#کالم

“کس کے گھر جائے گا سیلابِ بلا میرے بعد”

new desing hjk

افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق

تاریخ کا مطالعہ اس تلخ حقیقت کا انکشاف کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی قسمت میں شاید ازل سے ہی جنگ و جدل ، خون ، بارود اور دھواں لکھا ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل نے جس نیت سے بھی ایران کو ہدف بنایا ، یہ بات دنیا کے بیشتر ممالک کے علم میں آ چکی ہے کہ ایران دونوں حملہ آوروں کے لیے اب تک لقمۂ تر ثابت نہیں ہوا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ کیا امریکہ کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ خلیجِ فارس سے لے کر بحیرۂ احمر و روم تک تمام امریکی حلیف ایران کے تباہ کن ہتھیاروں کی پہنچ میں ہوں گے ۔ اگر دونوں حملہ آوروں کو علم تھا تو یہ سوال کئی سنگین سوالوں کو جنم دیتا ہے جن کے جواب کا اب تک دنیا کو رفتہ رفتہ علم ہونے لگا ہے ۔ امریکی اور اسرائیلی حکومتوں کی اپنے ممالک میں مقبولیت کا گراف گرنے سے قطع نظر ہمیں اس جنگ کے کچھ مزید ہولناک نتائج پر غور کرنا چاہیئے اور دعا بھی کرنی چاہئیے کہ امریکہ کے خلیجی اتحادی مل کر ٹرمپ پر سیاسی و اخلاقی دباؤ ڈالیں کہ متذکرہ ممکنہ نتائج کا اولین نشانہ یہی ریاستیں بنیں گی ۔
جنگیں ہمیشہ تباہی لاتی ہیں اور جن پرامن مقاصد کے حصول کے لیے یہ لڑی جاتی ہیں ، تاریخِ عالم گواہ ہے ، وہ شاید دس پندرہ فیصد بھی حاصل نہیں ہوتے ۔اس کے باوجود عالمی عسکری طاقتیں یہ اہم سبق سیکھنے کو نجانے کیوں تیار نہیں ہوتیں ۔ ایران کی جنگ سے جو معاشی تباہی ہوگی اس پر بیشتر ٹی وی چینلز اور تجزیہ کار مفصل تجزیے پیش کر رہے ہیں ۔ ایران کے جوہری ہتھیاروں کی بابت عالمی جوہری ادارے IAEA نے توثیق کر دی ہے کہ اس کے پاس ان ہتھیاروں کو مزید تباہ کن بنانے کے کوئی ثبوت نہیں ملے لیکن پھر بھی دونوں حملہ آور
“ زمیں جنبد نہ جنبد حملہ آور “
کی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔ اب آتے ہیں اس جنگ کے ایک خطرناک ترین نتیجے کی طرف ۔ اگر ایران کی جوہری تنصیبات پر پیہم حملے کیے جاتے ہیں تو ان تنصیبات سے انتہائی تباہ کن شعاعوں کے اخراج کا قریباً نہ رکنے والا عمل شروع ہو سکتا ہے ۔ یہ شعاعیں پھر صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گی اور نہ کوئی روک پائے گا ۔ اس کے برعکس یہ پورے خطے میں پھیلتی چلی جائیں گی اور سب سے پہلے ایران کے ہمسایہ اور قریبی ممالک ان کی لپیٹ میں آ ئیں گے یعنی خاکم بدہن پاکستان ، عراق، ترکی اور افغانستان اولین ترین ہدف بنیں گے۔ اس امر پر بھی شدید حیرت ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ترین ملک کو اس خدشے کا ادراک نہیں ۔ یہ سوال الگ دماغ کو چکراتا ہے کہ کیا تمام عرب ممالک بھی اس بنیادی نکتے سے آگاہ نہیں ہیں ۔ اگر انھیں ذرہ برابر بھی اس بابت آگہی ہوتی تو اب تک یہ متحد ہو کر اس جنگ کو رکوانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے تھے لیکن لگتا ہے ان ریاستوں تک اس شعور کی ترسیل نہیں ہونے دی جا رہی ۔ انسانی صحت اور دیگر تمام جان داروں کے لیے یہی شعاعیں بتدریج مہلک ہونے کی صلاحیت تو رکھتی ہی ہیں ، ان سے انسانی خلیوں میں وہ تبدیلیاں / میوٹیشن آتی ہیں جن سے کینسر کا امکان کہیں زیادہ بڑھنا سائنسی طور پر مسلّمہ ہے ۔
کاش تمام اہلِ شعور و قلمُ آگہی اور بیداری کی عالمی مہم چلائیں کہ یہ جنگ انسانی صحت اور انسانیت کے لیے خطرے کی بہت بلند آواز کی حامل گھنٹی ہے جسے سن کر سر جھٹکنا مجرمانہ غفلت کے مترادف ہوگا ۔ اگر خدانخواستہ یہ سلسلہ چل نکلا تو تیل اور تمام اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے ساتھ کینسر کے علاج کی دواساز کمپنیوں کی گویا لاٹری ہی نکل آئے گی اور یہ ادارے پہلے بھی خاصی مشکوک شہرت کے حامل ہیں ۔ پاکستان جیسے ممالک جو ابھی معاشی طور پر بحالی کے سفر کا آغاز کرنے ہی لگے ہیں ، ان کی معیشت پر ایسا اضافی بوجھ کتنے نئے مسائل کو جنم دے گا ، یہ سوال ایک عفریت کی صورت ابھی سے ماہرینِ سیاسیات ، معاشیات و طب کو پریشان کرنے لگا ہے ۔انھی معاشی مسائل کے اثرات کا دائرہ بہرطور امریکہ سمیت مغربی ممالک تک پھیلنے کے امکان کو کون ذی شعور رد کر سکتا ہے ۔ دعا ہے تمام جارحیت آمادہ ممالک انسانیت کی بقا کی خاطر فوری طور پر مشرقِ وُسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے راضی ہو جائیں کہ اسی خطے میں یہودیت ، عیسائیت اور اسلام کے مقدس ترین مقامات واقع ہیں اور تینوں ادیان فساد فی الارض کی تعلیم نہیں دیتے ۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے