خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ناگزیر
ایم این اے شازیہ فرید
8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف خواتین کی کامیابیوں اور خدمات کا جشن ہے بلکہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ خواتین کی مساوات، حقوق اور قیادت کے لیے جدوجہد ابھی جاری ہے۔ 1908 میں امریکہ میں ہزاروں خواتین نے بہتر کام کے حالات، مساوی اجرت اور ووٹ کے حق کے لیے مارچ کیا اور اقوام متحدہ نے سرکاری طور پر 8 مارچ کو بین الاقوامی یوم خواتین کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ یہ دن ہمیں تاریخی جدوجہد کے ساتھ ساتھ خواتین کی موجودہ کامیابیوں کی یاد بھی دلاتا ہے بطور رکن قومی اسمبلی، میں نے ہمیشہ خواتین کے مسائل کو ترجیح دی ہے اور اسمبلی میں خواتین کی تعلیم، صحت، اقتصادی خودمختاری اور مساوی مواقع کے لیے آواز بلند کی ہے۔ میں نے مقامی سطح پر خواتین کی قیادت کو فروغ دینے والے پروگراموں کا انعقاد کیا اور نوجوان لڑکیوں کو خوداعتمادی پیدا کرنے اور معاشرت میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ خواتین کی سیاست میں شمولیت صرف ان کی ذاتی ترقی کے لیے نہیں بلکہ معاشرتی ترقی اور مضبوط قومی پالیسیوں کے لیے بھی ضروری ہے اور میں نے اپنی سیاسی زندگی میں اس بات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی ہے،دنیا بھر میں خواتین نے ہر شعبے میں قیادت اور خدمات کا لوہا منوایا ہے۔ انجیلا مرکل نے جرمنی میں کئی دہائیوں تک قوم کی قیادت کی اور اقتصادی و سماجی استحکام فراہم کیا، مشائل اوباما نے تعلیم، صحت اور خواتین کے حقوق پر عالمی سطح پر اثر ڈالا، اور اوپرا وِنفری نے میڈیا کے ذریعے خواتین کو خوداعتمادی اور قیادت کی ترغیب دی۔ پاکستان میں مریم نواز صاحبہ ایک غیرمعمولی، بصیرت اور طاقتور رہنما ہیں جنہوں نے نہ صرف خواتین کی سیاسی شمولیت کو فروغ دیا بلکہ قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے پاکستانی خواتین کے لیے روشن اور متاثر کن مثال قائم کی۔ ان کی قیادت میں خواتین کو جرات، ہمت اور خوداعتمادی کے نئے مواقع ملے ہیں، اور وہ ہر پلیٹ فارم پر خواتین کے حقوق اور سیاسی نمائندگی کی علمبردار رہی ہیں۔ مریم نواز صاحبہ کی ذہانت، حکمت اور قیادت نے نہ صرف پارٹی بلکہ پوری قوم میں خواتین کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اور وہ ایک حقیقی رول ماڈل کے طور پہ سامنے آئی ہیں۔ مریم اورنگزیب صاحبہ جیسی شخصیت کا انٹرنیشنل ویمن ڈے پہ ذکر نہ کرنا بھی ایک ناانصافی ہے مریم اورنگزیب صاحبہ نے بھی خواتین کے حقوق، تعلیم اور سماجی خدمات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی قیادت خواتین کی ترقی، سیاسی شمولیت اور سماجی آگاہی کے فروغ میں ایک روشن مثال ہے۔ ان کی مسلسل کاوشوں نے خواتین کو نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے بلکہ ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ خاص کر انہوں نے بین الاقوامی فورمز پہ موسمیاتی تبدیلیوں پہ اقوام عالم کی رہنمائی کی۔ عظمی بخاری صاحبہ نے بھی خواتین کی خوداعتمادی اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے میں قابل ستائش خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی قیادت میں خواتین کی سیاسی اور سماجی نمائندگی میں مثبت تبدیلیاں آئی ہیں اور وہ نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک متاثر کن رول ماڈل ہیں،ثانیہ عاشق نے خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشرتی خدمات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی محنت اور بصیرت نے خواتین کو نہ صرف حوصلہ دیا بلکہ انہیں قیادت میں آگے بڑھنے کی ترغیب بھی دی۔ وہ نوجوان لڑکیوں کے لیے اچھی مثال ہیں۔ اور ایم پی اے سلمی بٹ صاحبہ کا نام بھی جرات مند خواتین میں آتا ہے جو رمضان میں بازاروں کا دورہ کر کے اشیا خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لے رہی ہوتی ہیں اور عام آدمی کو ریلیف دینے کی حکومتی پالیسی کو نافذ العمل بنا رہی ہوتی ہیں یہ پاکستان کی باصلاحیت خواتین ہمارے معاشرے کا خوبصورت چہرہ ہیں جن کو ہم خواتین کے عالمی دن پہ مثال کے طور پہ سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ تحقیقاتی شواہد سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ خواتین کی قیادت زیادہ تعاون، موثر فیصلہ سازی، سمجھ بوجھ اور طویل مدتی منصوبہ بندی پر مرکوز ہوتی ہے اور نیورولیڈرشپ اور تنظیمی رویوں کے مطالعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ خواتین کی قیادت میں ٹیم ورک اور سماجی انصاف کے پہلو زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ تحقیقی اور شماریاتی اعداد و شمار سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جہاں پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی تیس فیصد یا اس سے زیادہ ہے وہاں تعلیم، صحت، انسانی حقوق اور صنفی مساوات کے شعبوں میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک جیسے سویڈن، ناروے، فن لینڈ اور نیوزی لینڈ میں خواتین کی پارلیمانی نمائندگی تقریباً چالیس سے پچاس فیصد ہے جس کے نتیجے میں قوانین میں خواتین کے مسائل پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اگر ہمارے ملک میں بھی خواتین کی نمائندگی بڑھائی جائے تو نہ صرف بہتر قوانین وضع ہوں گے بلکہ نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک مثال قائم ہوگی کہ قیادت میں جنس کوئی رکاوٹ نہیں،میری ذاتی کوشش رہی ہے کہ خواتین نہ صرف سیاست میں بلکہ کاروبار، تعلیم اور سماجی خدمات میں بھی برابر کے مواقع حاصل کریں۔ میں نے خواتین کے لیے ہنر مندی کی ورکشاپس اور تربیتی پروگراموں کا انعقاد کیا تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچان سکیں اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کریں۔ سائنسی مطالعات یہ بھی بتاتی ہیں کہ جب خواتین معاشی اور سیاسی میدان میں شامل ہوتی ہیں تو معیشت میں ترقی کی شرح بڑھتی ہے، تعلیمی معیار بلند ہوتا اور صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ خواتین کی قیادت کے بغیر پالیسی سازی اکثر مختصر مدتی مفادات پر مبنی ہوتی ہے اور سماجی انصاف متاثر ہوتا ہے، اسی لیے ضروری ہے کہ ہم پارلیمنٹ اور دیگر فیصلہ ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ کریں۔






