ گیا کہ اس کا آغاز ہو چکا ہے صرف کاروائی کے لیے سی ایم پنجاب جنہوں نے اس کا اعلان کررکھا ہے فتہ کاٹیں گی اور اس کا آغاز ہو جائے گا لیکن گزشتہ ہفتے سے یہاں پر فیصل اباد کی صورتحال میٹرو بس کے حوالے سے انتہائی خبروں کی زد میں ہے مختلف آوازیں آرہی ہیں کہ میٹرو نہیں بنے گی اس کو موخر کر دیا گیا ہے۔ اس کے بننے سے یہ شہر قبرستان بن جائے گا۔ان افراد کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ لاہور پنڈی ملتان کے پی کے میں میٹرو بننے سے یہ سرسبز ہوئے ہیں یا ویران ؟ وہاں روزگار بڑھا ہے یا کم ہوا ہے آج دنیا جتنی تیزی سے ترقی کررہی ہے ہمیں اس کی جانب بڑھنا چاہیے ناکہ آنکھیں بند کرلینی چاہیے ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جب یہاں سب کام مکمل ہو چکے ہیں صرف فتہ کاٹنا باقی ہے تو اب اس منصوبے کو بریک کرنے کا یا روکنے کا کیا جواز ہے ؟؟؟؟؟ کیا یہاں کے ستائے ہوئے عوام کو آپ یہ ریلیف نہیں دینا چاہتے اس کے لیے پورے شہر سے آج ایک ہی آواز آرہی ہے کہ میٹرو بس کو یہاں سے چلنا چاہیے اور ہر حال میں اسے یہاں بننا چاہیے ۔اب یہاں یہ بات بھی ہمارے سامنے اتی ہے کہ میٹرو کے یہاں بننے سے یہاں کے پرائیویٹ ٹرانسپورٹر پریشان ہیں ان کی کوشش ہے کہ یہ نہ بنے۔
جبکہ یہ عوام کے لیےبنیادی سہولت ہے اور ایک ضرورت بھی۔ جس سے ہماری قریبی آبادیاں بھی مستفید ہوں گی جس طرح کہ جڑانوالہ ہے کھڑیاانولہ والا ہے و دیگر ایسے شہری جو یقینا میٹرو کو استعمال کریں گے یہاں انا ان کے لیے انتہائی آسان ہو جائے گا اور فیصل

میٹرو بس فیصل آباد کی اہم ضرورت ہے؟

16/4/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے