ایران : الٹی ہو گئیں سب تدبیریں ۔۔۔۔
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق
اس وقت عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے یہ بہت بڑا معمّہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی عسکری قوت کو دو ہفتے گزرنے کے باوجود ایران پر حملے کے مطلوبہ نتائج کیوں حاصل نہ ہو سکے ۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ آبنائے ہُرمز کو صرف کھلوانے کے لیے برطانیہ سمیت دیگر بڑے ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ حالیہ خلیجی صورتحال سمجھنے کے لیے امریکہ اور ایران کی تواریخ کا مطالعہ بہت ضروری ہے ۔
امریکہ ایک عظیم فوجی اور ایٹمی طاقت کے طور پر اگست 1945 میں عالمی سیاسی نقشے پر ابھرا اور اس کے ساتھ ہی اس نے سوویت یونین کے ساتھ سرد جنگ کا آغاز کیا ۔ سرد جنگ کا پہلا بڑا معرکہ کوریا کی جنگ اور تقسیم کی صورت 1950 کی دہائی کی ابتدا میں برپا ہوا۔ پھر اسی دہائی کے وسط میں دونوں سپر پاورز نے کوئی انیس سال تک ویت نام پر قبضے کی جنگ کی لیکن امریکہ کے حصے میں جزوی یا مکمل ناکامی ہی آئی ۔ بالآخر 1980 کے اواخر میں سرد جنگ امریکہ کی فتح پر ختم ہوئی ۔
تاہم اس کے بعد عراق اور افغانستان پر زبردست حملوں سے ان ملکوں میں وسیع پیمانے پر تباہی کے باوجود امریکہ نے جن مقاصد کے لیے ان ملکوں کو نشانہ بنایا ، وہ کبھی حاصل نہ ہو سکے ۔ افغانستان تو یوں بھی صدیوں سے تباہی بربادی بھگتنے کا عادی تھا ، سو یہی عمل خود افغان قبائل نے امریکہ کے انخلا کے بعد جاری رکھا ۔ پھر 28 فروری 2026 کو امریکہ نے ایران پر تیس پینتیس سالوں سے لگی ہر قسم کی پابندیایوں کے نتیجے میں اسے کمزور سمجھتے ہوئے فضائی حملوں کی ابتدا کی اور اس مرتبہ اسرائیل نے بھی کھلم کھلّا امریکہ کا ساتھ دیا ۔ تاہمُ دو ہفتوں سے زائد عرصے کے دوران ایران کی مزاحمت اور جوابی کاروائی دونوں نے ہی امریکہ کے تمام حلیفوں اور سیاسی پنڈتوں کو شدید حیرت سے دوچار کر دیا ۔
دیکھنا یہ ہوگا کہ اتنا عرصہ شدید معاشی دباؤ کا شکار رہنے والے ایران کی حیران کُن جوابی کاروائی کا راز کیا ہے ۔ مختصر ترین جواب ہے : صدیوں پر محیط ایرانی قومیت پسندی اور ایک زریں ماضی کے وارث ہونے کا مستقل احساس ۔ 550 قبلِ مسیح سے ایران ایک سپر پاور کے طور پر ابھرنا شروع ہوا اور 651 عیسوی تک قوی تر ہوتا چلا گیا ۔ اس کے ہمسائے میں بازنطینی / مشرقی رومن سلطنت دوسری سپر پاور ایران کے حریف کے طور پر اسی طرح صدیوں سے قائم تھی ۔
خلفائے راشدین کے دور میں رومن حکمرانی نہ صرف ختم ہوئی بلکہ ایشیا اور افریقہ سے واپس یورپ چلی گئی ۔ تاہم سلطنتِ فارس / ایران نے مسلمانوں کے ہاتھوں شکست تو کھا لی لیکن مسلم حکومت کے تحت ایرانی قوم اپنی سرزمین اور یوں اپنے درخشاں ماضی اور ثقافتی روایات سے جُڑی رہی ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عربی ان علاقوں کی قومی زبان نہ بن سکی ۔ یوں ایک طرف عرب۔فارس امتزاج سے ثقافت ، ادب اور فنونِ لطیفہ کے نئے رنگ ابھرے تو دوسری طرف اہلِ فارس کے شعور و لاشعور میں اپنے عظیم ماضی کی یاد زندہ رہی ۔ عرب اقوام میں ایسا کیوں نہ ہو سکا ، یہ ایک الگ موضوع ہے ۔
برطانیہ اور روس کی سیاسی کشاکش / گریٹ گیم اور دو عالمی جنگوں کے بعد ایران پر جزوی قبضہ بھی ایرانی حب الوطنی کو دبانے یا ختم کرنے میں ناکام رہا ۔ پھر جدید ایران پر رضا شاہ پہلوی کی سیکولر حکومت سے لے کر آیت اللہ خمینی کے اسلامی انقلاب کے بعد کی ایرانی قوم میں یہی جذبۂ تفاخر و قومیت قائم دائم رہا ۔ پابندیوں کے دور میں ایرانی حکومت نے اپنے باصلاحیت لوگوں کو بیرونِ ملک ہجرت سے روکنے کے لیے بے پناہ سائنسی ریسرچ کی سہولیات فراہم کیں اور یوں خفیہ طور پر ایرانی سائنسدان جدید ترین اسلحہ سازی میں مصروف رہے ۔
ہمیں معروضی طرزِ فکر کے ساتھ امریکہ -ایران جنگ سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اب تک پاکستانیت کو بہت مضبوط قومی شناخت کے طور پر ابھارنے میں کچھ خاص کامیاب نہیں ہوئے اور بیشتر باہمی سیاسی رسہ کشی میں توانائیاں صرف کرتے رہے ہیں ۔
منگل کے شمارے کے لیے جناب






