#کالم

شہر میں ایک چراغ تھا نہ رہاایک روشن دماغ تھا نہ رہا

Untitled 1

چراغِ عزم : میاں محمد صدیق کی حیاتِ جاوداں

منشاقاضی حسبِ منشا

کچھ لوگ وقت کی دھول میں گم نہیں ہوتے، وہ خود وقت کی پیشانی پر لکھی ہوئی روشن تحریر بن جاتے ہیں۔ مرحوم میاں محمد صدیق بھی ایسی ہی ایک تابندہ تحریر تھے، جو کہکشاں کی مسجع اور مقفع عبارتوں کی طرح آج بھی جگمگا رہی ہے اور میرے آئینہ ادراک پر رنگ و نور کی طرح آپ کا عکسِ جمیل رقصاں ہے ۔ آپ کی زندگی جدوجہد، بصیرت اور ایثار کا ایسا استعارہ تھی جو آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتا رہے گا۔
1933ء میں ضلع منڈی بہاؤالدین کے نواحی گاؤں گوجرہ میں ایک معزز گھرانے میں آنکھ کھولی۔ والد محترم حاجی غلام حیدر علاقے کی باوقار شخصیت تھے۔ ایک کثیر العیال خاندان میں پرورش پانے والے اس بچے نے بچپن ہی سے حالات کی سختیوں کو قریب سے دیکھا۔ وسائل محدود تھے مگر حوصلے بلند۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے پرائمری سکول سے حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیئے منڈی بہاؤالدین کا رخ کیا۔
گورنمنٹ ہائی سکول میں داخلہ محض تعلیمی مرحلہ نہ تھا بلکہ عزم کا امتحان تھا۔ اس وقت کے ہیڈ ماسٹر سری رام سیٹھی نے تعصب اور سخت گیری کی بنا پر داخلہ دینے سے انکار کیا، مگر قسمت انکار سے زیادہ طاقتور تھی۔ بااثر شخصیات کی مداخلت اور اپنی قابلیت کے بل بوتے پر داخلہ حاصل کیا اور یوں یہ ثابت کیا کہ قابلیت دیواروں سے نہیں ٹکراتی بلکہ انہیں گرا دیتی ہے۔
تعلیم کے دوران ہی بڑے بھائی کی وفات نے زندگی کا رخ بدل دیا۔ کندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ آن پڑا اور تعلیم ادھوری چھوڑ کر عملی میدان میں اترنا پڑا۔ غلہ منڈی میں ایک چھوٹی سی دکان سے کاروبار کا آغاز کیا۔ یہ دکان محض تجارت کی جگہ نہ تھی بلکہ ایک خواب کی بنیاد تھی۔ دیانت اور معاملہ فہمی نے جلد ہی اس خواب کو حقیقت کا رنگ دے دیا۔
آپ نے نہ صرف اپنا کاروبار پھیلایا بلکہ علاقے کی ترقی کے لیئے بھی عملی اقدامات کیئے۔ منڈی بہاؤالدین میں بینکاری سہولت نہ ہونے کے باعث تاجروں کو مشکلات درپیش تھیں۔ آپ نے کوششوں سے اور جدوجہد کے بعد نیشنل بینک کی شاخ کھلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یوں تجارت کے دروازے مزید وسیع ہوئے اور مقامی معیشت کو نئی جان ملی۔
تمباکو کے کاروبار میں قدم رکھنا آپ کی دور اندیشی کا مظہر تھا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان تک کاروباری روابط قائم کیئے۔ مردان، اوکاڑہ اور دیگر شہروں میں نیٹ ورک قائم ہوا۔ کروڑوں کی ڈیلز ہوئیں، گودام بھر گئے، کامیابی کی خوشبو پھیلنے لگی۔ مگر 1971ء کا سانحہ ایک طوفان بن کر آیا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا، لاکھوں کا تمباکو ضائع ہو گیا، سرمایہ ڈوب گیا۔ مگر آپ کے حوصلے نہیں ڈوبے۔
اسی کڑے وقت میں ڈھاکہ سے حاجی بشیر الدین کا مدد کا پیغام ملا۔ حالات خطرناک تھے، جان کا خطرہ تھا، مگر آپ نے دوستی کا حق ادا کیا۔ فوجی حکام سے رابطہ کیا، خطرات مول لیئے اور ڈھاکہ جا کر اپنے دوست کو بحفاظت وطن واپس لے آئے۔ یہ واقعہ آپ کی جرات اور وفاداری کی ایسی مثال ہے جو تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔
واپسی پر نئے حوصلے سے کاروبار کا آغاز کیا۔ چاول کی ملز کا ٹھیکہ لیا اور شفاف نظام متعارف کروایا۔ حیدری ایجنسی کے نام سے امپورٹ ایکسپورٹ کمپنی قائم کی اور لاہور کے لکشمی چوک تک کاروباری دائرہ وسیع کیا۔ آپ کی زندگی مسلسل جدوجہد کا استعارہ رہی—گر کر سنبھلنا، سنبھل کر چلنا اور چل کر دوسروں کو سہارا دینا۔
تعلیم کے میدان میں بھی آپ کی سوچ روشن تھی۔ اپنے بھائیوں اور بھتیجوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخل کروایا تاکہ آنے والی نسل مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہو۔ آپ جانتے تھے کہ سرمایہ ختم ہو سکتا ہے، مگر تعلیم وہ چراغ ہے جو نسلوں تک روشنی دیتا ہے۔
1977ء میں منڈی بہاؤالدین میں تعمیر ہونے والا آپ کا گھر محض اینٹوں اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہ تھا، بلکہ کشادہ دلی اور مہمان نوازی کی علامت تھا۔ آپ کی دور رس سوچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گھر کی تعمیر اس انداز سے کی گئی کہ اگر دو مخالف گروہ بھی بیک وقت مہمان بن جائیں تو کسی تصادم کا اندیشہ نہ رہے۔ یہ صرف تعمیراتی حکمت نہ تھی بلکہ امن پسندی کی علامت تھی۔
17 اگست 1988ء کو یہ چراغ بجھ گیا۔ دل کا دورہ پڑا اور عصر کی نماز کے بعد اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ منڈی بہاؤالدین کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے، مگر ان کی یادیں، ان کا کردار اور ان کی خوشبو آج بھی زندہ ہے۔
میاں محمد صدیق ایک فرد نہیں، ایک عہد تھے۔ وہ ثابت قدمی کی تصویر، وفاداری کا پیکر اور خدمت کا استعارہ تھے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں، اگر ارادہ مضبوط ہو تو انسان تقدیر کا دھارا موڑ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین۔ مرحوم کے فرزندِ سعادت مند کرنل ریٹائرڈ اشفاق احمد سے 40 سال کے بعد سی ٹی این فورم کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں ہمارے ہمدم و دم ساز مسعود علی خانے کروائی اور اس کے بعد اب ہر روز ملاقاتوں کے سلسلے جاری ہیں اور یادوں کے چراغ جل رہے ہیں ۔ مجھے میرے ماموں قاضی محمد صدیق لاہور لائے اور حیدری ایجنسی میں ہم ایک طویل عرصے تک میاں محمد صدیق مرحوم کے تجربات اور ان سے بہت کچھ سیکھا ۔ مرحوم ہم سب کے محسن تھے محسن دوسروں کے لیئے زندہ رہتا ہے شہید دوسروں کے لیئے جان دے دیتا ہے ان کی قربانیوں ان کا ایثار اور ان کی محبت کے آج بھی ہم مقروض ہیں ان کی یاد میں کوئی فلاحی ادارہ قائم کرنے کے لیئے ڈاکٹر اشفاق احمد کے ساتھ مل کر قائم کیا جائے گا ۔ مرحوم کو اپنے بھتیجوں سے بڑا پیار اور محبت تھی۔ ان کی اعلیٰ تعلیم کے لیئے

شہر میں ایک چراغ تھا نہ رہاایک روشن دماغ تھا نہ رہا

مٹھو سو رھا ھے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے