مٹھو سو رھا ھے
جمع تفریق۔۔۔ ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دین حق اسلام نے آ دم زادوں کو انسان بنانے اور انہیں حقوق انسانی کے صرف فارمولے نہیں سمجھائے بلکہ کتاب ضابطہ حیات دے کر احترام انسانیت اور خلق خدا کی بھلائی کا بھی درس دیا، ایک لاکھ 24 ہزار پیغمبر بھی اسی مقصد کے لیے آ ئے اور پھر آ قائے دو جہاں کی آ مد سے ٫٫ختم نبوت ،،کی مہر بھی ثبت کر دی گئی، آ قا نے ظلم و جبر اور بت پرستوں کے معاشرے میں خدائے بزرگ و برتر لا شریک کا راستہ دکھایا، علم و عمل سے قر آ ن مجید کی روشنی میں ایسی روایات قائم کیں کہ حوا کی بیٹی اور آ دم کا بیٹا جانوروں کی زندگی سے نکل کر احترام کے رشتے میں بندھ گیا، انہیں 40 سال اپنی عملی زندگی سے پیار و محبت، اخلاقی روایات اور تخلیق انسان کا فلسفہ سمجھایا بتایاکہ بتوں کی پرستش چھوڑو، اس ایک خدا کے سامنے جھک جاؤ جو جان و جہان کا حقیقی مالک ہے ،جس نے کسی کو کسی پر فوقیت نہیں دی ،بیٹا ہو کہ بیٹی، سب کے حقوق ہیں اور ان کی ادائیگی میں غفلت، کوتاہی، کمی اور ناانصافی کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ جو رحمان و رحیم اور مالک و خالق ہے وہ بھی نہیں معاف کرے گا ،اس دین حق اور ضابطہ حیات نے ٫٫حوا کی بیٹی،، کو ایسی عزت دے کر باعث رحمت قرار دیا کہ اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کے احترام میں حضور بھی ہمیشہ کھڑے ہو جاتے تھے ، یہ وہ زمانہ تھا جب بیٹی کو زندہ درگور کرنے کا رواج تھا لیکن دین حق نے جو حقوق عورت کو دئیے، وہ آ ج تک کسی مذہب اور معاشرے میں حاصل نہیں، پھر بھی حالات برسوں میں ایسے بدلے کہ مغرب کی ترقی میں ہمارے معاشرے کے مخصوص طبقے کی خواتین نے ٫٫میرا جسم میری مرضی ،،کا نعرہ لگا دیا حالانکہ مغربی معاشرے میں مردوں کے برابر ذمہ داری نبھانے کے باوجود عورت کا استحصال موجود ہے زیادہ محنت، کم تنخواہ؟ الحمدللہ ریاست پاکستان میں آ ئینی اور قانونی تحفظ کے ساتھ مذہبی اعلی انداز زندگی کا شیلٹر موجود ہے لیکن تعلیم کی کمی اور شیطان کے چیلے بسا اوقات ایسے کارنامے دکھاتے ہیں کہ انسانیت شرمندہ ہو جاتی ہے ،غیرت کے نام پر ٫٫حوا کی بیٹی ،،مسلسل جبر و ستم کا شکار ہے کیونکہ مردانہ معاشرے میں آ ج بھی دیہی اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں نہیں، پڑھے لکھے ترقی یافتہ خاندانوں میں بھی ٫٫اولاد نرینہ،، کا بڑا چرچا ہے اولاد کی تمنا کرنے والے بیٹا ہی مانگتے ہیں آ ج بھی بیٹی کو بوجھ ہی سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ تو اللہ کی دین ہے بار بار تاکید موجود ہے کہ بیٹی رحمت ہے لیکن ہم اسے زحمت ہی قرار دیتے ہیں ایک سے زیادہ بیٹیاں ہو جائیں تو ازدواجی زندگی میں جنگ چھڑ جاتی ہے جبکہ سائنس نے یہ راز بھی فاش کر دیا ہے کہ بیٹی کی پیدائش کا سبب بیوی سے زیادہ شوہر ہی ہوتا ہے پھر بھی طعنہ بیوی کو دیا جاتا ہے حالانکہ میں حلفا یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ میں نے سات بیٹیوں والوں کو خوشحال اور پرسکون دیکھا ہے کیونکہ وہ مالک کی رضا پر راضی ہوتے ہیں جبکہ جانشین اور اولاد نرینہ کے خواہش مندوں کو اکثر پریشان پایا ،مطلب صرف اتنا ہے کہ لڑکی ہو کہ لڑکا اصل مالک تو وہی ہے ٫٫ہم اور آ پ،، تو صرف کیئر ٹیکر ہیں، ہم ہی انہیں سنوارتے ہیں اور ہم ہی بگاڑ کا باعث ہیں کیونکہ ہم دونوں کی تربیت یکساں انداز میں نہیں کرتے، بیٹیاں باپ کی طرف زیادہ مائل ہوتیں ہیں اور بیٹے سے ماں خصوصی پیار و محبت کرتی ہے فرق یہی ہے کہ بیٹی اگر کسی کام میں تاخیر کر دیے تو سب سے پہلے ماں اسے وہ سناتی ہے کہ ہفتے بھر اس کا بخار نہیں اترتا لیکن بیٹا اگر دس آ وازوں پر بھی نہ آ ئے تو ماں جی فرماتیں ہیں ٫٫مٹھو سو رہا ہے،، بیچارا بڑی محنت کرتا ہے رات بھر کمپیوٹر پر نہ جانے کتنا کام کیا ہے، اسے کوئی نہ جگا ئے، مٹھو اگر سو رہا ہے تو اسے دو گھڑی سو لینے دو، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بچوں کے بگاڑ میں بھی ہاتھ حوا کی بیٹی ہی کا ہوتا ہے
ٹو ٹو میاں آ ف موچی دروازہ سے یہی سوال پوچھا ایسا کیوں ہے؟ مسکرا کر بولے ٫٫ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں اسلام کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا لیکن ہم سب اسلامی اصولوں پر کاربند نہیں دراصل ہم نے کلمہ پڑھا ،اللہ اور اسلام کے نام پر جان نچھاور کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن تضاد بیانی یہ ہے کہ ہم کسی نہ کسی بہانے سے اللہ اور رسول کی نہیں مانتے، ہم شہری بچیوں کو اعلی تعلیم دلاتے ہیں اپنا اور حکومت کا خطیر سرمایہ انہیں ڈاکٹر، انجینیئر بنانے پر لگا دیتے ہیں لیکن ملازمت نہیں کرنے دیتے کہ ٫٫زمانہ خراب ہے،، لوگ کیا کہیں گے بچیوں کی کمائی کھاتے ہیں ؟؟؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے دو ہمسائے نہ صرف اسلامی ممالک ہیں بلکہ دونوں جگہ اسلامی انقلاب بھی موجود ہے ایک ملک میں حجاب کے ساتھ خواتین کو برابری کی سطح پر تحفظ ہی نہیں، ہر شعبہ جات میں خدمات کے مواقع بھی موجود ہیں دوسرے میں بچیوں کی تعلیم پر پابندی ،روزگار کے مواقع نہیں لیکن ٹوپی والے برقعے میں بھیک مانگنے پر پابندی نہیں بلکہ ان بھکاری عورتوں اور لڑکیوں کے لیے برقعہ بھی خصوصی نیلے کا مخصوص کر دیا گیا ہے انہیں کون سمجھائے کہ اسلام خواتین کی تعلیم و تربیت کی یکساں اجازت دیتا ہے، دونوں ریاستوں میں اسلام اور اسلامی انقلاب ہے لیکن حالات یکسر مختلف ہیں جہاں حجاب میں تعلیم و تربیت ہے وہاں یہ خواتین قومی اور عالمی سطح پر اپنی حدود میں رہتے ہوئے ایسے ایسے کارنامے انجام دے رہی ہیں کہ مرد بھی ان سے شرماتے ہیں اور جہاں نہ تعلیم نہ تربیت، وہاں حوا کی بیٹی کو بوجھ اور زحمت اس قدر سمجھا جاتا ہے کہ حکومت نے ان کی خرید و فروخت ٫٫لونڈی،، کے نام






