#کالم

طاقت کے نشے میں اسرائیل کہیں اکیلا نہ رہ جائے

new desing hjk

افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق

دوسری عالمی جنگ ، نائن الیون اور کووڈ کی وبا کے بعد اس وقت دنیا ایک خوفناک سیاسی ، عسکری اور معاشی بحران کے دہانے پر کھڑی ہے ۔ آبنائے ہرمز ، ایران ، خلیجی عرب ریاستیں ، امریکہ اور اسرائیل مسلسل بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنے رہے اور پھر یکلخت اس منظرنامے میں پاکستان سب سے زیادہ نمایاں ملک کی حیثیت سے ابھرا ۔ ہمارے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف صاحب نے بھرپور دانشمندی سے کام لیتے ہوئے پہلے تو امریکہ اور ایران کو فوری جنگ بندی پر آمادہ کیا اور پھر فریقین ( جسے بیشتر مبصرین “ دونوں فریقین “ لکھ اور پڑھ کر اردو کو مزید مجروح کرنے کا اہتمام کرتے ہیں) کو اسلام آباد آ کر امن مذاکرات کے لیے راضی کر کے دنیا بھر کو حیران اور امن دشمن و پاکستان مخالف عناصر کو پریشان کر دیا ۔گو کہ اکیس گھنٹوں کے ان مذاکرات کا اختتام کسی رسمی معاہدے پر منتج نہیں ہوا لیکن پاکستان اور بڑی حد تک تمام دنیا کے حق میں متذکرہ سیاسی واقعات بہت سود مند ثابت ہوئے ۔
ایسا پہلی بار ہوا کہ مغرب کے نمایاں ممالک نے کھل کر ایران پر مسلط کردہ جنگ اور اس سے پیدا شدہ ہولناک پیچیدگیوں کی مذمت کی ہے اور برطانیہ و آسٹریلیا سمیت کئی اور ممالک نے امریکی پالیسی کی حمایت سے انکار کیا ہے ۔ خلیجی عرب ریاستیں جو سیاحت اور تیل سے آنے والی دولت سے بننے والے دبیز پردے کے پار دیکھنے کے قابل نہ تھیں ، وہ بھی کم از کم اپنی خارجہ پالیسی کی بابت تذبذب کا شکار تو ہو چکی ہیں ۔ ایران نے پہلی بار اسرائیل کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر اس طلسم کو توڑ دیا ہے جو اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کی بابت طویل عرصے سے قائم تھا ۔ ظاہر ہے اسرائیل کے لیے یہ سب نہ صرف انتہائی غیرمتوقع تھا بلکہ ان واقعات نے اسے اتنا بوکھلایا اور چڑچڑا کر دیا کہ اس نے لبنان پر بلااشتعال حملے شروع کر دیے اور حسبِ معمول اس کا بڑا ہدف معصوم شہری تھے ۔ اسرائیل کے لیے ممکنہ مشکلات کا سب سے بڑا ثبوت آج اس وقت سامنے آیا جب ترکیے نے بھی علی الاعلان اسرائیل کو نہایت سخت لہجے میں آگ سے سے کھیلنے کی حماقت سے باز رہنے کی تنبیہہ کر دی ۔ اُدھر صدر ٹرمپ اپنے آپ کو ایک مشکل دوراہے پر لے آئے ہیں۔ اگر وہ ایران جنگ جاری رکھتے ہیں تو امریکی عوام اور کانگریس میں مقبولیت کا گراف تیزی سے گرتا ہے اور اگر وہ مفاہمتی راہ اختیار کرتے ہیں تو اپنے دیرینہ اور مضبوط ترین حلیف اسرائیل کی مخالفت کی تلوار ان کے سر پر لٹکنے کو تیار ہے ۔ اب تک جنابِ ٹرمپ نے اسرائیل کی اس طرح کھلم کھلّا حمایت نہیں کی جیسا کہ امریکی روایت رہی ہے ۔ جیسا کہ میں نے کئی ہفتے قبل پیشگوئی کی تھی کہ دنیا میں اقوامِ متحدہ کی مسلسل عدم فعالیت کے سبب شاید علاقائی اتحادی بلاکس اس کی جگہ لیتے چلے جائیں گے ۔ اب ایسا ہونے کے امکانات مزید روشن ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ لگتا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل اپنے دیوانہ وار توسیع پسندانہ عزائم پر نظرِ ثانی کرکے امنِ عالم قائم کرنے کے کارِ خیر میں شریک ہو۔ بصورتِ دیگر امتابھ بچن کے مشہورِ زمانہ فلمی مکالمے کی نوبت نہ آ جائے : “ تیرا کیا ہوگا کالیا ؟ “امید کرنی چاہئیے کہ ایران جنگ پوری دنیا کی معیشت کو پوری طرح ہلاکر ایک نئی اور خوشحال دنیا اپنے پیروں پر کھڑا کر دے ۔ رہے نام اللہ کا ۔جدید تاریخ میں بہت کچھ پہلی بار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ترکیے کی وارننگ کے بعد روس نے ایران سے رابطہ کر کے پاکستان کے شروع کردہ ثالثی کے عمل میں معاونت کی پیشکش کردی ہے ۔ یہ اپنی جگہ بہت اہم پیش رفت ہے ۔ سب سے حوصلہ کن امر تو امریکی رویے میں واضح تر مثبت تبدیلی ہے جو لائقِ ستائش ہے ۔

طاقت کے نشے میں اسرائیل کہیں اکیلا نہ رہ جائے

امن کے سفیر کا عالمی عروج

طاقت کے نشے میں اسرائیل کہیں اکیلا نہ رہ جائے

ایک نظر ذار ادھر بھی ۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے