#کالم

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن قسط:23

Untitled 13

(شاہد بخاری)
پنجابی شاعری:
یہ امر ہر قاری اور نقاد کے لئے باعث حیرت ہو سکتا ہے کہ شیخ اقبال اپنے گھر اپنے احباب کے ساتھ اور کم و بیش ہر محفل میں اُردو بولتے ہیں۔دراصل ہوا کچھ یوں کہ ان کا تعلق کرنال(مشرقی پنجاب) انڈیا سے تھااور ان کے گھر میں جو زبان بولی جاتی تھی وہ کرنال بلکہ ٹھسکہ میراں جی میں بولی جانے والی زبان تھی اور ان کی اہلیہ کے والدین کا تعلق امرتسر سے تھا اور ان کے اہلِ خانہ پنجابی بولتے تھے ڈاکٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ جب وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ آپس میں اور اپنے بچوں کے ساتھ اردو بولا کریں گے۔ یوں اس فیصلے نے کایا پلٹ کر رکھ دی، ان کی اور ان کے بچوں کی زبان اردو ٹھہری اور پھر ڈاکٹر صاحب شروع ہی سے اردو ادب کے ایک اچھے قاری رہے ہیں اور اردو کے حوالے سے ان کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا ذکر کچھ ہو چکا ہے مزیدکچھ اور ہو گا انہوں نے نظم و نثر میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ ان کیلئے بڑی تقویت کا باعث بنی ہیں اور اردو ادب میں انہیں ایک ایسا مقام ملا ہے جس پر کوئی بھی رشک کر سکتا ہے۔ لیکن پھر جب ان سے پنجابی شاعری ہوئی تو وہ بھی خوب ہوئی۔ دراصل بچپن میں بڑی حد تک وہ خوشاب کے دوستوں سے پنجابی ہی بولتے تھے اور پھر لاہور کے نابیناؤں کے لئے سکول میں بھی بڑی حد تک پنجابی بولی جاتی تھی وہ بے شک اپنے سسرال سے اردو بولتے تھے لیکن ہر وقت پنجابی کا ہی استعمال کرتے ہوئے اپنے اعزا کو دیکھتے تھے پھر کئی اور ایسے مواقعے آئے کہ انہیں پنجابی بولنی پڑی جب بولی تو خوب بولی کیونکہ غالباً پنجابی بھی ان کی سائیکی کا جزوِ لاینفک تھی پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اچھا ادب کسی زبان کا بھی ہو متاثر کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے پنجابی ادب پڑھا بھی اور سنا بھی وہ پنجابی ادب کے حوالے سے جتنے پروگرام ریڈیو پر ہوتے تھے یا پھر جب وہ مشاعروں میں بہت زیادہ جانے لگے تو وہاں پنجابی کا کلام بھی پڑھا جاتا تھا وہ اس سے بہت متاثر ہوتے تھے۔ دراصل ایک اچھے ادیب اور شاعر کو ہر ادب سے محبت ہوتی ہے اور ڈاکٹر اقبال کہتے ہیں کہ مجھے انسانوں سے محبت ہے اس لئے انسانوں کی ہر زبان مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے ان کی رائے میں ادب کسی زبان کا ہو ان کے جذبات متاثر ہو کر رہتے ہیں۔پنجابی دوہے ماہیے اور پنجابی گیت انہیں ہمیشہ متاثر کرتے رہے ہیں گاتے ہوئے پنجاب کی ساری نغمگی ان کی روح کا حصہ بن گئی اور کہیں لاشعور میں پنجابی کے شعر ہوتے رہے۔ پنجابی کلام جاری رہا وہ جب بھی پنجابی صوفیاء کا کلام پڑھتے تو جھوم اٹھتے ہیں۔ ہیر وارث شاہ انہیں ہمیشہ متاثر کرتی رہی، بابا نانک،خواجہ فرید، سلطان باہو،بابا بلھے شاہ، شاہ حسین اور بہت سے پنجابی صوفیا کا کلام انہیں متاثر کرتا رہا ہے۔اس لئے جب انہیں یہ خواہش ہوئی یا لاشعور نے شعور کے در پر دستک دی تو پنجابی شعر ہونے لگے ”نہ عشق نوں لیکاں لائیں“ کے اشعار جانے کب سے ان کے روح کی گہرائیوں میں تخلیق ہو رہے تھے۔ جب یہ کتاب منصہ شہود پر آئی تو پنجابی لکھنے والے شعراء نے دل کھول کر داد دی اور ڈاکٹر صاحب خود بھی حیران ہیں کہ یہ سب کچھ کیسے ہو گیا؟ لیکن وہ تو اس بات پر بھی حیران ہیں کہ ان سے اردو کے اشعار بھی کیسے ہو گئے، کیونکہ شعر کہے نہیں جاتے ہوجاتے ہیں۔ڈاکٹر اقبال نے مجھے بتایا کہ پنجابی میں شاعری کے حوالے سے جن احباب نے انہیں مہمیز کیا ان میں وہ برادرم آتش کیا نی، اخلاق عاطف اور بالخصوص نسیم اقبال بھٹی کے ممنون ہیں۔
تاہم ”نہ عشق نوں لیکاں لائیں“ ڈاکٹر شیخ اقبال کا ایک کامیاب تجربہ ہے ذیل کے صفحات میں ہم اس کاوش کے حوالے سے گفتگو کریں گے:
غزلیات: 39 نظمیں:23 ٹائٹل: اسلم کمال
اشاعت:2016 ثنائی پریس سرگودہا
انتساب: پنجاب دی سچی تے سچی رہتل دے ناں
ڈاکٹر اقبال اس کتاب میں مڈھلی گل کے عنوان سے تحریر کرتے ہیں کہ
”ایہ گل میرے پلے وی نہیں پئی کہ میں پنجابی وچ شعر کہن وچ اینی دیر کیوں کیتی۔ اُنج تے شعر کہنا کسے وی زبان وچ کسے دے وس وچ نہیں، کوئی دعویٰ کرے کہ میں شعر کہن لگا واں کجھ چنگا نہیں لگدا، ایہ تاں سنیاں اے تے لگدا وی اے کہ شاعری وی دین اے اُس دین آلے دی جہڑا سب کجھ دیندا اے۔ فیر وی مینوں چاہی دا سی کہ میں پنجابی وچ لکھناں بہت پہلے توں شروع کر دیندا…………پاکستان دے بہت سارے لکھاریاں وانگر میں اردو وچ لکھنا شروع کیتا ایہ فطری سی ایس واسطے کہ اسی گھر وچ اردو بولدے ساں تے سکولاں کالجاں وچ وی اُردو پڑھدے ساں تے ساڈے منے پرمنے شاعر وی اُردو وچ لکھدے رہئے۔ ولی ؔ توں اقبالؔ تیکر اسی جہڑے جہڑے شاعر پڑھے اوہ اردو دے شاعر سن۔ ایس لئی اردو وچ شعر کہنا فطری جاپدا سی…….. ایہ گل واضح کر دینا واں کہ پنجابی شاعری وچ میری اردو تے انگریزی شاعری دے اثرات ضرور موجود نیں۔ میں بعض انگریزی شاعراں دے کلام تے نظماں توں متاثر ہو کے کجھ ایہو جیہا کلام وی لکھیا اے جنہاں نوں پڑھ کے جون ڈن، کیٹس، براؤننگ تے ہور بوہت سارے یورپی شاعراں دے اثرات نظر آوں گے۔ پر کوشش ایہ ای رہی اے کہ سارا عمل تخلیقی طور تے ہووے کسے شاعر دے کلام دا چربا لے کے شعور ی طور تے شعر کہنا کوئی پسندیدہ گل نہیں،بہر حال جون ڈن دیاں بعض نظماں نے تے مینوں بہت متاثر کیتا اے تے سولہویں صدی دے اس انگریزی شاعر دی بعض نظماں دے بعض خیالات میری پنجابی شاعری وچ ویکھے جا سکدے نیں“
پنجابی اور اردو کے شاعر اخلاق عاطف اس کتاب کے حوالے سے یوں رقم طراز ہیں:
”نہ عشق نوں لیکاں لائیں‘دا مسودا پڑھ

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن قسط:23

02/04/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے