"ایسے کیسے سے اچھا جی تک”حب الوطنی کے جذبے سے سرشار رضا کار ۔۔۔
جہاں روایتی اور مروجہ جنگی اسلوب بدل چکے ، جہاں اب جنگ کے میدان جدید گیجیٹس میں تبدیل ہو چکے ہیں وہیں بحیثیتِ صحافی میں سمجھتا ہوں کہ اب روایتی خبرنگاری ، شورو غوغا اور ماسز بھی بدل چکے ہیں ، صحافت اخبار سے ریڈیو اور ٹیلیویژن سے اب ایک ڈیوائس یعنی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے مزین ہو چکی ہے ۔ اب اگر آپ نے خبریت یا پیغام رسانی کا کام کرنا ہے تو آپ کو جدید گیجیٹس کے ساتھ ساتھ اپنی شخصی تربیت بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگی ورنہ آپ کھیل کا حصہ نہیں رہیں گے ۔ اور بالخصوص اگر آپ کا مقابلہ بھارت جیسے مکار دشمن سے ہو جو ملکی سرحدوں سے نظریاتی سرحدوں تک آپ کو نیچا دکھانے کیلئے ہر حد تک جا سکتا ہے تو پھر یہ بہت ضروری ہے کہ پاکستان کا نوجوان حالات و واقعات کے تناظر میں خود کو بدلے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم جسے جدید جنگی میدان بھی کہا جا سکتا ہے اس میں مہارت حاصل کرے اور دشمن کو ناک آؤٹ کرے۔ بالخصوص یقیناً اب دنیا جدید ٹیکنالوجی اور بالخصوص ڈیجیٹل میدان میں بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ اب ترقی اور تعلیم کا معیار بھی اسی سے منسوب ہے ۔
آئی ٹی سے اے آئی کا سفر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب آپ کو اس میدان میں ہی اگے بڑھنا ہوگا اگر کوئی ملک اس مقابلے میں پیچھے رہ گیا تو وہ دنیا کے ہم پلّہ نہیں ہو سکتا۔
الحمدللہ پاکستان کا نوجوان جہاں دنیا کے ہر میدان میں اپنا لوہا منوا رہا یے وہیں آئی ٹی اور اب اے آئی کے تقاضوں سے بھی ہم کنار ہوکر منفرد انداز میں دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھا چکا ہے۔
اس کی روشن مثال ہم نے گزشتہ سال مئی میں پاک بھارت ٹاکرے میں دیکھی جہاں پاکستان نے بقول ٹرمپ
11 صفر کی برتری سے میدان مارا وہیں ہمارے آئی ٹی ایکسپرٹ نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن اور آئی ٹی ٹیکنالوجی میں دنیا پر راج کرنے والے بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیے ۔ بھارت کا ریل ، بجلی ، بینکنگ سسٹم ہیک کر لیا اور یوں بھارت بے بسی کی تصویر بنا رہا ۔
سب سے اہم اور توجہ طلب موقع وہ تھا جب ہمارے نوجوانوں نے وزیر اطلاعات و نشریات جناب عطاء اللہ تارڑ اور بدر شہباز وڑائچ جیسے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار لیڈر کی سربراہی میں بھارت کے ٹیلیویژن چینلز پر پاکستان کا قومی ترانہ بجا دیا ۔ اور دشمن کی سکرینوں پر پاکستان ذندہ باد کے نعرے لگنے لگے ۔ یہ وہ قابلِ تحسین اور ناقابل فراموش لمحات تھے جنہیں صدیوں یاد رکھا جائے گا۔ دنیا میں جنگ کے بعد پاکستان کا مقام اور مرتبہ بلد ہوا وہیں ہمارے آئی ٹی ماہرین کی کارکردگی بھی ذیر بحث ہے اور دنیا بھر میں ہمارے نوجوان اس معرکہ حق کے بعد سر اٹھا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔
یقیناً پاک بھارت جنگ میں وہ ناقابلِ فراموش واقعات بہادری اور دلیری کا ایسا قصہ بن گئے جن کی بازگشت صدیوں تک سنائی دیتی رہے گی۔ ہمارے مسلح افواج کے بہادر سپوتوں نے دشمن کے تمام عزائم خاک میں ملائے اور دنیا میں جنگ کی نئی اصطلاحات متعارف کرا دیں۔ وہیں ایک میدان ایسا تھا اگر جس کا تذکرہ نہ کیا جائے تو فتح مکمل نہیں ہوتی وہ میدان نظریاتی سرحدوں کا میدان ہے۔ جہاں میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہمارے نوجوان ماہرین نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے اور سوشل میڈیا کی اعصابی جنگ میں بھی فتح حاصل کی ۔ یہ دور جدید کا وہ نفسیاتی حربہ ہے جو بڑی سے بڑی طاقت کو بھی نہ صرف پریشان کر دیتا ہے بلکہ تذبذب کا شکار کر دیتا یے۔ہمارے سوشل میڈیا ایکسپرٹس اور بالخصوص وفاقی حکومت کی سوشل میڈیا ٹیم نے لمحہ بہ لمحہ اپنی نفسیاتی برتری ثابت کر کے بھارت کی اربوں کھربوں کی وسائل سے مالا مال سوشل میڈیا انڈسٹری کو نہ صرف کھوکھلا پروپیگنڈا کرنے والی جھوٹ پر مبنی بیانیہ بنانے انڈسٹری ثابت کیا بلکہ فیکٹ چیک کے ذریعے ہر معاملے کی حقیقت دنیا کے سامنے رکھی۔ یہ وہ ٹولز ہیں جو اسلحے سے بڑھ کر دشمن کو چور پہنچاتے ہیں ۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو ہمیں تو بیرونی دشمن کے ساتھ ساتھ اندرونی دشمن کو سیاست کا لبادہ اوڑھ کر ملک میں انتشار اور جھوٹ پھیلا رہا ہے اس کا بھی سامنا ہے ۔ میری مراد ہی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سے یے جو ہر حال میں ملک کو نقصان پہنچانے کے در پر رہتا ہے۔ یہ انتشاری ٹولہ اور اس کے ہینڈلرز جھوٹ اور دھوکا دہی سے سادہ لوح پاکستانیوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ ان انتشاریوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان میں سیاسی ، معاشی اور معاشرتی عدم استحکام پیدا ہو اور ان کا سودا بکتا رہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان انتشاریوں کی تربیت سرکاری وسائل اور سرپرستی میں ہوئی ہے اور اب بھی ایک صوبہ خیبرپختونخواہ کی حکومت اس جھوٹ کی فیکٹری کی سرپرستی کر رہی ہے اور دن رات پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے میں معاون کردار ادا کر رہی ہے۔ اس جھوٹ کی فیکٹری یا کلٹ کو یہ ٹارگیٹ دیا گیا ہے کہ وہ ہر حال میں جھوٹ پھیلا کر پاکستان کو نقصان پہنچانے اور عوام کو گمراہ کرے تاکہ ان کے پاکستان مخالف مزموم مقاصد پورے ہو سکیں ۔ ایسے میں یہ بہت ضروری تھا کہ اس جھوٹ کو کاؤنٹر کیا جائے اور حقائق کو سامنے رکھ کر لوگوں تک صحیح اور مستند معلومات پہنچائی جائیں ۔ بالخصوص افغانستان کی بزدلانہ کارروائیوں اور احسان فراموشی کے بعد ان جھوٹ کی فیکٹریوں اور پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے عوام کو گمراہ کرنے اور من گھڑت طریقے سے حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اور اے آئی سے بنائی گئی ویڈیوز سے یہ تک دکھا دیا گیا کہ خدا نخواستہ افغانستان نے خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں پر کنٹرول تک کر لیا ہے۔ایسے میں چند نوجوان رضاکار اٹھے






